بڑی فلم کیسے بنتی ہے؟



ذوالفقار علی زلفی

ہندی سینما کے حالیہ سپراسٹاروں میں سے ایک شاہ رخ خان اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں "بری فلم بننے کی سب سے بڑی وجہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ ہدایت کار کہانی کو مناسب طریقے سے بیان نہیں کر پایا" ـ

شاہ رخ خان کی مانند سپراسٹار کے منصب پر فائز دوسرے اداکار عامر خان نے بھی لگ بھگ یہی بات کی ہے ـ عامر خان سے پوچھا گیا بالی ووڈ کو اپنا معیار مزید بہتر کرنے کے لئے کیا کرنا چاہیے؟ ـ انہوں نے فرمایا "ہمیں بمل رائے اور گرودت جیسے ہدایت کاروں کو دوبارہ دریافت کرنا ہوگا" ـ

میرے مطابق مزکورہ بالا دونوں اداکاروں کی رائے محض جزوی طور پر درست ہے ـ ایک بڑی فلم کے پیچھے یقیناً ہدایت کار اہم کردار ہوتا ہے لیکن اس کردار سے پہلے ایک اور شخص بھی ہوتا جس کے کام میں سنجیدگی،  پختگی اور گہرائی از حد ضروری ہے ـ وہ ہے اسکرین رائٹر ـ

اسکرپٹ

کسی بھی فلم کی اولین چیز اسکرپٹ ہوتی ہے ـ ایک گھٹیا اسکرپٹ کو بمل رائے یا الفرڈ ہچکاک بھی بہترین فلم کے قالب میں نہیں ڈھال پاتے ـ ہچکاک تو اسکرپٹ کو آدھی فلم قرار دیتے تھے ـ سو ایک بہترین فلم کی پہلی شرط بہترین کہانی ہے ـ

بہترین اسکرپٹ کی کوئی متعین تعریف نہیں کی جاسکتی ـ ہر کوئی اسے اپنے سماجی و نظریاتی تعصبات کی عینک سے پرکھتا ہے ـ جیسے نابغہ روزگار ہدایت کار اسٹینلے کیوبرک (Stanley kubrick) کی بہترین تخلیقات میں سے ایک "2001: A Space odyssey" کے حوالے سے بعض ناقدین کا خیال ہے اس کی کہانی اتنی شاندار نہیں ہے جتنی کیوبرک نے اپنی فن کاری سے پیش کی ہے ـ دوسری جانب ناقدین کے ایک گروہ کا ماننا ہے کہانی شاندار ہے اس لئے اس پر کیوبرک نے مزید محنت کرکے اسے شہکار بنا کر پیش کیا ـ اسی طرح بعض کہانیوں کو مارکسی و غیر مارکسی ناقدین کے درمیان بھی تختہِ مشق بننا پڑا ـ

تعصبات اپنی جگہ اہم سہی لیکن تاریخ سینما میں ایک بھی ایسی بڑی فلم شاید ہی ملے جس کا اسکرپٹ بودا اور تھکا ہوا ہو ـ پسند اور ناپسند کی بحث سے قطعِ نظر اگر اسکرپٹ میں اتنی توانائی نہ ہو کہ اسے اسکرین پر عمدگی سے پیش کیا جاسکے اس کی بنیاد پر ایک عام فلم تو شاید بن جائے کوئی شہکار بنانا از بس کہ ممکن نہیں ـ

ناول اور اسکرپٹ کو یکساں سمجھ لینا بھی درست نہ ہوگا ـ یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ ایک بہترین ناول سے عمدہ اسکرپٹ اخذ کیا جاسکے ـ فلمی اسکرپٹ کو اسکرین کے لئے لکھا جاتا ہے گویا اسے اس ترتیب سے لکھنا پڑتا ہے کہ اسے فلمایا جاسکے ـ اس لئے بعض عمدہ ناولوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس پر اچھی فلم نہیں بن سکتی ـ جیسے ایرانی ادیب صادق ہدایت کے ناول "بوف کور" کو  متعدد کوششوں کے باجود ایک بہترین فلم کے قالب میں نہ ڈھالا جاسکا ـ

ایک ہی ناول سے عمدہ اسکرپٹ بھی اخذ کی جاسکتی ہے اور گھٹیا بھی ـ مثال کے طور پر امریکی ادیب مائرو پزو کے ناول "دا گاڈ فادر" پر درجنوں فلمیں بن چکی ہیں ـ ہندوستان نے بھی اس پر طبع آزمائی کی ہے ـ "دھرماتما" (1975) , "آتنک ہی آتنک" (1995) ، "ظلم کی حکومت" (1992) , "سرکار" (2005) وغیرہ وغیرہ ـ ان میں سے سوائے "آتنک ہی آتنک" کے دیگر فلمیں باکس آفس ہٹ رہی ہیں ـ دلچسپ بات یہ ہے کہ "آتنک ہی آتنک" میں سپراسٹار رجنی کانت اور عامر خان ایک ساتھ جلوہ گر ہوئے ہیں اس کے باوجود وہ فلم کو کامیاب بنانے میں قطعی طور پر ناکام رہے ـ

درج بالا فلموں میں "دھرماتما" نسبتاً بہتر ہے تاہم وہ پھر بھی امریکی ہدایت کار فرانسس فورڈ کوپولا ( Francis ford coppola) کی "دا گاڈ فادر" (The Godfather) کی گرد کو بھی نہ پاسکی ـ حالانکہ ناول تو ایک ہی ہے ـ کہانی ایک جیسی ہے ـ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اسکرپٹ نہایت ہی جان دار اور متاثر کن ہے لیکن چند چیزیں اور بھی ہیں جو "دا گاڈ فادر" کو عظیم فلم بناتی ہیں ـ ان پر آگے چل کر بحث کریں گے ـ (یہ بھی واضح رہے کوپولا اس کے بعد عمر بھر "دا گاڈ فادر" والی بلندی تک نہ پہنچ سکے،  یہ نکتہ ذہن نشین رہے) ـ

ہدایت کار

"دا گاڈ فادر" سمیت کسی بھی فنی شہکار کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ہدایت کار کا ہوتا ہے ـ بقول شاہ رخ خان "ہدایت کار کے پاس کہانی کو مناسب طریقے سے بیان کرنے کا ہنر ہونا چاہیے" ـ مناسب طریقے کا ہنر محض کسی فلم انسٹیٹیوٹ کے نصاب اور لیکچرار کے لیکچر سے نہیں ملتا اس کے لئے لازمی ہے ہدایت کار فن کی گہرائی میں اتر اپنی ذہنی و خلقی صلاحیتوں کو استعمال کرے ـ وہ mise en scene یعنی لائٹ،  کیمرہ،  سیٹ،  افراد ، اشیا و مناظر کے درمیان مناسب فاصلہ،  کیمرہ،  کاسٹیوم،  کمپوزیشن وغیرہ وغیرہ کی متوازن ترتیب سے آگاہ ہو ـ غیر متوازن mise en scene فلم کی خوب صورتی کو گہنا دیتا ہے بلکہ بساں اوقات وہ غیر دلچسپ اور بدصورت ہوجاتی ہے  ـ سو ہدایت کار کو پتہ ہونا چاہیے کس منظر کو کس اینگل سے دکھانا چاہیے،  اداکار دیے گئے کردار سے کس حد تک انصاف کر پایا ہے،  اداکاروں کے کاسٹیوم صورتحال اور منظر سے متضاد نہ ہوں ،  روشنی اور صوتی اثرات کا تناسب سین سے مطابقت رکھیں ـ ہدایت کار کو اپنے سماجی و سیاسی نظریات کے حوالے سے پختہ ہونا چاہیے (صرف مارکسی ہی نظریاتی نہیں ہوتے،  ہر انسان سماج کے حوالے سے ایک مخصوص نکتہِ نظر رکھتا ہے) ـ جیسے بھارتی ہدایت کار راج کمار ہیرانی شہری مڈل کلاس طبقے کے مسائل کو لبرل نظریات کی روشنی میں پرمزاح انداز سے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ـ اسی لئے ان کی فلمیں عموماً اس طبقے کو زیادہ اپیل کرتی ہیں تاہم ہیرانی فنی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش نہیں کرتے ـ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ان کی فلمیں بہترین تفریحی و اصلاحی مواد تو مہیا کرتی ہیں لیکن وہ بہترین فن کے دائرے سے خارج ہی رہتی ہیں ـ

اس کے ساتھ ساتھ ہدایت کار نہ صرف فلمی علامتوں کو برتنے کے ہنر سے واقف ہو بلکہ متضاد شاٹس کے ذریعے معنی آفرینی کی قدرت بھی رکھتا ہو ـ فلم کوئی ریڈیو پروگرام نہیں ہے جہاں کوئی شخص بیٹھ کر دادی امّاں کی طرح کہانی سنائے ـ یہ ایک ویڈیو پروگرام ہے جس میں ہر شاٹ کا اینگل،  اس شاٹ میں نظر آنے والی اشیا اور مزکورہ شاٹ کا دوسرے شاٹ سے متضاد یا موافق رشتہ ناظر کو کہانی بتاتا ہے ـ مکالمہ بھی شاٹ کے پسِ منظر و پیش منظر کا ہی محتاج ہوتا ہے ـ

  یہاں 1994 کی بہترین امریکی فلم "The shawshank redemption" کی مثال دینا چاؤں گا ـ ایک سین میں مورگن فریمن،  ٹم روبنس کو قید خانے کی دیواروں کے حوالے سے کہتا ہے:

"قید خانے کی دیواریں بہت ہی دلکش ہیں،  پہلے تمہیں ان سے نفرت ہوگی،  پھر تم ان کے عادی ہو جاؤ گے اور ایک عرصے بعد تم ان کا حصہ بن جاؤ گے ـ وہ تم سے یہی چاہتے ہیں" ـ

اس سین سے پہلے اور بعد قید خانے کی دیواروں کو ایک ایسے انداز سے دکھایا جاتا ہے ناظر بھی ان کی ہیبت کو محسوس کریں اور مورگن کے مکالمے کی تفسیر بن جائیں ـ ہدایت کار نے بڑی مہارت سے انسان پر عائد مختلف سماجی و سیاسی بندشوں کو فلمی قید خانے کی دیواروں سے تشبیہہ دی ہے ـ غلام قوم کے افراد نوآبادکار سے پہلے نفرت،  پھر اس کے عادی اور بعد ازاں اس سے جڑ کر اپنی آزادی سے دستبردار ہوکر اسے زندگی کا معمول بنا لیتے ہیں ـ یہی سب کچھ سرمایہ دارانہ نظام تلے دبے محنت کش،  پدرشاہیت سے لہولہان خواتین،  آمریت کے سائے تلے جیتے جمہور ........ کے ساتھ بھی ہوتا ہے ـ بقول مورگن فریمن "وہ" تم سے یہی چاہتے ہیں ـ یہ "وہ" کوئی بھی طاقت ور فریق ہوسکتا ہے ـ "دا شاشنک ریڈمپشن" اس قسم کے گہرے مکالموں ، شاٹس و سیکوینسز سے ہی عبارت ہے ـ جیسے سرمایہ دارانہ نظام کی بے رحمی کو جیلر کی منی لانڈرنگ کی صورت دکھانے کی کوشش جسے آزادی بخش موسیقی کی لہروں سے بھی از حد نفرت ہے ـ فلم کے ہدایت کار Frank darabont کی یہی وہ خاصیت ہے جس نے اس فلم کو بڑی فلموں کی فہرست میں شامل کیا ـ

دوسری جانب پاکستان کی سپرہٹ پنجابی فلم "مولا جٹ" کی ہدایت کاری ملاحظہ فرمائیں ـ فلم کے ایک معروف سین میں مصطفی قریشی اور سلطان راہی کے درمیان لفظی جنگ ہوتی ہے ـ دونوں اداکار غصیلا چہرہ لئے کیمرے کی جانب دیکھ کر دھمکی آمیز مکالمے ادا کرتے ہیں ـ ایسا لگتا ہے جیسے دونوں کا مقصد ایک دوسرے کو زیر کرنا نہیں بلکہ ناظرین کو ڈرانا ہے ـ اس قسم کی پست ترین ہدایت کاری کو بھلا کیسے فن کاری تسلیم کیا جائے؟ ـ ہدایت کار کم از کم ہندی فلم "دیوار" کے معروف سین "میرے پاس ماں ہے" کی ہی نقل اتار لیتے ـ

اداکاری

اسی طرح بڑی فلمیں گہری اداکاری کا تقاضا کرتی ہیں ـ دیے گئے کردار کا اس حد تک حصہ بن جانا کہ کسی دوئی کا احساس باقی نہ رہے ـ اداکاری میں تصنع اور بناوٹ کا ذرا سا بھی شائبہ فلم کو داغ دار کردیتا ہے ـ "دا گاڈفادر" میں جہاں اسکرین پلے اور ہدایت کاری اعلی ہے وہاں مارلن برانڈو کی متین و سرد شخصیت پر مبنی اور الپچینو کی قہر برساتی آنکھوں کا بھی اہم کردار ہے ـ "سرکار" کے امیتابھ بچن اپنی پوری کوشش کے باوجود مارلن برانڈو جیسی فطری اداکاری نہ کرپائے وہ "دیوار" کے اینگری ینگ مین ہی رہے ـ ابھیشک بچن کا ذکر ہی کیا ـ اس معاملے میں ہدایت کار کی نالائقی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ـ اسکرین پلے کی باریکیوں سے واقف ہدایت کار،  اداکار پر واضح کرتا ہے کہ اسے کیا چاہیے ـ جب تک اداکار مطالبے کے مطابق پرفارمنس نہ دے تب تک وہ شاٹ کو اوکے سگنل نہیں دیتا ـ

اداکاری کردار کے مطابق حرکت کرنے کا نام ہے ـ بناوٹی غصیلے چہرے کے ساتھ دس دس آمیوں کو مار گرانا اگر کمال ہوتا تو سلویسٹر اسٹالون کی بہترین فلم "روکی" (1970) کی بجائے سامراجی پروپیگنڈے پر مشتمل "ریمبو سیریز" ہوتیں ـ یا ڈینزل واشنگٹن کا نام "میلکم ایکس" (1992) اور "گلوری" (1989) جیسی شاہکار سنجیدہ فلموں سے روشن نہ ہوتا بلکہ وہ اپنی فضول مار دھاڑ والی تفریحی فلموں سے زندہ رہتے ـ

ایڈیٹنگ

فلم مختلف فن کاروں کی مشترکہ کاوش ہوتی ہے جن کا انچارج ہدایت کار ہے ـ کسی بھی فن کار کی فنی لغزش فلم کو خامی سے دوچار کردیتی ہے ـ سو ہدایت کار کا دیگر فن کاروں کے ساتھ ایک بہترین رابطہ رکھنا لازمی ہے ـ ان فن کاروں میں سے ایک ایڈیٹر ہے ـ

ایڈیٹر کا کام نہایت ہی نازک اور حساس ہوتا ہے ـ وہ ڈیکوپیج کی مکمل ذمہ داری اٹھاتا ہے ـ فلم کی تراش خراش کرکے تقریباً تقریباً اسے نئے سرے سے بناتا ہے ـ شاٹس سے غیر ضروری اشیا کو حذف کرتا ہے،  فاضل شاٹس کو کچرے دان میں پھینکتا ہے،  مختلف شاٹس کو بڑی صفائی سے جوڑتا ہے ـ آواز کا زیروبم ٹھیک کرتا ہے ـ یہ سب کچھ وہ ہدایت کار کی زیرِ نگرانی ہی کرتا ہے لیکن صفائی اور عمدگی اس کا اپنا وصف ہے ـ ایڈیٹر کسی بھی فلم کا پہلا ناقد ہوتا ہے ـ وہ ہر شاٹ کا تنقیدی جائزہ لیتا ہے ـ اس لئے کہتے ہیں عظیم ہدایت کار عظیم ترین ایڈیٹر کی خدمات حاصل کرتے ہیں ـ غالباً اسی لئے بہترین ایڈیٹر مستقبل کے عالی دماغ ہدایت کار بن کر ابھرتے ہیں جیسے ہندی سینما کے قابلِ فخر ہدایت کار "رشی کیش مکھرجی" یا "بمل رائے" ـ

ہدایت کار شبانہ روز محنت کرنے کے بعد ایک اچھی فلم بنانے میں گر کامیاب ہو بھی جائے اگر اسے ایڈیٹر اچھا نہ ملے تو ساری محنت غارت ہو جائے گی ـ

سینماٹو گرافی

ایک نااہل سینما ٹو گرافر کے ساتھ بہترین فلم نہیں بن سکتی ـ سینما ٹو گرافر ہدایت کار کے مطالبے پر اس کے نظریے کے مطابق فریم بناتا،  زاویوں کو ترتیب دیتا ہے،  ایکسٹریم لانگ،  لانگ،  میڈیم،  شارٹ اور کلوز اپ وغیرہ کو باریکی سے دیکھتا ہے مبادا کوئی غیر ضروری شے تو درمیان میں نہیں آرہی ـ سینما ٹو گرافر کسی بھی شاٹ میں کوتاہی کا متحمل نہیں ہوسکتا ـ اس کی کوتاہی سے شاٹ کا مطلب کچھ کا کچھ نکل سکتا ہے ـ مثال کے طور پر کسی جبری گمشدگی کے شکار فرد کی پریشان ماں کو ٹرالی شاٹ کی بجائے لو اینگل شاٹ سے شوٹ کرنا اس ماں کو اندراگاندھی بنا دے گا ـ یا کسی غیر اہم شے کا کلوز اپ لینا ـ غیر اہم شے کے کلوز اپ بھارتی ہدایت کار رام گوپال ورما کا محبوب مشغلہ ہے ـ حیرت ہے سینما ٹو گرافر بھی ان کو نہیں بتاتا؛  جناب یہ کیا حماقت ہے؟ ـ

 بہرکیف ایک بڑی فلم بنانے کے لئے سینما ٹو گرافر کو نہایت ہی مہارت اور احتیاط کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے ـ اس قسم کے کیمرہ مینوں کی درجنوں مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن ہم ذرا ماضی قریب کی ایک فلم پر اکتفا کریں گے ـ

2019 کی امریکی فلم "1917" کا دلکش ترین شعبہ سینما ٹو گرافی ہے ـ فلم  کے سینما ٹو گرافر  Roger deakins نے مختلف خندقوں اور تیڑھے میڑھے راستوں پر دوڑتے فوجی جوان کو طویل شاٹ پر فلمایا ہے ـ اس دوران وہ خود بھی کیمرہ اٹھائے ان کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہیں ـ اس بھاگ دوڑ میں کسی بھی مقام پر نہ فریم بگڑتا ہے اور نہ ہی وہ کسی غیر ضروری شے کو فلماتے ہیں ـ بلامبالغہ یہ انسان کی فن کاری کا عظیم تجربہ ہے ـ سینما ٹو گرافی کے مروجہ معیار سے بڑھ کر کام ہے جس کے لئے راجر صاحب بلاشبہ تحسین کے مستحق ہیں ـ

یہ تو ہوگئی موٹی موٹی باتیں ـ ساؤنڈ مکسنگ،  سیٹ ڈیزائننگ،  کاسٹیوم ڈیزائننگ،  میک اپ،  وی ایف ایکس،  موسیقی الغرض فلم کا ہر شعبہ فنی مہارت کا حامل ہو تب جاکر ایک فلم "عظیم ترین" فلموں کی فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہے ـ اس مختصر تحریر میں فرداً فرداً ہر شعبے پر تفصیلی بحث ممکن نہیں ہے ـ اس لئے بات کو یہاں چھوڑ دیتے ہیں ـ

آخری بات

تفریح اور منافع کی غرض سے بنائی جانے والی فلم میں اول سنجیدگی کا عنصر غائب ہوتا ہے ـ دوم ؛  اس قسم کی فلم میں انسانی فن ثانوی جبکہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اول درجے پر رہتا ہے ـ سوم ؛ تفریح اور منافع کے گرد بننے والی فلم میں ایک لگے بندھے فارمولے پر عمل کیا جاتا ہے اس میں کوئی نیا تجربہ کرکے رسک لینے کی کوشش نہیں کی جاتی ـ

اس قسم کی فلموں کو ہم بہترین انٹرٹینمنٹ تو کہہ سکتے ہیں بہترین فلم کا نام نہیں دے سکتے ـ یہ فلمیں فنِ سینما کی ترقی اور فلم بینوں کی فلم شناسی میں بہتری میں کوئی کردار ادا کرنے سے قاصر رہتی ہیں ـ

جدید تر اس سے پرانی