اندرا گاندھی کی سینسرشپ اور ہندوستانی سینما

 ذوالفقار علی زلفی

بھارت کی آئرن لیڈی وزیراعظم اندرا گاندھی نے 1975 میں ملک بھر میں ایمرجنسی لگا دی ـ ایمرجنسی کا نزلہ ہندی سینما پر بھی گرا اور خوب خوب گراـ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کو حکم دیا گیا کہ ایسی کوئی بھی فلم ریلیز نہ ہونے پائے جس میں حکمران پارٹی یا مسز گاندھی کی سیاسی شخصیت پر تنقید کا کوئی پہلو ہوـ

سی بی ایف سی ہر فلم کے شاٹ اور سین پر کڑی نظر رکھتی تھی ـ بعض ناقدین کا ماننا ہے مسز گاندھی نے سیمیٹک تجزیہ کاروں کی خدمات بھی حاصل کیں جو فلموں میں پیش کی گئی علامتوں، تشبیہات اور اشاریہ وغیرہ کا تجزیہ کرکے اس امر کو یقینی بناتے تھے کہ فلم “صاف ستھری” رہے ـ

ایمرجنسی کے بدترین سالوں میں دو فلمیں خاص طور پر زیرِ عتاب رہیں ـ ایک گلزار کی “آندھیاں” جبکہ دوسری امرت ناہاتا کی “قصہ کرسی کا” ـ

ادارے کی ہدایت پر گلزار کی فلم “آندھیاں” کو سینما سے اتارا گیا ـ ادارے کا موقف تھا فلم کی خاتون پروٹاگونسٹ کا کردار اندرا گاندھی سے مشابہ ہےـ خبر بھی گرم تھی کہ یہ فلم مسز گاندھی کی زندگی سے متاثر ہےـ گلزار صاحب سے طویل گفت و شنید کے بعد فلم میں بعض تبدیلیاں لائی گئیں ـ نئی تبدیلیوں کے مطابق سچترا سین کو شراب اور سگریٹ پیتے دکھایا گیا تاکہ اندرا گاندھی کی شبیہہ نہ رہےـ اس کے ساتھ ساتھ سچترا سین کو ایک سین میں اندرا گاندھی کی تصویر کے سامنے کھڑا دکھایا گیا جہاں وہ کہتی ہے “میں ان سے متاثر ہوں”ـ فلم کو “پاک” کرنے کے بعد دوبارہ ریلیز کی اجازت مل گئی ـ

“قصہ کرسی کا” اتنی خوش قسمت ثابت نہ ہوسکی ـ بعض ناقدین کے مطابق یہ فلم ہندی سینما کی تاریخ کی متنازعہ ترین فلم ثابت ہوئی ـ حکمران پارٹی نے فلم کی سیاسی تھیم کو اپنے خلاف سازش سے تعبیر کیاـ شدید سیاسی دباؤ کی وجہ سے سی بی ایف سی نے فلم کو سرٹیفکٹ دینے سے قطعی انکار کردیا ـ ایک وزیر نے فلم کی نگیٹو ریل تک جلادی ـ کانگریس پارٹی کے کارکنوں نے فلمی ٹیم کے خلاف احتجاج بھی کیا ـ

فلم مزید تجزیے کے لیے صوبائی سینسر بورڈز کے مشترکہ اجلاس میں بھیجی گئی ـ اکثریتی اراکین نے بعض تبدیلیوں کی تجویز دے کر “U” سرٹیفکٹ کے ساتھ ریلیز کی اجازت دے دی لیکن مرکزی بورڈ نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا ـ فلم کو حکومت کے حوالے کردیا گیا تاکہ کابینہ اس کا فیصلہ کرے ـ

فلمی ٹیم کوئی راستہ نہ پاکر کورٹ چلی گئی ـ اس دوران ایمرجنسی کا خاتمہ بھی ہوگیا ـ بہرکیف طویل عدالتی جنگ کے بعد 1978 کو “قصہ کرسی کا” کے معاملے کا اختتام ہوا ـ

“قصہ کرسی کا” کیس نے فلمسازوں کو ڈرا دیا تھا ـ فلمسازوں نے از خود فلموں سے “قابلِ اعتراض” سینز کو فلمانا بند کردیا مگر کنفیوژن اس وقت بڑھ گئی جب سبھاش گئی کی فلم “کالی چرن” اور مدن موہلا کی “دس نمبری” کو تشدد اور مخرب اخلاق سینز کی بنیاد پر تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ـ

اندرا گاندھی کی جارحانہ سیاسی پالیسیوں نے اگر ایک طرف فلم انڈسٹری پر منفی اثرات مرتب کیے وہاں دوسری جانب ان کی سیاست نے ایک نئے فلمی رجحان کی بھی داغ بیل ڈالی ـ ان کی سیاست نے اینگری ینگ مین امیتابھ بچن کو پیدا کیا جو محنت کشوں کی نمائندگی کرکے سڑکوں پر امیروں کے خلاف لڑتا ہے اور انصاف کرتا ہے ـ اندراگاندھی کی جارحیت نے عوام کا پولیس و عدلیہ پر سے اعتماد ختم کردیا تھا، اس کا اظہار فلموں کی صورت بھی ہوا ـ جہاں 50 اور 60 کی دہائیوں کی فلموں کے برعکس ہیرو اب انصاف کے لیے قانون و انصاف کے اداروں کا سہارا نہیں لیتا تھا بلکہ سڑکوں پر خود عدالت لگاتا ہے ـ اندرا گاندھی کی سیاسی پالیسیوں کے فلموں پر اثرات نے رفتہ رفتہ کاکا راجیش کھنہ کے فلمی کیریئر کو ختم کردیا ـ


جدید تر اس سے پرانی

Archive