فلم “پی کے” پر ایک رائے

ذوالفقار علی زلفی

ہدایت کار راجکمار ہیرانی کی فلم “پی کے” کو بیشتر افراد سیکولر بھارت کا چہرہ سمجھتے ہیں ـ ان کے مطابق ہندو ازم پر یہ تنقیدی فلم بھارت کے سیکولر ریاستی فلسفے کا آئینہ دار ہے ـ معذرت کے ساتھ میں ایسا نہیں سمجھتا ـ

راجیو گاندھی کے دور میں غالباً 1987 کو ریاستی ٹی وی پر رامائن کو ایک ڈرامے کی صورت پیش کیا گیا ـ یہ ڈرامہ خاصا مقبول ہوا ـ ریاست نے پہلی دفعہ رامائن کے ذریعے ہندو توا کی سرپرستی شروع کی ـ گوکہ قبل ازیں اندرا گاندھی ممبئی میں شیو سینا کو طاقت فراہم کرنے کی پالیسی کا آغاز کرچکی تھی مگر اس دور میں شیوسینا مراٹھی قوم پرستی کا لبادہ اوڑھے ہوئی تھی ـ شیو سینا کی مذہبی انتہا پسندی کو راجیو گاندھی کی پالیسیوں سے ہی بڑھاوا ملا ـ

1992 کو ہندو توا نے ریاستی آشیرباد سے بابری مسجد کو مسمار کرکے اپنا سکّہ جمایا ـ اس کے بعد شیوسینا نے کھل کر ہندی سینما پر دباؤ بڑھانے کا آغاز کیا ـ 1995 کی فلم “بمبئے” میں بال ٹھاکرے سے مشابہ کردار کو دکھایا گیا جو کھلے عام مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کرکے ہندو برتری کا پروپیگنڈہ کرتا ہے ـ یہ کردار بال ٹھاکرے کی خواہش پر ہی ڈالا گیا تھا جس کا مقصد یقینی طور پر بال ٹھاکرے کے انتہا پسندانہ نظریات کی فلمی ترویج تھی ـ 90 کی دہائی میں ہندی سینما پر شیوسینا اور آر ایس ایس کا بڑی حد تک قبضہ ہوگیا ـ

ریاست نے نوے کی دہائی میں ہندو توا کی کھلے عام سرپرستی کی ـ ہندی سینما بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا ـ ہندی سینما نے ریاستی ہندو توا کو چھیڑنے سے ہر ممکن احتراز برتا ـ

2014 کی فلم “پی کے” میں بھی مذہب کے متعلق شہری مڈل کلاس طبقے کے سطحی نظریات کو پیش کیا گیا ہے اور اسے نیو لبرل پالیسی کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے ـ اس فلم میں کسی ایک بھی سین میں ریاست پر تنقید نہیں کی گئی ـ صرف سرسری طور پر ہندو توہم پرستی کو سطحی تنقید کے دائرے میں لایا گیا ہے ـ تپسوی مہاراج کے کردار کو شعوری طور پر غیرسیاسی بنا کر شدت پسند ہندو رہنماؤں جیسے یوگی آدتیا ناتھ وغیرہ کو محفوظ راستہ دیا گیا ہے ـ “پی کے” کو پاکستانی فلم “خدا کے لیے” سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے ـ ہدایت کار شعیب منصور کی فلم “خدا کے لیے” بھی فلم بینوں کو گمراہ کرنے کے لیے ہی بنائی گئی تھی ـ

“پی کے” سطحی لبرل تنقید کے حوالے سے یقیناً ایک اچھی فلم ہے ـ اچھا خاصا مصالحہ بھی ملتا ہے لیکن اسے ایک بڑی تنقیدی فلم سمجھنا گمراہ کن ہو گا ـ

جدید تر اس سے پرانی

Archive