مرزا غالب اور فلم انڈسٹری

 ذوالفقار علی زلفی

اردو زبان کے شاعروں میں مرزا غالب غالباً وہ واحد شخصیت ہیں جن کے اشعار اور زندگی میں سب سے زیادہ دلچسپی لی گئی. ناقدین کے مطابق غالب کی شعری قوت اس قدر زیادہ ہے کہ ان کو پڑھنے والا بے اختیار خود کو ان کے ساتھ منسلک کر لیتا ہے. اردو زبان کے مایہ ناز افسانہ نگار سعادت حسن منٹو بھی ایک ایسے ہی متاثرینِ غالب ہیں.

یہ منٹو ہی تھے جن کو سب سے پہلے غالب پر فلم بنانے کا خیال آیا. وہ 1941 کا نوآبادیاتی دور تھا. منٹو آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھے. انہوں نے غالب پر لکھی گئیں کتابوں کو یک جا کر کے من چاہا غالب برآمد کرنے کے منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا. ان کا غالب ایک خط کے فقرے میں مل گیا. “ستم پیشہ ڈومنی” اور “دشمن کوتوال” جیسے الفاظ نے منٹو کے تخلیقی ذہن کو مہمیز دے کر ایک ایسے غالب کو پیدا کردیا جس نے تاحال اپنا عبوری اثر برقرار رکھا ہے. 


“ستم پیشہ ڈومنی” اور “دشمن کوتوال” کے کرداروں کو لے کر منٹو نے غالب کو اپنے مخصوص رنگ میں تخلیق کر ڈالا. قیاس ہے یہ کہانی 1942 کو صفحہِ قرطاس پر نمودار ہو چکی تھی. اس دوران منٹو بھی فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے. منٹو نے چند سالوں بعد فلم سازوں کو اس کہانی پر فلم بنانے کی درخواستیں دینی شروع کر دیں مگر انہیں ناکامی اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا. فلمسازوں کے لیے کالی داس اور ٹیگور آشنا تھے مگر وہ پوچھتے تھے کہ “غالب کون ہے؟”.

کوئی راستہ نہ پا کر منٹو نے فلمی اسکرپٹ کو طاق میں رکھ کر اس پر فلم بنانے سے توبہ کر لی. تقسیمِ ہند کے بعد منٹو پاکستان چلے گئے، یوں فلم کا خواب قریب قریب ٹوٹ گیا.

پچاس کی دہائی کے اوائل میں ہندی سینما کے نابغہِ روزگار ہدایت کار اور تاریخی فلموں کے ماہر سہراب مودی کے ہاتھ منٹو کی غالب لگی. انہوں نے باریکی سے اسکرپٹ پڑھنے کے بعد اسے فلمانے کا اعلان کر دیا. سوال ہنوز موجود تھا “غالب کون ہے؟”. سہراب مودی نے اس سوال کا جواب غالب کے ہی انداز میں دینے کا فیصلہ کیا، “کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا”.

انہوں نے کہانی جے.کے نندا کے حوالے کر کے اسے مزید فلمی بنانے کی ہدایت دی. جے.کے نندا نے منٹو کے ساتھ چھیڑچھاڑ کر کے اسے مزید نکھار کر سہراب مودی کو تھما دیا. سہراب مودی جانتے تھے کہ یہ اردو کا معاملہ ہے اور وہ بھی اردو کے ایک عظیم شاعر کا، سو رسک لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا. انہوں نے اردو زبان کے ایک اور صاحبِ طرز افسانہ نگار راجندرسنگھ بیدی کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کر کے بیدی کو اس زمانے کی دہلوی اردو کے مکالمے لکھنے کی ذمہ داری سونپ دی. راجندر سنگھ بیدی نے ایسے ادبی مکالمے لکھے کہ سن کر دل عش عش کر اٹھتا ہے.

اب مسئلہ تھا اداکاروں، گلوکاروں اور موسیقی کا. مودی نے غالب کے کردار کے لیے بھارت بھوشن کا انتخاب کیا. بھارت بھوشن تاریخی کرداروں کی ادائیگی میں یکتا تھے. یوں سمجھ لیں وہ اس زمانے کے نصیرالدین شاہ تھے. “ستم پیشہ ڈومنی” اب شاعر دوست طوائف بن چکی تھی اس کردار کے لیے ملکہِ ترنم ثریا منتخب کی گئیں. ثریا کی اداکاری و گلوکاری کو اس زمانے میں فلم کی کامیابی کی سند مانا جاتا تھا. غالب کی بیوی کے کردار کے لیے پرکشش نگار سلطانہ اور “دشمن کوتوال” کا کردار باصلاحیت الہاس کے حصے میں آیا. موسیقی کی ذمہ داری استادوں کے استاد غلام محمد کو تفویض کی گئی.

اس ٹیم نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے منٹو کے غالب کو “مرزا غالب” کے نام سے 1954 کو سینما اسکرین پر پیش کرنے کے لیے تیار کر دیا. ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں کے مصداق انڈین سینسر بورڈ نے فلم کو فحش قرار دے کر سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا. سینسر بورڈ کے مطابق ثریا کا لباس فلم بینوں میں جنسی رغبت پیدا کر سکتا ہے کیونکہ اس لباس میں ان کے جسم کے خطوط نمایاں ہیں. سہراب مودی فریاد لے کر وزارت اطلاعات پہنچے. وزیرِ اطلاعات بھی پہنچے ہوئے “پرہیز گار” نکلے. انہوں نے سینسر بورڈ کی حمایت کر کے فلم ٹیم کو “قابلِ اعتراض” مناظر سینسر کرنے کی ہدایت کر دی. قریب تھا سہراب مودی یہ حکم تسلیم کر لیتے مگر ثریا نے انہیں جواہر لعل نہرو سے بات کرنے کا مشورہ دے کر سر تسلیمِ خم کرنے سے روک دیا.

فلمی ٹیم، پنڈت نہرو کے پاس پہنچی. نہرو نے ان کی گزارشات سن کر فلم دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا. ایک خصوصی شو کے ذریعے نہرو کو فلم دکھانے کا اہتمام کیا گیا. فلم دیکھنے کے بعد جواہر لعل نہرو نے ثریا کی جانب ستائشی نظروں سے دیکھ کر کہا “ثریا نے مرزا غالب کو ایک بار پھر ہماری زندگی میں شامل کر دیا”. انہوں نے مرزا غالب کو اسکرین پر دکھانے کی اجازت دے دی

“مرزا غالب” ایک بلاک بسٹر فلم ثابت ہوئی. غالب کی غزلوں کو غلام محمد نے جہاں لازوال دھنوں سے نوازا وہاں ثریا نے انہیں وہ آواز دی کہ بقول غالب “دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی”. اداکاری، موسیقی اور سینماٹوگرافی ہر لحاظ سے شاندار ہے. اس فلم کے بعد کسی نے نہ پوچھا “غالب کون ہے؟”. غالب برصغیر کے ہر گھر میں فروکش ہو چکے تھے. ان کی غزلیں ثریا کی وساطت سے ہر کان میں رس گھول کر معنی و مفہوم کے مختلف در کھول رہی تھیں. منٹو کا خواب حقیقت بن چکا تھا.

سہراب مودی کی “مرزا غالب” سے متاثر ہو کر پاکستانی ہدایت کار عطااللہ شاہ ہاشمی نے لالا سدھیر اور نورجہاں کو لے کر 1961 کو “غالب” پیش کر دی. یہ فلم ہر لحاظ سے بدترین کی سند دیے جانے کے قابل ہے. نورجہاں گائیکی کے میدان میں ثریا کی گرد کو پانے میں بھی ناکام رہیں البتہ نورجہاں کی گائی ہوئی ایک غزل “مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے” کسی حد تک عوام کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی.

اس ساری صورت حال کو اردو زبان کے ایک سوشلسٹ ادیب بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے. انہوں نے مرزا غالب کے اس فرضی داستان کی جگہ ایک حقیقی اور معتبر مرزا غالب کو سینما اسکرین پر دکھانے کا بیڑہ اٹھایا. وہ ادیب تھے کیفی اعظمی.

ساٹھ کی دہائی کے وسط میں کیفی اعظمی نے بھی منٹو کی طرح غالب پر تحقیق کرنے کے لیے کتابوں کے انبار لگا دیے. مہینوں کی شبانہ روز محنت کے بعد وہ غالب کی زندگی پر اسکرپٹ لکھنے میں کامیاب ہوگئے، تاہم انہوں نے “ستم پیشہ ڈومنی” اور “دشمن کوتوال” جیسے فقروں سے خود کو بچائے رکھا.

کہانی لکھنے کے بعد انہوں نے متعدد مؤرخین و ناقدین کو اس کی کاپی بھیجی تانکہ غلطی کے امکان کو کم سے کم رکھا جا سکے. ہر طرف سے مطمئن ہونے کے بعد انہوں نے ہدایت کار سکھ دیو سے اسے فلمانے کی خواہش کا اظہار کیا. سکھ دیو نے اس درخواست کو بخوشی قبول کر لیا مگر مسئلہ سرمائے کا تھا. کوئی بھی فلمساز ادارہ رسک لینے کو تیار نہ تھا. کیفی اعظمی منٹو کی طرح ہار ماننے کی بجائے ڈٹے رہے.

1969 کو کیفی اعظمی اداکاروں کے انتخاب کی حد تک کامیاب ہوگئے. انہوں نے مرزا غالب کے کردار کے لیے اشوک کمار، ان کی بیوی کے لیے مینا کماری اور ڈومنی کے کردار کے لیے ممتاز کو چنا. موسیقی کے لیے لیجنڈ فن کار مدن موہن کی خدمات حاصل کی گئیں. اس انتخاب کے باوجود اونٹ کسی کروٹ نہ بیٹھ سکا. چند سالوں بعد امیتابھ بچن کی والدہ کی درخواست پر غالب کے کردار کے لیے امیتابھ بچن زیرِ غور آئے. ہدایت کار سکھ دیو ان کے لمبے قد کو لے کر گومگو کا شکار تھے مگر کیفی اعظمی نے انہیں یہ کہہ کر اطمینان دلایا کہ غالب ہمیشہ اپنے دراز قد ہونے پر فخر کرتے تھے. اشوک کمار کی جگہ امیتابھ بچن آ گئے. اس دوران بلراج ساہنی بھی اس کردار کے لیے زیرِ غور آئے. تقریباً تمام سوشلسٹ ادبا غالب پر فلم بنانے کے لیے پرجوش تھے مگر فلم سرمائے کی محتاج ہے؛ اور سوشلسٹ و سرمائے کی کبھی نہ بنی!!.

کیفی اعظمی ہزار کوششوں کے باوجود فلم بنانے میں مکمل طور پر ناکام رہے. ان کی بیٹی شبانہ اعظمی کے مطابق ان کے والد کا لکھا ہوا اسکرپٹ بھی فلم انڈسٹری کی دھول میں کہیں کھوگیا.

اسّی کی دہائی کے اوائل میں ایک اور ادیب غالب کا پرچم لہراتے ہوئے آئے. انہوں نے منٹو اور کیفی اعظمی کو ملا کر اس میں خود بھی رنگ آمیزی کر کے 1988 کو “مرزا غالب” ڈرامہ سیریل بنا کر دور درشن ٹی وی پر پیش کر دیا.

یہ تھے گلزار. گلزار نے مہینوں کی عرق ریزی کے بعد غالب کی زندگی پر اسکرپٹ تیار کر دیا. گلزار چوں کہ بمل رائے جیسے ذہین ہدایت کار کے شاگردوں میں رہے ہیں، اس لیے انہوں نے خود ہی اسے ہدایات دینے کا فیصلہ کیا. انہوں نے سب سے پہلے سہراب مودی کی فلم “مرزا غالب” کا عمیق مشاہدہ کیا تانکہ فنکاروں کی ٹیم بنانے میں کسی فاش غلطی کا امکان نہ رہے. کافی سوچ و بچار کے بعد انہوں نے نصیرالدین شاہ کو مرزا غالب کا کردار دے دیا. ان کی بیوی کے کردار کے لیے تنوی اعظمی (کیفی اعظمی کی بہو) اور طوائف کے لیے نینا گپتا چن لیے گئے.

اب مسئلہ موسیقی کا تھا. غلام محمد جیسے استاد موسیقار کا متبادل تو خیر دستیاب نہ تھا لیکن ایک ایسے موسیقار کی اشد ضرورت تھی جو کم از کم غلام محمد کے قریب پہنچ سکے. بالآخر قرعہ فال جگجیت سنگھ کے نام نکلا. جگجیت سنگھ اس وقت زیادہ معروف نہ تھے لیکن باریک بین گلزار نے ان میں چھپی صلاحیت کو بھانپ لیا تھا.

1988 کو ڈرامہ سیریل ٹی وی پر پیش کر دی گئی. گلزار کی محنت بر لائی. ڈرامہ کو ہر طبقے و عمر کے لوگوں نے سراہا. جگجیت سنگھ کی موسیقی و آواز اور چترا سنگھ کی نغمگی نے 1954 کی طرح ایک بار پھر گلی کوچوں کو مہکا دیا. بس کمی تھی تو ثریا کی.

نصیرالدین شاہ نے غالب کی وہ اداکاری کی کہ لوگ ان کو سچ مچ کا غالب سمجھنے لگے. نصیر نے واقعی میں غالب کو زندہ کر دیا.

اب کوئی بھی نہیں پوچھتا “غالب کون ہے؟”. ہو سکتا ہے مستقبل میں کوئی اور دیوانہ مرزا غالب کو کسی اور رنگ میں پیش کرے. آخر کو غالب “صریر خامہ نوائے سروش” ہے، بھلا اس کے سحر سے کون بچ پایا ہے.


جدید تر اس سے پرانی