ہندی سینما: نئی صدی کی دوسری دہائی میں سیاسی سینسر شپ

 ذوالفقار علی زلفی

نئی صدی کی دوسری دہائی میں بھی ہندی سینما پر سیاسی دباؤ برقرار رہا بلکہ ایسا کہنا بہتر ہو گا دباؤ کی شدت میں دو گنا اضافہ ہوا ـ اس دہائی میں بھی متعدد سیاسی، سماجی اور مذہبی گروہوں نے اپنے گروہی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے سینما پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر کے اپنے نکتہِ نظر کو فلمی پیشکشوں کا حصہ بنایا ـ 

اس دہائی میں پہلا تیر ہدایت کار کرن جوہر کی فلم “مائی نیم از خان” پر پھینکا گیا ـ 2010 کی یہ فلم مسلمانوں کو دہشت گرد تصور کرنے کے پروپیگنڈے کا رد پیش کرتی ہے ـ فلم کی تھیم میں چونکہ ایسا کچھ نہ تھا جسے متنازع بنایا جا سکے اس لیے اوائل میں ہندو قوم پرست تنظیمیں نہ چاہتے ہوئے بھی خاموش رہیں مگر سینما پر نمائش کے دوسرے ہفتے فلم اچانک طوفان کی زد میں آ گئی ـ بظاہر وجہ بنے فلم کے مرکزی اداکار شاہ رخ خان ـ

اس دور میں بعض سخت گیر قوم پرست تنظیموں نے حکم لگایا کہ انڈین پریمیئر لیگ میں شامل کرکٹ ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ کھلائیں ـ اداکار شاہ رخ خان جو خود “کلکتہ نائٹ رائڈرز” نامی ٹیم کے مالک تھے نے اس موقف کو تنگ نظری پر محمول کر کے مسترد کر دیا ـ شاہ رخ خان کا استرداد ان کے لیے مہنگا ثابت ہوا ـ شیو سینا نے فوراً بزورِ طاقت ممبئی سمیت مہاراشٹر کے دیگر شہروں میں “مائی نیم از خان” کی سینماؤں پر نمائش رکوا دی ـ پارٹی کارکنوں نے ان کے گھر کا گھیراؤ کر کے ان کی مسلم شناخت کو پاکستان سے وفاداری کے مماثل قرار دیا، ان کی تصاویر نذرِ آتش کی گئیں ـ شیو سینا نے شاہ رخ خان سے سرِعام معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا ـ شاہ رخ خان اس وقت امریکہ کے دورے پر تھے ـ انھوں نے صاف اور واضح الفاظ میں معافی مانگنے سے انکار کر دیا ـ فلم کی تقسیم کار ایک امریکی کمپنی “فاکس اسٹار” تھی ـ فلم کی نہ صرف بھارت بلکہ امریکہ و یورپ میں بھی نمائش جاری تھی ـ امریکی کمپنی نے بھارتی حکومت سے رابطہ کر کے بند دروازوں کے پیچھے مذاکرات کرکے بالآخر فلم بچا لی ـ

2011 کو سیاسی و سماجی موضوعات پر فلمیں بنانے والے ہدایت کار پرکاش جھا مصیبت میں پڑ گئے ـ ان کی فلم “آرکشن” بھارت کے تعلیمی اداروں میں کوٹہ سسٹم کا جائزہ پیش کرتی ہے ـ دلت تنظیموں نے فلم کی ریلیز سے پہلے ہی اس کو کوٹہ سسٹم اور دلت مخالف کے نام سے پکار کر اس کے خلاف احتجاج شروع کر دیا ـ جلد ہی یہ فلم مخالف تحریک پورے شمالی بھارت میں پھیل گئی ـ اتر پردیش اور آندھرا پردیش حکومتوں نے نسلی تصادم کے پیشِ نظر اپنی ریاستوں میں فلم پر پابندی عائد کر دی ـ

دلتوں نے مرکزی حکومت سے فلم پر مکمل پابندی کا مطالبہ کیا ـ بعض دانش وروں نے بھی فلم کی تھیم پر سوالات اٹھائے اور اس پر پسماندہ ذاتوں کے مسائل سے چشم پوشی کا الزام لگایا ـ پرکاش جھا انصاف مانگنے سپریم کورٹ چلے گئے ـ اعلیٰ عدلیہ کی مداخلت کے بعد فلم کو نمائش کی اجازت تو مل گئی لیکن دانش ورانہ سطح پر فلم پر تنقید کا سلسلہ طویل عرصے تک برقرار رہا ـ

اگلے سال یعنی 2012 کو ایک اور فلم متنازع بن گئی ـ اومیش شُکلا کی فلم “اوہ مائی گاڈ” کو بجرنگ دَل اور شیو سینا کے مشترکہ غصے کا سامنا کرنا پڑا ـ فلم بھارت میں مذہب کے کاروبار کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے ـ شیو سینا اور بجرنگ دَل نے فلم کو ہندو مذہب اور دیوی دیوتاؤں کی توہین سے تعبیر کیا ـ عدالت میں ہدایت کار، پروڈیوسر، رائٹر اور اداکاروں کے خلاف پٹیشن بھی داخل کی گئی ـ متعدد شہروں میں فلم کے پوسٹرز جلائے گئے ـ ہندو تنظیموں کے خوف کے باعث درجنوں سینما مالکان نے فلم کی نمائش سے معذوری ظاہر کی ـ

اومیش شُکلا کے بعد غصے کا رخ ہدایت کار راجکمار ہیرانی کی طرف بڑھ گیا ـ راجکمار ہیرانی نے 2014 کو “پی کے” نامی فلم پیش کی جو مذہب اور اس کی رسومات پر شہری لبرل کلاس کے نکتہِ نظر کے تحت تنقید پیش کرتی ہے ـ

راجکمار ہیرانی کو تین جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ـ شیوسینا اور بجرنگ دَل نے فلم کو توہینِ مذہب قرار دے کر اس پر پابندی کا مطالبہ کیا ـ ہندو قوم پرستوں کے مطابق ایک سازش کے تحت ہندی سینما کو مورچہ بنا کر ہندو مذہب پر حملے کیے جا رہے ہیں جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ـ مسلمانوں کی تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ بھی فلم پر سیخ پا نظر آئی ـ مسلم نمائندوں نے “پی کے” کو مذہبی ہم آہنگی بگاڑنے اور مذہب کی توہین سے تعبیر کر کے پابندی کی مانگ کی ـ تیسری جانب ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے محافظین تھے ـ انھوں نے فلم کے پوسٹر کو نشانہ بنایا جس میں عامر خان الف ننگے کھڑے ایک ٹیپ ریکارڈر سے اپنی شرمگاہ ڈھانپے نظر آ رہے تھے ـ مبلیغینِ اخلاق نے اسے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے منافی مان کر عدالت کا رخ کیا ـ

“پی کے” پر گھمسان کا رن پڑا ـ مختلف مذہبی نمائندوں اور سماج کے ٹھیکے داروں سے مذاکرات کر کے فلم کی مزید کتربیونت کی گئی ـ

یہ فلم حالانکہ بھارت کی نیولبرل پالیسی کے دائرے میں رہ کر بنائی گئی ہے اس کے باوجود تنازعے کا شکار بن گئی ـ مذہب پر داروغہ بننے کی چاہ رکھنے والوں کو اگر ایک دفعہ ڈھیل دی جائے تو وہ مستقبل میں ہر چیز کو اپنے نکتہِ نظر کے مطابق ڈھالنے کا مطالبہ کرتے ہیں ـ نوے کی دہائی میں بویا گیا بیج اب تناور درخت بن چکا ہے ـ

2014 کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے مرکز میں حکومت بنا کر اپنے اہم ترین جرنیل نریندر مودی کو وزارتِ عظمی پر متمکن کر دیا ـ نریندر مودی نے پورے ملک کو گجرات بنا دیا ـ ہجوم کے ہاتھوں غیر ہندوؤں اور دلتوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ـ شائننگ بھارت کے پردے میں بڑھتی ہوئی غربت چھپائی گئی اور سرمایہ داروں کو محنت کشوں کا خون چوسنے کی مکمل اجازت دے گئی ـ سرمایہ داریت کے بے لگام و خونخوار جانور سے توجہ ہٹانے کے لیے مذہبی تقسیم کو جان بوجھ کر بڑھاوا دیا گیا ـ اس کے اثرات نے سینما کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ـ

(جاری ہے)


جدید تر اس سے پرانی

Archive