گیم آف تھرونز ـــ کیا سکھاتی ہے؟

ذوالفقار علی زلفی

امریکی ڈرامہ سیریل “گیم آف تھرونز” اب بظاہر اپنے اختتام تک پہنچ چکی ہے ـ مختلف ناقدین اس کے اسکرین پلے کے مختلف پہلوؤں پر ماہرانہ بحث کر رہے ہیں ـ جیسے ڈریگنز، وائٹ واکرز، نائٹ کنگز وغیرہ جیسے اساطیری کرداروں کی سماجی و تاریخی اہمیت، حصولِ اقتدار کی کشمکش، معروضی حالات کی مناسبت سے بدلتی انسانی نفسیات، وغیرہ ـ

مارکسی ناقدین اس سیریز کو طبقاتی کشمکش کی عینک سے دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا یہ اعتراض بجا نظر آتا ہے کہ اس سیریز کو کاملاً بالائی طبقے کے مفادات کے گرد بنایا گیا ہے جس میں محنت کش اور کسان کے کردار کو مجرمانہ طور پر نظرانداز کیا گیا ہے ـ مارکس وادیوں کے مطابق اس سیریز کو دنیا پر قائم امریکی ثقافتی بالادستی کے درست ہونے کے پروپیگنڈے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے ـ


بعض ادبی ناقدین اسکرین پلے میں معنی کے التوا، افتراقات اور حاشیوں پر غور و فکر کر کے نئے نئے پہلو سامنے لا رہے ہیں ـ الغرض یہ سیریل ایک زبردست علمی بحث بن چکی ہے ـ

ان سب کی اہمیت کے باوجود مجھے سیریز کی کچھ اور چیزیں بار بار اپنی جانب متوجہ کررہی ہیں ـ مثلاً :

شمالی خطے کی منظر کشی کے لیے سفید رنگ کا استعمال کر کے ایک بہت بڑے خطے کو مصنوعی برفستان میں کچھ اس طرح تبدیل کیا گیا ہے کہ گمان گزرتا ہے ناظر انٹارکٹیکا کو دیکھ رہا ہے ـ یہ ایک شاہکار تخلیق ہے ـ گویا سعودی عرب کے ریگستان کو ایک ماہر ہدایت کار جب چاہے سوئٹزر لینڈ بنا سکتا ہے ـ سینما کے طالب علموں بالخصوص سیٹ ڈیزائننگ کے شعبے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اس میں سیکھنے کو بہت کچھ ہے ـ

دوسری چیز ہے کاسٹیوم ـ ہر ریاست کی فوج ایک منفرد کاسٹیوم رکھتی ہے ـ اس کے علاوہ نائٹ واچ، وحشی قبائل، انسالیڈ، وائٹ واکرز، دوٹراکی وغیرہ کے کاسٹیوم بالکل ہی جدا ہیں ـ حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کے کاسٹیوم بھی حالات کی مناسبت سے بدلتے رہتے ہیں ـ ہدایت کار نے کاسٹیومز پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے ناظرین کو انتشار کی جانب بڑھنے سے روکنے کی کامیاب کوشش کی ہے ـ

تیسری چیز جو مجھے دلچسپ لگی وہ ہے کیمرے کے بدلتے زاویے ـ لانگ شاٹ، ایکسٹریم لانگ شاٹ، میڈیم لانگ شاٹ اور کلوز اپ اتنی عمدگی سے لیے گئے ہیں کہ آدھی کہانی صرف زاویوں کے ذریعے بیان کی گئی ہے ـ ریل اور کرین کے استعمال کی نفاست زیادہ حیرت انگیز ہے ـ بلاشبہ طلبا کے لیے یہ بھی علم و ہنر کا خزانہ ہے ـ

کمپیوٹر گرافکس اور سبز پردے کے استعمال میں مہارت ثابت ہے مگر وائے افسوس اس شعبے میں میری معلومات شرم ناک حد تک ناقص ہے ـ بس واہ ہی کر سکتا ہوں، سیکھنے سے قاصر ہوں ـ البتہ ایڈیٹنگ کا شعبہ کافی رہنمائی کرتا ہے ـ

گیم آف تھرونز کے اسکرین پلے کے سحر سے نکلنے کے بعد سینما کے طالب علموں کو ان چیزوں پر بھی توجہ دینی چاہیے ـ

جدید تر اس سے پرانی

Archive