سینما اور نظریہ مصنف



ذوالفقار علی زلفی

انسانی تاریخ میں بعض افراد اور واقعات ایسے بھی گزرے ہیں جن سے وابستہ فکر و عمل نے صدیوں تک انسانی زندگی پر اپنے اثرات مرتب کیے۔ سینما کی تاریخ بھی ایسے ہی افراد اور ان کے تفکرات سے بھری پڑی ہے جنھوں نے دنیا بھر کے سینماؤں کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ مختلف ممالک میں فلم شناسی کے مباحث کو نئے نئے زاویوں سے آشنا کیا۔

ان مباحث میں سے ایک "فلم کا حقیقی تخلیق کار کون ہے؟" تھا۔ آج کی دنیا میں اس سوال کا جواب یقیناً سادہ اور دوٹوک ہو گا کہ "ہدایت کار" ـ ایسا لیکن ہمیشہ سے نہ تھا۔

سینما کے اوائل میں جب کیمرہ، ٹیکنالوجی، ہدایت کاری اور اداکاری ابھی محض خام تھے۔ فلموں میں آواز کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ فلم اپنے لکھنے والے کے نام سے پہچانی جاتی تھی۔ وہ اسکرین رائٹر ہی تھا جسے فلم کا خالق مانا جاتا تھا۔

اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اواخر میں جب فلموں کو گویائی ملی تو امریکہ میں صورت حال بتدریج بدلتی گئی۔ امریکہ میں عمومی سطح پر فرض کر لیا گیا کہ فلموں کی ساخت، انداز اور مفہوم کی مکمل ذمہ داری ہدایت کار پر عائد ہوتی ہے اور وہی فلم کا حقیقی خالق ہے۔

یورپ بالخصوص فرانس یہ ماننے کو تیار نہ ہوا۔ یورپ میں بھی خاموش فلموں کے دور کو اسکرین رائٹر کے نام سے معنون کیا جاتا تھا۔ ناطق دور میں بھی امریکا کے برعکس یورپ اسی ڈگر پر چلتا رہا، فلم لکھاری کی تخلیق ہی مانی جاتی رہی۔

 آندرے بازن (Andre Bazin) غالباً وہ پہلے یورپی نقاد تھے جنھوں نے اس طے شدہ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ آندرے بازن فرانس کے ایک مؤثر فلمی ناقد تھے۔ انھووں نے چالیس کی دہائی کے وسط میں اپنے ایک مضمون میں مصنف کو خالق ماننے والے تفکر کو "نظریہ مصنف" قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انھوں نے دلائل دے کر اعلان کیا کہ فلم کا حقیقی خالق صرف اور صرف ہدایت کار ہے۔ ان کے اس اعلان نے فرانس سمیت یورپ بھر کے فلمی حلقوں کو چونکا دیا۔ اٹلی میں اس اعلان کا شدید ردِعمل آیا۔ اطالوی ناقدین نے آندرے کو امریکا نواز قرار دے کر ان کی رائے کی قدر گھٹانے کی کوششیں بھی کیں۔

اسی دوران ایک اور معروف فلمی ناقد آندرے کی حمایت میں سامنے آئے، یہ الیگزینڈر آسٹارچ (Alexandre astruc) تھے ـ الیگزینڈر بنیادی طور پر ایک ناول نگار اور صحافی تھے۔ بعد میں وہ فلمی تنقید کی جانب آئے پھر رفتہ رفتہ ایک ہدایت کار کی صورت سامنے آئے۔ جس زمانے میں یہ بحث چل رہی تھی، اس وقت ان کی شہرت ایک ناول نگار اور فلمی ناقد کی تھی، ہدایت کاری بعد کا واقعہ ہے۔ الیگزینڈر نے "قلم - کیمرہ" کا نظریہ پیش کیا جو آج بھی ہدایت کار کی حمایت میں ثابت قدمی سے برقرار ہے۔

الیگزینڈر نے اپنے مضمون میں مؤقف اختیار کیا کہ جس طرح ایک مصنف قلم کے ذریعے اپنے احساسات اور تفکرات کو بیان کرتا ہے، عین اسی طرح ایک ہدایت کار کیمرے کو قلم کا روپ دے کر اپنے احساسات اور نظریات کو دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی، فلم کا حصہ بننے والے دیگر فنون بشمول اداکاری محض ہدایت کار کے اوزار ہیں جنھیں وہ اپنے مقصد کے لیے اپنی صوابدید کے مطابق استعمال کرتا ہے۔

1951 کو آندرے بازن اور فرانس کے دوسرے اہم فلمی ناقد ژاک ڈونیل والکروز (Jacques doniol-valcroze) نے مل کر ایک فلمی میگزین (Cahiers du cinema) کی بنیاد رکھی۔ اس میگزین نے نہ صرف "نظریہ مصنف" پر بھرپور وار کیے بلکہ فنِ سینما بالخصوص فرنچ سینما کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس میگزین کا شمار آج بھی دنیا کے چند معتبر ترین فلمی پرچوں میں کیا جاتا ہے۔

آمدم برسرِ مطلب؛ دوسری جانب نوجوان فرنچ لکھاریوں نے بھی اس میگزین کا رخ کرکے "نظریہِ مصنف" کی حمایت میں لکھنا شروع کردیا۔ یہ میگزین "نظریہ مصنف" کے رد و قبول کا اکھاڑہ بن گیا۔

بالخصوص نوجوان فلم ناقد فرانسوا ٹروفوٹ (Francois Truffaut) نے اپنے ایک مضمون کے ذریعے آندرے اور الیگزینڈر کے تفکر کی دھجیاں اڑا دیں۔ ٹروفوٹ ہالی ووڈ فلم اسٹائل کے شدت سے مخالف تھے۔ وہ نہ صرف فکری لحاظ سے اطالوی نوحقیقت پسندی کے حامی تھے بلکہ وہ سوویت یونین کی مارکسی فلم تھیوری کو بھی اپنانے کا پرچار کرتے تھے۔ بعد میں انھوں نے اپنے نظریے کے مطابق بہترین فلمیں بھی بنائیں، انھیں فرنچ موجِ نو کے بانیوں میں گنا جاتا ہے۔ انھوں نے "نظریہ مصنف" کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسکرپٹ کے بغیر فلم بن ہی نہیں سکتی، اسکرپٹ ہی فلم کی بنیاد ہے۔ انھوں نے فرنچ فلموں کا حوالہ دے کر کہا کہ فرنچ فلموں کے اسکرپٹ فرانسیسی لوک کہانیوں اور قابلِ قدر ادیبوں کے ناولوں سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ ہدایت کار محض ٹیکنالوجی کا سہارا لے کر ان کہانیوں کو کرداروں کے ذریعے اسکرین پر دکھاتا ہے۔ ان کے مطابق ہدایت کار محض سیٹ ڈیزائن کرتا ہے، لہٰذا وہ کسی بھی صورت فلم کا خالق نہیں ہو سکتا۔

ٹروفوٹ کی یہ رائے متعدد نوجوان فلم ناقدین نے اچک لی۔ اس رائے کی بنیاد پر نوجوان فلم ناقدین "نظریہ مصنف" کے دفاع میں اس حد تک آگے نکل گئے کہ انھوں نے ہدایت کار کو اضافی قرار دے دیا۔

ٹروفوٹ کی حمایت میں ایک اور نوجوان فلم ناقد جین لوک گُدارد ( Jean-Luc godard) بھی خم ٹھونک کر میدان میں آئے۔ انھوں نے ان امریکی ہدایت کاروں کو اصلی تخلیق کار قرار دیا جو اپنی فلموں کے اسکرین پلے اور مکالمے خود لکھتے ہیں۔ گدارد بھی ٹروفوٹ کی مانند ہالی ووڈ فلموں کے انداز کے منتقد تھے اور فرنچ سینما کو اپنا الگ راستہ اختیار کرنے کا پرچار کرتے تھے۔ گدارد کا فلمی نظریہ مارکسزم اور کیتھولک مسیحیت کا مرکب تھا جو بعد ازاں ان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلموں میں بھی سامنے آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بحث میں حصہ لینے والے بیشتر فلم ناقدین بعد ازاں نہ صرف پراثر ہدایت کار بنے بلکہ انھوں نے فرنچ موج نو (French New Wave) کی بھی بنیاد رکھی جس نے ایک عالم کو متاثر کیا۔
فرنچ میگزین Cahiers du Cinema کے نوجوان منتقدین کے مؤقف کو ایک اور فرنچ میگزین positif کی بھی مکمل حمایت حاصل تھی۔ 1952 سے شائع ہونے والا میگزین پوزیتیف ( positif) کی شناخت ایک مارکسی فلمی میگزین کی تھی۔ مارکسی میگزین "نظریہِ مصنف" کی حمایت تو کرتا تھا لیکن اس میں اور نوجوان فلمی ناقدین کے نظریات کاملاً یکساں نہ تھے۔ پوزیتیف (positif) صرف ان اسکرپٹ رائٹرز کو فلم کا خالق تصور کرتا تھا جو اپنے فلموں کی ہدایات بھی خود دیں۔

پچاس کی دہائی کے وسط میں یہ بحث یورپ بھر کے فلمی حلقوں میں پھیل گئی۔ "نظریہ مصنف" کے سخت گیر حامی حلقوں نے ہالی ووڈ کے بڑے بڑے ہدایت کاروں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ چاہتے ہیں فلمیں ان کے نام سے شناخت کی جائیں تو وہ اسکرپٹ لکھنے پر توجہ دیں، گر اسکرپٹ لکھنا ممکن نہ ہو تو اپنے ذاتی خیالات کو اسکرین پر پیش کردیا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے امریکی ہدایت کاروں پر الزام دھرا کہ وہ دوسروں (اسکرپٹ رائٹر) کی محنت کو اپنے نام کرکے ظلم و زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں۔ اس شور میں آندرے بازن اور الیگزینڈر جیسے ناقدین کی آواز دب کر رہ گئی۔

معروف فلمی تاریخ دان اور Film history an introduction کے مصنف ڈیوڈ بورڈول (David bordwell) کے مطابق یورپ میں چلنے والی اس بحث نے ساٹھ کی دہائی میں امریکی فلمی حلقوں کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا۔ امریکا کے اہم ترین فلمی ناقدین میں سے ایک انڈریو ساریس ( Andrew sarris) "نظریہ مصنف" کی حمایت میں مزید دلائل لے کر آ گئے۔
ساریس نے اپنے مضمون Notes on the auteur theory  میں امریکی ہدایت کاروں کی تخلیقی صلاحیتوں پر سوال اٹھایا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی کتاب "American Cinema: Directors and Directions 1929–1968" میں فلم میں ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹرز کے کردار کا بلیغ تجزیہ پیش کرکے اسکرپٹ رائٹر کو حقیقی خالق گردانا۔ 1968 کو شائع ہونے والی یہ کتاب آج بھی فلم میں اسکرپٹ رائٹر کے کردار پر اہم دستاویز سمجھی جاتی ہے۔

ساریس کا "نظریہ مصنف" تنہا نہ رہا، اسے امریکا کے متعدد فلم ناقدین نے اپنا لیا۔ "نظریہِ مصنف" جو پہلے صرف یورپ بالخصوص فرانس تک محدود تھا، امریکی فلمی حلقوں میں بھی زیرِ بحث آ گیا۔ "نظریہ مصنف" کے امریکی ناقدین نے سویڈن کے عظیم ہدایت کار انگمار برگمن (Ernst Ingmar Bergman) کو مثال بنایا۔ ان کے مطابق برگمن اس اس حوالے سے بہترین مثال ہیں جو اپنی فلموں کے اسکرپٹ خود لکھتے ہیں اور خود ہی ان کو ہدایات دے کر اسکرین پر پیش کرتے ہیں، برگمن کا مصنف ہونا نہ صرف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشتا ہے بلکہ اس سے ان کی فلموں کی ساخت بھی ان ہدایت کاروں کی نسبت زیادہ مضبوط اور منفرد نظر آتی ہے جو دوسروں کی تخلیق پر ہاتھ صاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق برگمن کی فلموں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سماج اور اس کے جملہ معاملات کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سماجی مسائل کے حل کے حوالے سے ان کا نکتہِ نظر کیا ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا ایک ایسا ہدایت کار جو کہانی نویس نہیں ہے، بھلا اس کے نکتہِ نظر کی وضاحت محض سیٹ ڈیزائننگ سے کیسے کی جا سکتی ہے؟ ان کے مطابق فلم اگر ناول کی طرح ایک تخلیقی شے ہے اور اس کا تجزیہ فلمی متن سے ہی کیا جا سکتا ہے تو اس کا حقیقی تخلیق کار مصنف ہی ہو سکتا ہے نہ کہ ہدایت کار۔

"نظریہ مصنف" کے امریکی حامیوں کا دعویٰ تھا کہ ایک ہدایت کار اپنی زندگی میں صرف ایک فلم بناتا ہے، اس کے بعد وہ اپنے پورے کیریئر میں اسی فلم کو دہراتا رہتا ہے۔ اس کی تصاویر، کیمرہ اینگلز، موضوعات، انداز الغرض ہر شئے میں یکسانیت آجاتی ہے۔ اس کے برخلاف مصنف کے موضوعات میں تنوع ہوتا ہے۔

فرنچ ناقدین کے مطابق مصنف، نقاش یا مجسمہ ساز کی تخلیقات کے تجزیے میں اہم یہ نہیں ہوتا وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کیوں کہ ممکن ہے اس سے پہلے متعدد فن کار اس موضوع پر اپنی رائے دے چکے ہوں، بلکہ اہم یہ ہے؛ وہ اپنی رائے کو کس طرح بیان کر رہا ہے۔ "نظریہ مصنف" کے فرنچ علم برداروں نے اس دلیل کی بنیاد پر بعض ایسے ہدایت کاروں کو بھی تخلیق کاروں میں گنا جن کا کام کسی مخصوص انداز کے باعث منفرد ہے جیسے میز این سین (Mise-en-scene) میں نئی نئی اختراع کرنے والے جرمن ہدایت کار و اسکرپٹ رائٹر میکس اپولس (Max Ophuls) یا مونتاژ (Montage) ہدایت کار الفرڈ ہچکاک ( Alfred Hitchcock) اور سرگئی آئزنسٹائن (Sergei Eisenstein) ـ

ہدایت کار اور مصنف کی اس بحث نے نہ صرف امریکی سینما پر دور رس اثرات مرتب کیے بلکہ متعدد امریکی ہدایت کاروں نے اسکرین پلے لکھنے پر توجہ دی تاکہ وہ اپنی خلاقیت ثابت کرسکیں۔ اس صورت حال نے فلموں کی ہیئت ہی بدل دی۔ اس بحث نے آرٹ فلموں کی راہ ہموار کر دی اور ایسے ہدایت کاروں کی فلمیں جو خود مصنفین رہے ہیں، انھیں سینما میں ایک منفرد مقام ملا اور ان کی فلموں کو دوسرے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان ہدایت کاروں میں انگمار برگمن (سویڈن)  ستیہ جیت رے (بھارت) اور اکیرا کوروساوا (جاپان) وغیرہ شامل ہیں۔

بدلتے وقت کے تقاضوں کے باعث 80 کی دہائی میں یہ بحث دم توڑ گئی اور فلم کی تخلیق پر ہدایت کار کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔ تاہم سینما کی تاریخ میں یہ بحث اور اس کے نتیجے میں فرانسیسی موجِ نو اور آرٹ فلموں کی پیدائش، سینما کی ترقی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔

جدید تر اس سے پرانی