سینما اور مارکسزم : ایک مختصر نوٹ



ذوالفقار علی زلفی

 

انسانی فنون میں سینما نسبتاً جدید ترین فن ہے۔  دیگر فنون کی نسبت اس نے بہت تیزی سے ترقی کرکے سماج میں اپنا مقام بنایا ہے۔

مارکسزم (کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے نظریات) کو جب ایک سیاسی و معاشی نظریے کی صورت تراشا جا رہا تھا تب سینما کا وجود ہی نہ تھا۔ فلم سازی تازہ تازہ ایک خام تجربے کی صورت سامنے آ رہی تھی۔ اسی لیے مارکسزم کے بانیوں نے دیگر فنون کو تو مارکسزم کی روشنی میں پرکھا لیکن فلم پر توجہ نہیں دی۔ اس سے یہ نہ سمجھا جائے مارکسزم کے اساتذہ کے نظریات سینما کے حوالے سے یکسر خاموش ہیں۔ ایسا ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ مارکس اور اینگلز نے پیداواری نظام اور پیداواری رشتوں پر جدلیاتی مادیت کی رو سے جو مباحث کیے ہیں۔ وہ نہ صرف سینما بلکہ انسان کے ہر جمالیاتی تخلیق کے پسِ پشت کارفرما سماجی عوامل کو سمجھنے میں خاصا مواد فراہم کرتی ہیں۔ اینگلز نے فن کو سمجھنے کے یے اس کے اندرونی قوانین کے بجائے سماج کے کُلی تجزیے بالخصوص ذرائع پیداوار اور پیداواری رشتوں کے گہرے تجزیے کو بنیاد بنایا۔ مارکس اور اینگلز کے اس نظریہِ فن نے آرٹ کو سمجھنے کا جو راستہ دکھایا اسی نے آگے چل کر مارکسی نظریہِ فلم کی بنیاد رکھی۔

مارکسزم نظریاتی لحاظ سے محنت کش طبقے کی آزادی کا نظریہ ہے۔ گویا مارکسزم عام انسان پر توجہ دیتا ہے اور اسی کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مارکسزم کا یہ وصف اسے اور سینما کو مشترک کردیتا ہے۔ کیوں کہ سینما بھی عام انسان کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مارکسزم اور سینما البتہ دیگر معاملات میں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔ سینما سرمایہ داریت کی ایجاد ہے، آج بھی اسے سرمائے کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ دوسری جانب مارکسزم محنت کش طبقے کے مفادات کی ترجمانی کرتا ہے اور سرمایہ داریت کو رد کرتا ہے۔

غلط طور پر سمجھا جاتا ہے کہ مارکسی نظریہِ فلم سینما سے تفریحی عنصر ختم کر کے اسے خشک سیاسی لٹریچر بنانے کے درپے ہے۔ ایسا قطعی طور پر نہیں ہے۔ مارکسی نظریہِ فلم کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے سیاسی و اقتصادی نظریات کا ہی تسلسل ہے۔ یہ کسی بھی فلم کی نظریاتی ساخت اور اس میں پیش کی گئیں علامتوں اور کرداروں کو جدلیاتی مادیت کی روشنی میں سمجھنے کا نظریہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسی فلموں کی وکالت کرتا ہے جو سماجی تضادات اور سماج میں جاری طبقاتی کشمکش کی عکاسی کریں۔ سینما کی ترقی کے ساتھ ساتھ مارکسی دانش وروں نے شاٹ، سین اور سیکوینسز میں آواز اور روشنی کی کمی بیشی، ایڈیٹنگ، کیمرے کے مختلف اینگلز، رنگوں کی کمپوزیشن، موسیقی کے تال میل، تیز و سست حرکت،کاسٹیومز اور کرداروں کے آپسی رشتوں وغیرہ وغیرہ کو بھی ان کی جدلیات میں دیکھنے کی کوشش کی۔

سینما جب ایک مؤثر فن کی صورت سماج میں جگہ بنا کر سرمایہ دارانہ نظام کے پروپیگنڈے کی صورت سامنے آیا تب مارکسسٹ سیاسی رہنما و دانش ور اس جانب متوجہ ہوئے۔ اکتوبر 1917 کے سوویت انقلاب کے بعد مارکسی نظریہ دان ولادیمیر لینن نے اس سرمایہ دارانہ ایجاد کو سرمایہ داریت کے خلاف اور محنت کش طبقے کے مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔

سوویت یونین

انقلابی رہنما لینن کی سینما میں دلچسپی اور اسے مزید ترقی دینے کے فیصلے نے سینما پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ آئزنسٹائن ( Eisenstein) ، پڈووکن (Pudovkin) جیسے سوویت فلم سازوں نے کارل مارکس کی جدلیاتی مادیت کے نظریے کا سینما پر اطلاق کرکے "مونتاژ" کو دریافت  کر کے انقلاب بپا کردیا۔

مونتاژ/مونتاج (montage) کے لغوی معنی "تراش خراش" کے ہیں جو فلموں کی ایڈیٹنگ میں استعمال ہوتا ہے۔ مونتاژ کی مختلف قسمیں ہیں جو اس وقت ویڈیو ایڈیٹنگ کا حصہ ہیں تاہم مارکسی مونتاژ اپنی نوعیت میں منفرد ہے۔ مونتاژ کی وجہ سے کم دورانیے میں یا دوسرے لفظوں میں دو تصویروں کے ذریعے مدعا بیان کیا جاتا ہے۔

مارکسی مونتاژ کو مزید دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے ـ ایک فکری، دوسری جدلیاتی۔

فکری مونتاژ میں دو ایسے شاٹس کو آپس میں جوڑا جاتا ہے جس سے ایک مکمل معنی سامنے آ سکے۔ مثال کے طور پر : پریشان چہرہ + روٹی = بھوکا انسان یا پریشان چہرہ + میت = سوگوار آدمی۔ ان مثالوں میں دوسری تصویر پہلی کے ساتھ تسلسل برقرار رکھ کر صورت حال کو بیان کرتا ہے۔ نیز یہ دونوں تصاویر ایک ہی واقعے سے جڑے ہوتے ہیں۔

دوسری مانتاژ جدلیاتی ہے جسے آئزنسٹائن نے مارکسی جدلیات سے اخذ کیا ہے۔ جدلیاتی مونتاژ میں دو ایسی تصاویر کو جوڑا جاتا ہے جن کے درمیان بظاہر کوئی تعلق نظر نہیں آتا بلکہ بسا اوقات وہ ایک دوسرے کی ضد ہوتے ہیں لیکن ان کو جوڑنے سے معنی کا ایک جہان سامنے آتا ہے۔ مثال کے طور پر: تلوار + صلیب = ....... ـ  اس مثال میں مساوی اتنا سادہ نہیں ہے کہ اسے چند الفاظ میں سمیٹا جا سکے۔ تلوا؛ فوجی قوت کی علامت ہے جب کہ صلیب مذہب کی نمائندگی کرتی ہے۔ گویا حکم ران طبقہ فوجی قوت اور مذہب کو یک جا استعمال کر کے محنت کشوں کو ایک جانب دبا کر رکھتا ہے اور دوسری جانب انھیں بتاتا ہے کہ ان کی یہ حالت من جانبِ خدا ہے جس کا حکم ران طبقے کی پالیسیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حکمران طبقے اور مولوی کی ملی بھگت کی جانب بھی اشارہ کرتا ہے۔ آئزنستائن نے اپنی 1925 کی فلم " Battleship Potemkin" میں اس طریقے کو اس سیکونس میں استعمال کیا جب جہازی مضرِ صحت غذا کی فراہمی پر احتجاج کرتے ہیں اور سپاہی انھیں بزور قوت روکنے جب کہ پادری احتجاج کو خدائی احکامات کی خلاف ورزی قرار دینے کے لیے آتا ہے۔ اسی طرح اسی فلم کے ایک شاٹ میں زار کے محل کے باہر شیر کے مجسمے کو بیٹھے ہوئے دکھایا جاتا ہے لیکن دوسرے شاٹ میں اسے کھڑے ہوتے دکھایا جاتا ہے۔ گویا محنت کش جنھیں پہلے اپنے استحصال کا علم نہیں تھا اس لیے وہ خود میں مگن رہے جب علم ہوا تو اٹھ کھڑے ہو گئے۔ اسی طرح زار کا پُرشکوہ محل قدرِ زائد اور شیر کا مجسمہ محنت کشوں کی پوٹینشل توانائی کی علامت قرار پاتا ہے۔ (اس فلم کا مفصل سیمیاتی تجزیہ مصنف "بیٹل شپ پوتمکین" کے نام سے کر چکا ہے)

آئزنسٹائن نے ہالی ووڈ کے فلمی نظریہ دانوں کے تصورِ ہیرو کو رد کر کے عوام/گروہ کو مرکزی کردار دینے کا خیال دیا جو مروجہ نظام یا اقدار کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں۔ آئزنسٹائن کے مطابق مغربی سینما بالخصوص امریکی فلمیں بڑی عیاری کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کا وہ چہرہ دکھاتی ہیں جو نفیس اور مہذب ہے جب کہ اس رخ کو چھپاتے ہیں جو عوام کے استحصال پر مبنی ہے، یہ سینما بالآخر امریکی نظامِ معیشت و سیاست کی عظمت کا پروپیگنڈہ کرتا ہے جو جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ سوویت مارکسیوں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سینما پر سرمایہ دار طبقے کا غلبہ ہے جو حکم ران طبقے کے اقدار و روایات کا پروپیگنڈہ کرتی ہیں۔ حکمران طبقے کے اقدار و روایات کو عوامی ثقافت کا نام دیا جاتا ہے۔

جرمنی

آئزنستائن کو لبرل ناقدین کے سخت حملوں کا بھی سامنا رہا۔ اس حوالے سے جرمن بورژوا طبقے کے دانش ور آسکر شمٹس (Oscar Schmitz) کی رائے دلچسپ ہے۔ انھوں نے آئزنستائن پر تنقید کرتے فرمایا؛ فن اور سیاست دو مختلف چیزیں ہیں، فن انسان کے جمالیاتی احساس کی نمائندگی کرتا ہے جب کہ سیاست سماج سے متعلق ہے، آئزنستائن نے مونتاژ کے ذریعے سینما کے فن کو سیاسی بنانے کی کوشش کی ہے جو فن کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ جرمن مارکسی دانش ور والٹر بنجمن (Walter benjamin) نے سوویت فلم ساز کے دفاع میں آسکر کی رائے کو مسترد کرتے ہوئے تمام فنون بشمول سینما کو سیاسی رجحانات کا عکاس قرار دیا۔ ان کے مطابق فن انسان کے تاریخی سماجی شعور سے جلا پاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے فلم اور ناول کو دو مختلف چیزیں قرار دے کر مؤقف اختیار کیا کہ ایک ناول کی بُنت اور فلم کی ہدایت کاری میں نوعی فرق ہوتا ہے، اس لیے فلم کے باب میں ناول سے مخصوص کرائیٹیریا کے مطابق بحث نہیں کی جا سکتی۔

جرمن مارکسی فن کاروں برتولت بریخت (Bertolt Brecht)  والٹر بنجمن (Walter Benjamin) اور دیگر نے سینما اور سماج کے تعلق پر فکر انگیز مباحث کیے ہیں۔ ان مباحث نے آگے چل کر نہ صرف جرمن سینما بلکہ پورے مغربی سینما پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ جرمن دانش وروں نے فلم کو ٹیکنالوجی قرار دے کر اسے ایک ٹیکنالوجی کی صورت میں برتنے پر زور دیا ۔ ان کے مطابق فلم میں تصاویر کی سست یا تیز حرکت، آواز کا زیر و بم، مونتاژ، تصوی، لانگ شاٹ اور کلوزاپ وغیرہ کو ٹیکنالوجی کے ذریعے بروئے کار لایا جاتا ہے اس لیے فلم سے شاعری یا ناول جیسے مطالبات نہیں کیے جا سکتے اور نہ ہی فلم بین پر اس کی اثر پزیری کو ناول کے قاری کی مانند بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان مباحث کے مطابق فلم دیگر فنون کے مقابلے میں سب سے زیادہ سیاسی فن ہے۔

اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے وسط میں سینما پر مارکسی مباحث کا سیلاب آ گیا۔ خود امریکہ میں بھی امریکی فلموں کی نظریاتی ساخت پر سوال اٹھنے لگے۔ آزاد معیشت کی علم بردار ریاست ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود امریکی حکومت نے ایسی تمام فلموں کی حوصلہ شکنی کی جو سرمایہ دارانہ نظام پر سوال اٹھاتی ہوں۔ امریکی ریاست نے ایک گیٹ کیپر کے فرائض سنبھال لیے جو سرمایہ دارانہ اقدار و روایات کی نفی کرنے والے عناصر کو فلم کا حصہ بننے سے روکتا ہے۔

اٹلی

چالیس کی دہائی میں اٹلی کے مارکسی ناقدین نے انتونیو گرامچی (Antonio gramsci) کے نظریات کی روشنی میں اطالوی فلموں کو سخت ترین تنقید کے نشانے پر رکھا۔ گرامچی ایک پُراثر نظریاتی دانش ور تھے۔ ان کے نظریہ hegemony کو استعمال کر کے اطالوی مارکسیوں نے اپنی تنقید کو دو آتشہ کردیا۔

اطالوی مارکسیوں کے مطابق hegemony دو طرح سے عمل کرتی ہےـ ایک؛ قوت کے ذریعے اور دوسری نظریے کے بل پر ۔ انھوں نے اطالوی فاشسٹ سینما کے ایسے سیاسی رجحانات کی نشاندہی کی جو اطالوی ایلیٹ طبقے کے مفادات کی ترجمانی کرتی ہیں۔ مارکسی ناقدین کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں فاشسٹ سینما ریزہ ریزہ ہو کر بکھر گئی اور اس کی راکھ سے اطالوی نوحقیقت پسند سینما کا آغاز ہوا جس میں محنت کش طبقے کو مرکز میں رکھ کر نظام سرمایہ داری کو نشانہ بنایا گیا۔

اطالوی نوحقیقت پسندی نے 1948 کی "Bicycle thieves" جیسی فلمیں تخلیق کیں جن کی فن کاری و پُرکاری کو لبرل دانش وروں و فلم سازوں نے بھی کھلے دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ گو کہ پچاس کی دہائی میں نوحقیقت پسند سینما کی تحریک کا خاتمہ ہو گیا لیکن اس کے اثرات 1966 کی "The battle of Algiers" جیسی نوآبادیاتی نظام مخالف فلموں سے برقرار رہے۔ (اطالوی نوحقیقت پسند سینما پر مصنف کا تفصیلی مضمون "اطالوی سینما: نو حقیقت پسندی" ملاحظہ کیجیے)

فرانس

پچاس کی دہائی کے اوائل میں فرانسیسی سینما کو بھی مارکسزم کا سامنا کرنا پڑا۔ مارکسسٹ دانش وروں اور نظریہ دانوں نے فرنچ سینما کی چکاچوند اور رنگا رنگی کو جعلی قرار دے کر اسے ایک تصوراتی فرانس تخلیق کرنے کا مجرم گردانا۔ مارکسی تنقید نے "فرانسیسی موجِ نو" (French new wave) کی بنیاد رکھی۔ اس تحریک نے خواتین، محنت کش اور کسانوں کو اپنا موضوع بنایا۔ بڑے بڑے دیدہ زیب اسٹوڈیوز کی جگہ سڑکوں، بازاروں اور محنت کشوں کے گھروں کو شوٹنگ کے لیے چُنا گیا ۔ اس تحریک نے 1959 کو "The 400 blows" اور 1960 کو "Breathles" جیسی شاہ کار فلموں کو جنم دیا جو آج بھی سینما کے طالب علموں کے لیے نصاب کا درجہ رکھتی ہیں۔

فرنچ موجِ نو کو البتہ ایک مکمل مارکسی فلمی تحریک نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس تحریک کے زیرِاثر بننے والی فلموں پر (جتنے مصنف کے مشاہدے سے گزریں) مارکسی فلم تھیوری کا اثر ہر چند گہرا ہے لیکن ان فلموں کا سیمیاتی تجزیہ بتاتا ہے ان میں رائٹ ونگ کے اثرات بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔ یہ تضاد شاید مارکسزم اور ہالی ووڈ فلموں کے مشترکہ اثرات سمیت خود فرنچ معاشرے پر حاوی تصورات کی وجہ سے ہے۔ 

ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں فرنچ مارکسی فلاسفر Louis Althusser نے گرامچی کے نظریات کو بنیاد بنا کر زبان اور ویژول کے تعلق، ان کی سماجی قوت اور تضاد کو موضوعِ بحث بنا کر مارکسی تنقید اور مارکسی فلم تھیوری کو نئے زاویے فراہم کیے۔ ان کے نظریات نے فلمی تصویروں کو سمجھنے کے نئے دروازے کھول دیے۔ فلمی ہیرو، پولیس، مجرم، سرمایہ دار اور اخبار کے مالکان وغیرہ کی حرکت، زبان اور ان کے پیچیدہ سماجی رشتوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا چلن شروع ہوا۔ غربت اور جرم کے تعلق کے حوالے سے بنی فلموں پر گرامچی اور التھسر کے نظریات کی روشنی میں تنقید کی جانے لگی۔

ہندوستان

مارکسی فلم تھیوری نے تیس کی دہائی میں نوآبادیاتی ہندوستان کے دروازے پر بھی دستک دی۔ انگریز قبضہ گیروں نے تاہم محنت کش طبقے کو مرکزیت دینے والی فلموں کو نمائش کی اجازت دینے سے قطعی انکار کردیا۔ ہندوستانی فلمی تاریخ میں پہلی دفعہ جس فلم کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا، اس کا موضوع طبقاتی تھا۔ 1934 کی فلم "دا مِل" (مزدور) کی کہانی ممتاز افسانہ نگار منشی پریم چند نے لکھی جب کہ ہدایت کار موہن بھوانی تھے۔ انگریز سرکار نے فلم کو مہلک قرار دے کر نمائش کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ برطانوی سینسر بورڈ کے اہلکاروں نے واضح کیا کہ طبقاتی تضادات کی عکاسی کرنے والی فلمیں ہندوستانی عوام کو گم راہ کر سکتی ہیں۔ اس لیے ایسی فلموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

اس انکار کے باوجود ہندوستانی فلم سازوں بالخصوص خواجہ احمد عباس، وی شانتا رام، ضیا سرحدی وغیرہ نے علامتوں و تشبیہات کے ذریعے محنت کش طبقے کے مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ ہدایت کار وی شانتا رام گو کہ سماجی و سیاسی لحاظ سے ایک بیدار شخصیت تھے تاہم ان کی فلموں میں قومی یکجہتی اور جدوجہدِ آزادی کا رنگ طبقاتی جدوجہد کی نسبت گہرا ہے۔

1943 کو ہندی سینما کے ترقی پسند فن کاروں نے "انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن" کی بنیاد رکھی۔ اس تنظیم کے نمایاں فن کاروں میں خواجہ احمد عباس، سلیل چوہدری، اتپل دت، پرتھوی راج کپور اور بلراج ساہنی شامل تھے۔ ان فن کاروں نے سینما کو مارکسی پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا آغاز کیا۔ انھوں نے "نیا سنسار"، "نیچا نگر" (کیتن آنند ـ خواجہ احمد عباس)، "دھرتی کے لعل" (خواجہ احمد عباس)، "منموہن" (محبوب خان) وغیرہ جیسی فلمیں بنائی جو سماج کا مارکسی تجزیہ پیش کرتی ہیں۔

آزادی کے بعد جہاں ہندی سینما نے نظریاتی طور پر جاگیرداریت کو بھارتی قوم پرستی کے طور پر برتا وہاں مارکسزم بھی کسی نہ کسی صورت فلموں کا حصہ بنتی رہی بالخصوص راج کپو، محبوب خان، ستیہ جیت رے اور بمل رائے نے اس حوالے سے شاندار تخلیقات پیش کیں۔ حتیٰ  کہ 70 اور 80 کی دہائیوں میں جب نہرو ازم اپنا اثر کھونے لگی تھی تب بھی ہیرو محنت کش اور ولن سرمایہ دار ہی رہا۔ (ہندی سینما پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے مصنف کی تحریر "ہندی سینما: ایک تجزیاتی مطالعہ)۔

ایران

اسی طرح ایران میں ساٹھ کی دہائی میں رضا شاہ پہلوی کی فلم پالیسی پر مارکسی ناقدین نے سوال اٹھانے شروع کر دیے۔ انھوں نے ایرانی فلموں کو "فارسی فلموں" کا نام دے کر ان کی نظریاتی ساخت کو نشانہ بنا کر ایران کی اکثریتی محنت کش و کسان طبقے کے غیاب کو واضح کیا۔ ایرانی ایلیٹ کلاس مغربی ثقافت کی بھونڈی نقالی کو ترقی کا زینہ سمجھتی تھی۔ بقول ایرانی مارکسی مفکرین کے ایرانی سینما پر ایلیٹ کلاس کا قبضہ ہے اس لیے فلموں میں انھی کی اقدار، روایات،  رویے اور خواہشات کا عکس دکھایا جاتا ہے جس کا ایرانی سماج سے کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی فلمی صنعت کو نظام شہنشاہیت کی بھرپور تائید و حمایت حاصل تھی اس لیے مارکسی مفکرین نے ان فلموں کو شاہ ایران کے جبر و استبداد پر مبنی نظام سے جوڑا جس کے عالمی سطح پر نگہبان امریکہ اور برطانیہ تھے۔ شہنشاہیت کے نظریے کے گرد قائم سینما مارکسی جہدکاروں کی مسلسل تیراندازی کی تاب نہ لا کر بالآخر گر گئی۔

ہدایت کار داریوش مہرجو نے 1969 کو "The Cow" فلم پیش کی جو بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ایرانی کسانوں کی عسرت و تنگ دستی کو موضوع بنایا گیا۔ اس فلم نے نہ صرف ایران بلکہ عالمی سطح پر بھی زبردست پذیرائی حاصل کی۔ مارکسی ناقدین نے اس کو خوش آئند قرار دے کر اسے "ایرانی سینما" کا آغاز قرار دیا۔ بعدازاں عباس کیا رستمی، مسعود کیمیائی اور بہرام بیضائی وغیرہ نے کسان و محنت کشوں کو مرکز میں رکھ کر ایرانی سماج کی عکاسی کو فلموں کا اٹوٹ انگ بنا دیا۔

1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد بھی ایرانی سینما نے اپنی اس روش کو برقرار رکھا تاہم دورِ شہنشاہیت کی "فارسی فلم" کسی اور رنگ میں آکر ایک دفعہ پھر ایرانی سینما کا حصہ بن گئی۔ اب "فارسی فلم" مغربی ثقافت کی بھونڈی نقالی کی بجائے مذہبی ثقافت کی ترویج کرنے لگ گئی۔ ان دونوں رجحانات کے درمیان تضاد تاحال جاری ہے۔ (ایرانی سینما پر تفصیلی بحث کے لیے دیکھئے مصنف کی تحریر "فارسی فلم سے ایرانی سینما تک") ـ

نیو لبرل ازم

مارکسی ناقدین نے 80 کی دہائی میں امریکہ کے نیو لبرل ورلڈ آرڈر (رونلڈ ریگن _ امریکہ،  مارگریٹ تھیچر _ برطانیہ اور جنرل پنوشے _ چلی) کے فلموں پر اثرات اور نیو لبرل نظریے پر بنی فلموں میں محنت کش طبقے کے استحصال کو کارل مارکس، التھسر اور گرامچی کے نظریات کے مطابق نشانہ بنایا۔ مارکسی ناقدین نے واضح کیا کہ جہاں امریکی سرمایہ داریت کا مفاد ہو وہاں نام نہاد نیو لبرل ازم گھاس چرنے چلی جاتی ہے جیسے دنیا میں ہالی ووڈ کی مینوپلی کو قائم رکھنے کے لیے امریکہ کا ریاستی ڈھانچہ اور کارپوریٹ ادارے ملی بھگت کر کے اسے توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ہالی ووڈ کی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے عمل کو "قومی مفاد" کا نام دیا جاتا ہے جو بقول التھسر درحقیقت سرمایہ دار طبقے کا مفاد ہوتا ہے۔ ہالی ووڈ کی بیشتر فلمیں بورژوازی اور پیٹی بورژوازی کی نمائندگی کرتی ہیں جن کا تجزیہ کرنے پر عقدہ کھلتا ہے وہ دراصل محنت کش طبقے کے حوصلوں کو پست کرنے اور پسماندہ ممالک پر امریکی عظمت کا رعب جمانے کا پروپیگنڈہ کرتی ہیں۔

نیو لبرل پالیسی اور امریکی سینما کے تعلق پر امریکی مارکسی دانش ور Anna kornbluh نے اپنے طویل مضمون" Making It’: Reading  Boogie Nights and  Blow  as Economies of Surplus and "Sentiment میں پرمغز بحث کی ہے۔ یہ مضمون بنیادی طور پر 1997 کی سپرہٹ ہالی ووڈ فلم "Boogie nights" کا تفصیلی تجزیہ ہے۔ مذکورہ فلم کا پروٹاگونسٹ اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر پورن انڈسٹری کا حصہ بن جاتا ہے۔ اپنی خوب صورتی اور عضو تناسل کی لمبائی کے باعث پورن سپراسٹار بن جاتا ہے میڈم Anna kornbluh کی کتاب "Marxist Film Theory "and Fight Club بھی اس حوالے سے اہم دستاویز ہے۔

امریکی سرمایہ داریت کے ترجمان ہالی ووڈ بھی تاہم مارکسزم کے اثرات سے تہی نہیں ہے۔ جیسے ہدایت کار جیمز کیمرون کی "ٹائی ٹینک" (1997) جس میں "جیک" پرولتاریہ جب کہ "روز" ایک بورژوا لڑکی کے کردار میں نظر آتی ہے اور فلم میں جہاں ان دونوں کے درمیان محبت پیش کی گئی ہے، وہاں دونوں طبقات کے درمیان تضاد و کشمکش بھی دکھانے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔

حرفِ آخر


جیسے کہ کہا جا چکا ہے کہ سینما سماج پر اثرانداز ہونے والے فنون میں سے مؤثر ترین فن ہے۔ سو یہ ممکن ہی نہیں ہے سماج کے اکثریتی طبقے کی نجات کا نظریہ؛ مارکسزم اس سے غافل رہ سکے۔ مارکسی فلم تھیوری اور مارکسی تنقید "تہذیبوں کا تصادم" اور "اسلامو فوبیا" جیسی توجہ ہٹاؤ عالمی پیشکشوں کے باوجود نظریاتی لحاظ سے برقرار ہے۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ مارکسزم ہی وہ بہترین ہتھیار ہے جس سے سماج، سیاست، ثقافت اور یقیناً آرٹ کا گہرائی سے تجزیہ ممکن ہے۔

اس مختصر تحریر میں سینما اور مارکسزم جیسے وسیع موضوع پر مفصل بحث کا امکان نہیں تھا۔ اختصار کے لیے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

جدید تر اس سے پرانی