فلمی تنقید نگاری


 ذوالفقار علی زلفی


ہندی سینما کے مقبول اداکاروں میں سے ایک اکشے کمار اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں فرماتے ہیں، "بالی ووڈ کا ایک مسئلہ وہ فلمی ناقد ہیں جو چند سو روپے کی ٹکٹ خرید کر محض اپنے اخبار کا پیٹ بھرنے کے لیے فلم کے متعلق الٹا سیدھا لکھ کر فلم بینوں کو گمراہ اور فلم کو فلاپ کروا دیتے ہیں"ـ

ایک انٹرویو میں ہندی سینما کے سپراسٹار شاہ رخ خان نے غصیلے لہجے میں فرمایا، "بھارت میں روئے زمین کے نااہل ترین شخص کو فلمی ناقد کہا جاتا ہے" ـ

پاکستان میں بھی فلمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ایک گروہ کا ماننا ہے پاکستانی سینما کے زوال میں بدنیت فلمی ناقدین کا بھی کردار ہے جو اپنی منفی رائے سے فلم بینوں کو گم راہ کرتے رہتے ہیں ـ

بعض افراد یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وہ افراد جو کبھی فلم پروڈکشن کا حصہ نہیں رہے ـ جنھوں نے کبھی کوئی فلم نہیں بنائی یا بنانے میں حصہ نہیں لیا انھیں فلموں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے ـ وہ سمجھتے ہیں تنقید پر صرف فلمی شعبے سے عملی طور پر جڑے افراد کا ہی اجارہ ہونا چاہیے ـ

فلمی تنقید تقریباً ہر ملک کے فلم سازوں کے لیے مسئلہ رہا ہے ـ امریکا میں جب تیس کی دہائی میں فلمی تنقید ایک مضبوط صورت میں سامنے آئی تو فلم سازوں کی اکثریت گھبرا گئی ـ فلم سازوں نے معروف ناقدین کی خوش نودی حاصل کرنے کی کوششیں شروع کردیں تانکہ وہ فلم پر کوئی منفی رائے دے کر اس کی کامیابی میں رخنہ انداز نہ ہوں ـ فلم سازوں کی یہ کوششیں کبھی کامیاب تو کبھی ناکام رہیں ـ

دوسری جانب فلمی تنقید کا شعبہ روز افزوں ترقی کرتا گیا ـ چالیس کی دہائی میں مغربی ممالک میں فلمی تنقید کو باقاعدہ سینما کا ایک موثر شعبہ تسلیم کرلیا گیا ـ تنقید سکھانے کے بڑے بڑے ادارے قائم کیے گئے ـ

تنقید کے شعبے نے سینما پر دُور رس اثرات مرتب کیے ـ مغربی بالخصوص امریکی سینما کی ترقی میں ایک اہم کردار ان ناقدین کا بھی ہے جنھوں نے فلم کے مختلف پہلوؤں کو نہ صرف تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ فلم کو سمجھنے اور سمجھانے کے نئے نئے راستے بھی سجھائے ـ

فلم سازی جو پہلے صرف عوام کی تفریح کا ذریعہ تھی، وہ دانش وروں اور ماہرین کی توجہ کے بعد ایک علمی شعبے کا روپ دھار گئی ـ فلم کی زبان اور گرائمر پر کتابیں لکھی گئیں ـ فلم کے نظریے اور پیش کش کو مختلف سماجی و سیاسی تحریکات کی روشنی میں پرکھا جانے لگا ـ گلوبلائزیشن، مذہبی تصورات و عقائد، فیمنزم، نیشنلزم، سرمایہ داریت اور مارکسزم وغیرہ کی روشنی میں فلم کے تجزیے کیے جانے لگے ـ سیمیاتی تجزیہ کاروں نے فلم کی ساخت اور تعبیری معنوں کو موضوعِ بحث بنایا ـ فلمسازوں اور ناقدین کے درمیان مناقشہ بھی برقرار رہا ـ اس میں کوئی شک نہیں بعض ناقدین نے فلم سازوں کی ایما پر بری فلموں کو بہترین اور اچھی فلموں کو متنازع بنانے کی کوششیں کیں لیکن ان کوششوں کو بعد ازاں سنجیدہ ناقدین کی جانب سے ناکام بھی بنایا گیا ـ

بعض ناقدین نے اپنے اپنے ممالک میں فلمسازی پر اثر انداز ہوکر اس کا نظریاتی راستہ بھی بدلا ـ یہ بدلاؤ گاہے منفی اور گاہے مثبت صورت میں سامنے آیا ـ جیسے چالیس کی دہائی کے ہندوستان میں قدامت پسند اور طاقت ور فلمی ناقد بابو راؤ پٹیل کی تحریروں کے خوف سے فلم ساز کوشش کرتے تھے کہ "اعلیٰ ہندوستانی اقدار" کے خلاف کوئی فلم نہ بنے ـ تاہم پھر بھی وہ پٹیل کا نشانہ بن جاتے تھے ـ

اطالوی فاشسٹ سینما یا ایران کے تفریحی سینما میں نظریاتی تبدیلی لانے میں بھی اہم ترین کردار ناقدین کا ہی رہا ہے ـ ان ناقدین نے فلموں کی نظریات اور ساخت کو نشانہ بنایا ـ ناقدین کی رائے نے رفتہ رفتہ فلم بینوں کو متاثر کرنا شروع کیا جس کے نتیجے میں فلموں کی نظریاتی ساخت میں تبدیلی آنی شروع ہو گئی ـ

ایسا نہیں ہوتا کہ ایک سنجیدہ فلمی ناقد فلم کے متعلق کچھ نہیں جانتا ـ سینما کو سمجھے بغیر ایک عام تبصرہ کرنا تو ممکن ہے لیکن سنجیدہ تنقید ناممکنات میں سے ہے ـ یہ ایسا ہے کہ ایک عام شخص غالب کی غزلوں پر کوئی عام تبصرہ تو کرسکتا ہے لیکن اس پر سنجیدہ تنقید صرف ادب اور اس کے جملہ معاملات سے آگاہ شخص ہی کرنے کا اہل ہوتا ہے ـ

فلمی تنقید نگار سینما کو سمجھتا ہے ـ وہ مسلسل فلمیں دیکھتا اور ہر شاٹ، سین اور سیکوینس کو تنقیدی نگاہ سے پرکھتا ہے ـ اسے سینما کی تاریخ کا کلی نہ سہی البتہ خاصا علم ہوتا ہے ـ دانش ورانہ سطح پر سینما کا تجزیہ کرنے والا دنیا بھر کے سیاسی و سماجی نظریات اور ان کے سینما پر مرتب ہونے والے اثرات سے بڑی حد تک واقف ہوتا ہے ـ تنقید نگاری کوئی ایسا کام نہیں ہے جسے شاہ رخ خان یا اکشے کمار نااہل ترین افراد کا شعبہ قرار دیں ـ

ایک فلمی ناقد تحریر کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے ـ اس سے عملی کام کی توقع رکھنا ہی فضول ہے ـ چند استثنا کے سوا دنیا کے بڑے بڑے فلمی نظریہ دان، تجزیہ کار اور تنقید نگار عملی شعبے سے تعلق ہی نہیں رکھتے تھے ـ اب بھلا کوئی بتائے کرسٹین میٹز (Christian metz) نے کون سی فلم بنائی ہے؟ پھر بھی ان کی کتابیں فلمی نصاب کا حصہ ہیں ـ البتہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ متعدد ناقدین بعد میں اچھے ہدایت کار بن کر سامنے آئے ـ

تنقید نہ صرف سینما کی رہنمائی کرتی ہے بلکہ وہ عوام کی فلم بینی میں بہتری اور فلم شناسی میں بھی ان کی مدد کرتی ہے ـ تنقیدی سرگرمی سے ہی سینما ترقی کرتا اور آگے بڑھتا ہے ـ سینما سماج اور اس کے اراکین پر اثرانداز ہوتا ہے ـ یہ پروپیگنڈے کا مؤثر ترین آلہ ہے ـ اسے محض اداکاروں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا اور نہ عوام دشمن سیاسی جماعتوں و سرمایہ داروں سے غذا لینے والے ہدایت کاروں کے حوالے کیا جا سکتا ہے ـ

جدید تر اس سے پرانی