بڑی فلم ــــ مصالحہ فلم

 ذوالفقار علی زلفی


ہندی سینما کے عظیم ہدایت کار راج کپور نے ایک دفعہ کہا تھا "فلم بند مٹھی کا کھیل ہے، جہاں آپ کو آخری لمحے تک پتہ نہیں چلتا مٹھی سے کیا برآمد ہوگا" ـ

درج بالا جملے میں راج کپور دراصل یہ کہنا چارہے تھے کہ فلم سازی میں کثیر مالی سرمایہ لگتا ہے اور ہر فلم ساز کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے سرمائے کو منافع کے ساتھ وصول کرے لیکن بعض اوقات فلم سینما پر لگ تو جاتی ہے مگر فلم بینوں کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی، نتیجہ یہ منافع دور لگا ہوا سرمایہ بھی ڈوب جاتا ہے ـ

فلم اور سرمائے کے اس تعلق نے سینما کو ہمیشہ دو دھاروں میں تقسیم کیے رکھا ـ

ایک دھارا وہ ہے جو سمجھتا ہے فلم کو اتنی توانائی فراہم کی جائے جو سرمائے کی واپسی کو بشمول منافع یقینی بنائے اس کے ساتھ ساتھ اسے فن کا ایک ایسا زندہ جاوید شہکار بھی بنایا جائے جسے فلم بین مدتوں یاد رکھیں ـ

دوسرا دھارا ان فلم سازوں کا ہے جن کے نزدیک فن ثانوی اور منافع اولین درجہ رکھتا ہے ـ اس قسم کے فلم سازوں کی مکمل توجہ سرمائے بشمول منافع واپسی پر رہتی ہے ـ

پہلا دھارا فن اور تفریح کے متوازن مرکب پر یقین رکھتا ہے ـ ان کے مطابق اگر فن اور تفریح کو متوازن رکھا جائے تو سرمائے کی واپسی ممکن ہے جب کہ دوسرا دھارا اس سے اتفاق نہیں کرتا اس کے مطابق تفریح ہی وہ واحد عنصر ہے جو فلم کو کامیاب بناتا ہے ـ

اپنی بات کو واضح کرنے کے لئے ایک سامنے کی مثال دینا چاہوں گا ـ ہندی فلم "ڈرٹی پکچر" (2011) کا کردار ابراہم (عمران ہاشمی) فلم میں فن اور تفریح کے درمیان توازن کا قائل ہے، اُس کے نزدیک سستی تفریح فن کا گلا گھونٹ کر فلم بین کو وقتی نشہ فراہم کرتا ہے جب کہ سِلک/ریشما (ودیا بالن) تفریح کو مقدم رکھنے کی قائل ہے اس کے مطابق صرف تفریح ہی کامیاب فلم کی ضمانت ہے ـ  یہاں سنجیدہ اور سستی تفریح کی بھی ایک بحث پیدا ہو جاتی ہے جو دوسرے دھارے کو مزید دو ذیلی دھاروں میں تقسیم کردیتی ہے ـ فی الوقت سنجیدہ اور سستی تفریح کی بحث موضوع سے خارج ہے ـ

سینما کی تاریخ میں دوسرے دھارے یا نکتہ نظر کے حامل افراد کی ہمیشہ سے اکثریت رہی ہے ـ بیشتر فلمیں تفریح اور منافع کو سامنے رکھ کر ہی بنائی گئی ہیں ـ ان میں سے اکثر فلمیں اپنے زمانے میں کمائی کے لحاظ سے بلاک بسٹر ثابت ہوئی ہیں لیکن آج وہ وقت کی دھول میں کھو چکی ہیں، کوئی ان کا نام بھی نہیں جانتا یا اگر جانتا بھی ہے تو دیکھنا پسند نہیں کرتا ـ

تفریح اور منافع کے گرد بنائی جانے والی فلموں میں بلا ضرورت جنسی مناظر، مردانہ بصری لذت کو تسکین پہنچانے والی عریانی، ہیرو ازم ابھارنے والے مار دھاڑ،  فارمولا رومانس اور سستے مزاح کا سہارا لیا جاتا ہے ـ اس قسم کی فلموں میں فلم بینوں کو کوئی مثبت پیغام دینے یا کسی سماجی مسئلے پر غور و فکر کی دعوت دینے کے بجائے محض لذت فراہم کرنا مقصود ہوتا ہے ـ عموماً مارکیٹ پر انہی فلموں کا قبضہ رہتا ہے ـ ان کو مقبول فلمیں یا عام زبان میں مصالحہ فلمیں کہا جا سکتا ہے ـ

دوسری جانب وہ فلمیں جو فن اور تفریح کے درمیان توازن برقرار رکھتی ہیں وہ عموماً کمائی کے لحاظ سے بلاک بسٹر کا درجہ پانے سے محروم رہ جاتی ہیں ـ ایسا نہیں کہ اس قسم کی فلم منافع نہیں کماتی، کماتی ہے البتہ اس کے منافع کی شرح کم رہتی ہے ـ  بعض اوقات وہ بلاک بسٹر بھی بن جاتی ہے ـ  یہی وہ فلم ہے جو سینما کی تاریخ میں اپنا نام ثبت کروا کر "عظیم ترین فلموں" کی فہرست میں شامل ہونے کی حق دار کہلاتی ہے ـ

بڑی فلم وہ نہیں ہوتی جو صرف مصالحہ فراہم کر کے کروڑوں کمائے ـ وہ محض ایک لمحاتی لذت بخش تجربہ ہے ـ ایک وقتی انٹرٹینمنٹ ـ ایک عظیم فلم میں سینما کے فن کی ایک ایک جزئیات کا باریکی سے خیال رکھا جاتا ہے ـ  ہدایت کاری، اسکرین پلے، مکالمے، اداکاری، صوتی اثرات، روشنی، کاسٹیوم، منظر نگاری اور فلم بینوں کو پیغام دینے سمیت ہر جملہ چیز کا بڑی احتیاط  کے ساتھ خیال رکھا جاتا ہے ـ  جیسے شہرہ آفاق ہدایت کار ڈیوڈ لین ( David lean) نے اپنی بہترین تخلیقات میں سے ایک "The bridge on the river kwai" میں صرف ایک غروبِ آفتاب کا منظر فلمانے کے لیے ہفتوں سفر کیا ـ یہی وجہ ہے ڈیوڈ لین کی فلمیں "ڈاکٹر ژواگو" (1965) ، "لارنس آف عربیہ" (1962)  وغیرہ آج دہائیاں گزر جانے کے باوجود زندہ اور تابندہ ہیں ـ یہ فلمیں فن اور سنجیدہ تفریح کے ساتھ ساتھ مقصدیت کی بھی حامل ہیں اور یقیناً باکس آفس پر بھی کامیاب رہی ہیں ـ

یہ سمجھنا کمائی کے لحاظ سے ہر بلاک بسٹر سپرہٹ بڑی فلم بھی ہوتی ہے، سینما سے ناواقفیت کے سوا کچھ نہیں ہے ـ اپنی بات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان کا رخ کرنا چاہوں گا ـ

کمائی کے لحاظ سے ہندی سینما کی پہلی بلاک بسٹر سپرہٹ فلم "قسمت" (1943) کو قرار دیا جاتا ہے جس نے ریکارڈ کمائی کی ـ "قسمت" کے اس ریکارڈ کو دہائیوں بعد فلم "شعلے" (1975) نے توڑا ـ  سینما کا شاید ہی کوئی سنجیدہ ناقد ان دونوں فلموں کو "عظیم فلموں" کی فہرست میں شمار کرنے کی حماقت کرے ـ اس کے برعکس "دو بیگھ زمین" (1953)، "اپور سنسار" (1959)، "پاکیزہ" (1972)، "مغلِ اعظم" (1960)، "آوارہ" (1951)، "پاتھر پنچالی" (1955)، "پیاسا" (1957)، "مدر انڈیا" (1957) وغیرہ "قسمت" اور "شعلے" کی مانند باکس آفس کے ریکارڈ تو توڑ نہ پائیں لیکن وہ آج بھی اپنے معیاری فن کے باعث ہندوستانی سینما کی عظیم ترین تخلیقات میں گنی جاتی ہیں ـ

اسی طرح عالمی ادارے وقتاً فوقتاً مختلف فلمی ناقدین اور تجزیہ نگاروں کی آرا لے کر عظیم ترین فلموں کی فہرست جاری کرتے رہتے ہیں ـ ان فہرستوں میں شاذ ہی کبھی "اوینجر" ، "اسٹار وار" ، "اسپائڈر مین" "اوتار" ، یا "ہیری پوٹر" کا نام شامل ہو گا حالاں کہ یہ وہ فلمیں ہیں جنھوں نے دنیا بھر کے باکس آفس پر "فتح" کے جھنڈے گاڑے ـ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ فلمیں یا اس قبیل کی دیگر فلمیں محض تفریح و منافع کی غرض سے بنائی گئی ہیں ـ تفریح دی،  منافع وصول ہوا،  قصہ ختم ـ

جیسے کہ کہا جا چکا ہے لازمی نہیں ہے ہر باکس آفس بلاک بسٹر سستی تفریح فراہم کرتی ہو ـ بعض اوقات سخت فنی معیار کی کسوٹی پر پورا اترنے والی فلمیں بھی کروڑوں کما لیتی ہیں جیسے 1997 کی"Titanic" یا 1939 کی "Gone with the wind" ـ  خود راج کپور جن کے جملے سے بحث کا آغاز کیا گیا تھا فن کا بے انتہا خیال رکھتے تھے، انھوں نے نت نئے تجربات بھی کیے جیسے فلم "آوارہ" میں ڈریم سیکوینس کا کامیاب استعمال، ان کی فلمیں بھی باکس آفس پر کامیاب ہوا کرتی تھیں ـ

سخت فنی معیار پر پورا اتر کر تفریح فراہم کرنے والی فلم اور خالص مقصدیت کے گرد بنائی گئی فلمیں دو جدا جدا چیزیں ہیں ـ جیسے "دو بیگھ زمین" ( 1953) اور "پار" (1984) دونوں محنت کشوں کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتی ہیں لیکن "پار" ایک خالص مقصدیت کو سامنے رکھتی ہے ـ  دوسری جانب "دو بیگھ زمین" مقصدیت اور تفریح کا مرکب ہے ـ "پار" جیسی فلمیں کم سے کم منافعے کا مطالبے کرتی ہیں جبکہ  "دو بیگھ زمین" ایک کمرشل فلم ہے جو مبنی بر انصاف منافع کی طالب ہے ـ

وہ ناقدین جو جنوبی ہندوستان کی "پُشپا" یا "کے جی ایف" جیسی حالیہ فلموں کو کسی بڑے فلمی انقلاب سے تعبیر کر رہے ہیں وہ یاد رکھیں جنوبی سینما نے رجنی کانت جیسے سپر ہیرو کی موجودگی میں بھی جو بہترین فلم پیش کی وہ کمل ہاسن کی "نیاکان" (1987) رہی ہے اور اس فلم نے رجنی کانت کی فلموں کی طرح باکس آفس پر "فتح" کے جھنڈے نہیں گاڑے تھے لیکن اس کے باوجود یہ جنوبی ہند کی اہم ترین تخلیقی پیشکش مانی جاتی ہے ـ رجنی کانت کروڑوں منافع کما کر دینے کے باوجود ایک بھی ایسی فلم اپنے نام نہیں کروا سکے ہیں جسے بڑی فلموں کی فہرست میں رکھا جا سکے، عین سپراسٹار امیتابھ بچن کی مانند ـ سو مقبول عام مصالحہ فلم کبھی بھی ایک بڑی فلم نہیں ہوتی ـ


جدید تر اس سے پرانی

Archive