نوے کی دہائی کی سیاسی سینسرشپ اور ہندی سینما

ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کو جھیل کر بڑی حد تک صحیح سلامت نکل آئی تھی لیکن نوے کی دہائی میں اس پر جو آفت ٹوٹی اس نے لگ بھگ اس کی کمر ہی توڑ دی ـ نوے کی دہائی میں تین اہم واقعات ہوئے ـ 1991 میں سوویت یونین تحلیل ہو گئی جس نے نظریاتی سیاست کو پیچھے دھکیل کر موقع پرستی اور نظریاتی کرپشن کی راہ ہموار کی ـ دوم، نرسہماراؤ حکومت نے 1991 کو وزیرِ خزانہ اور ماہرِ اقتصادیات منموہن سنگھ کی مدد سے نیولبرل پالیسی پیش کی ـ اسی دوران ہندو قوم پرستی کو بھی بڑھاوا ملا جس نے 1992 کو بابری مسجد سانحے کو جنم دیا ـ ان واقعات نے مجمتع ہو کر ہندی سینما پر گہرے اثرات مرتب کیے ـ

مرکزی فلم سینسر بورڈ نے اخلاقیات، عوامی کلچر اور ہندوستانیت کی اصطلاحات استعمال کر کے نئی پالیسی مرتب کی ـ اس متنازع پالیسی کا پہلا شکار 1993 کو سبھاش گئی کی “کھل نائیک” بنی ـ ہندو قوم پرستوں نے فلم میں خاتون پروٹاگونسٹ کے کردار کو آڑے ہاتھوں لیا ـ فلم کی تھیم چونکہ رامائن سے ماخوذ تھی اس لیے ہندو قوم پرستوں کا خیال تھا کہ سیتا ماتا کے کردار کو سیکسی بنا کر عوامی کلچر کی نفی کی گئی ہے ـ حالانکہ 1993 کو “کھل نائیکہ” بھی ریلیز ہوئی تھی جس میں انتہائی فحش گانا ڈالا گیا تھا لیکن چونکہ اس فلم کا ہندو مائتھالوجی سے تعلق نہ تھا اس لیے ہندو سنسکرتی کے محافظین نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا ـ

ان دو فلموں پر متضاد ردِعمل نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر عوامی کلچر اور ہندوستانیت کی درست تعریف کیا ہے نیز یہ حق کس اتھارٹی کے پاس ہے کہ وہ ان تعریفات کی روشنی میں فلموں کا جائزہ لے؟ ـ اس سوال کا جواب 1994 کو سورج برجاتیہ نے فلم “ہم آپ کے ہیں کون” کی صورت دیا ـ اس فلم میں نیولبرل پالیسی کے مطابق ایک امیر خاندان کی پر تعیش زندگی دکھائی گئی، رام اور لکشمن کی مائتھالوجی کی نئی تشریح کی گئی، شادی کی سرمایہ دارانہ رسموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ـ سورج برجاتیہ کی یہ فلم عوامی کلچر کا معیار بن کر سامنے آئی ـ

مہاراشٹر میں دائیں بازوں کی جماعت شیوسینا بھی اسی دوران ایک پراثر طاقت کی صورت سامنے آئی ـ شیو سینا نے ایک متوازی سینسر شپ قائم کی ـ اس نے طاقت کے بل پر سینما کو اپنی خواہشات کے مطابق چلانے کی کوشـش کی ـ بالخصوص 1995 سے 1999 کا دورانیہ سخت ترین رہا ـ یہ وہ دور تھا جب مہاراشٹر پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور شیوسینا کی مشترکہ حکومت تھی ـ شیو سینا کے خواہشات کی عملی شکل 1995 کی فلم “بمبئے” کی صورت نظر آئی ـ 

تامل ہدایت کار منی رتنم کی فلم “بمبئے” بابری مسجد سانحے کے پسِ منظر میں ہندو مسلم محبت کی داستان ہے ـ جس میں ہندو پدرشاہیت کا استعمال کرکے مسلم لڑکی کی شناخت بدلی جاتی ہے ـ مرکزی سینسر بورڈ نے چند تبدیلیوں کے ساتھ فلم کو ریلیز کی اجازت دے دی لیکن شیوسینا کے سربراہ بال ٹھاکرے نہ مانے ـ انھوں نے متوازی اور غیرسرکاری سینسر بورڈ تشکیل دے کر فلم کی ہیئت ہی بدل دی ـ مسلمانوں نے اس فلم پر شدید احتجاج کیا جسے ریاستی طاقت سے کچل دیا گیا ـ شیو سینا نے ریاستی طاقت کے بل پر فلم کو سینما پر پیش کر دیا ـ

اب دو قسم کے معیار بن گئے ـ ایک “ہم آپ کے ہیں کون” جو امیر ہندو کلچر کی نمائندگی کرتی ہے جس میں محنت کش طبقے کی کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ دوسری “بمبئے” جو مسلم اقلیت کو دوسرا بنا کر پیش کرتی ہے ـ نوے کی پوری دہائی ان دو معیاروں پر قائم ہو گئی ـ دوسرے معیار میں پاکستان مخالف فلمیں بھی شامل کی گئیں ـ

شیوسینا نے ہر اس فلم کو متوازی سینسر بورڈ کے ذریعے مسترد کیا جو ان کے تصورِ عوامی کلچر سے متضاد تھا ـ جیسے 1996 کو دیپا مہتہ کی فلم “فائر” ـ

“فائر” کی خواتین پروٹاگونسٹ سیتا اور رادھا ہندو مائتھالوجی کے مطابق بالترتیب بھگوان رام اور بھگوان کرشن کی محبوبائیں ہیں ـ فلم میں دونوں خواتین کو جنسی ناآسودگی کا شکار اور ہم جنسی کرتے دکھایا گیا ہے ـ شیوسینا نے اس فلم کو ہندوستانیت کی نفی قرار دے کر دیویوں کی توہین سے تعبیر کیا ـ مرکزی سینسر بورڈ کی اجازت کے باوجود یہ فلم سینما کا منہ نہ دیکھ پائی ـ

شیوسینا نے فلموں کا جائزہ لینے کے لیے ایک الگ ادارہ تشکیل دیا تھا ـ اس ادارے نے فلمسازوں سمیت اداکاروں کو بھی ہراساں کیا ـ یہ سینسر شپ کا بدترین دور تھا ـ

جدید تر اس سے پرانی

Archive