ہندی سینما پر نئی صدی میں سیاسی سینسرشپ

ذوالفقار علی زلفی

اس صدی کی پہلی دہائی میں بھی ہندی سینما پر شیوسینا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا دباؤ برقرار رہا ـ اس دباؤ کے پسِ پشت آر ایس ایس بھی مکمل طور پر شامل تھی ـ اس کے ساتھ غیرنظریاتی پن اور نیولبرل پالیسی بھی فلموں کی پیشکش پر اثر انداز رہی ـ تاہم پہلی دہائی میں مذکورہ بالا سیاسی گروہوں کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی قوتوں نے بھی فلمی پیشکش پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ـ ذیل میں مختصراً اس دور کے سیاسی سینسر شپ پر بحث کرنے کی کوشش کی گئی ہے ـ 

نئی صدی کی پہلی دہائی میں سب سے پہلا حملہ دیپا مہتہ پر کیا گیا ـ 2005 کی فلم “واٹر” کی شوٹنگ میں روڑے اٹکائے گئے ـ “واٹر” کی شوٹنگ ہندوؤں کے مقدس شہر وارنسی میں ہو رہی تھی ـ فلم کا موضوع ہندو بیواؤں کی کرب ناک زندگی سے متعلق تھا ـ

ہندو قوم پرستوں نے اس فلم کو اپنے مذہب پر حملہ قرار دیا ـ ایک وقت ایسا آیا کہ فلم کی شوٹنگ روک دی گئی ـ تنازعے کی شدت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے مرکزی کرداروں نے فلم ہی چھوڑ دی جیسے اکشے کمار، شبانہ اعظمی اور نندیتا داس ـ فلمی ٹیم کو جان کے لالے پڑ گئے ـ بالآخر دیپا مہتہ نے شوٹنگ کو سری لنکا منتقل کر دیا ـ شدید دباؤ اور مشکلات کے باوجود دیپا مہتہ نے فلم کی شوٹنگ جیسے تیسے کر کے مکمل کر لی ـ مرکزی سینسر بورڈ نے نمائش کی اجازت بھی دے دی لیکن دائیں بازوں کی ہندو تنظیموں نے فلم کو سینما پر لگنے نہ دیا ـ مہاراشٹر پر کنٹرول رکھنے والی شیوسینا اس حوالے سے پیش پیش رہی ـ

دیپا مہتہ کی فلم ابھی شوٹنگ کے مراحل میں ہی تھی کہ شیوسینا کی طلبا تنظیم نے ایک اور فلم کے خلاف میدانِ جنگ سجا لیا ـ 2004 کو کرن رازدان کی فلم “گرل فرینڈ” طوفان کی زد میں آ گئی ـ فلم ایک لزبین لڑکی کے گرد گھومتی ہے ـ شیوسینا کے مطابق ہم جنس پسندی ہندوستانیت اور ہندو تہذیب و ثقافت کے منافی عمل ہے، اس قسم کی فلموں سے بھارتی اقدار و روایات پر ضرب پڑتی ہے ـ متعدد سینما گھروں میں فلم کی نمائش متاثر ہوئی ـ

2005 کو سکھ قوم پرست تنظیموں نے بھی ایک فلم کو بلاسفیمی قرار دے کر اس کی ریلیز کو روکنے کی کوشش کی ـ یہ ہدایت کار راہول راویل کی فلم “جو بولے سو نہال” تھی ـ سکھ قوم پرستوں کا مؤقف تھا کہ فلم کا ٹائٹل ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا رہا ہے ـ ریڈیکل سکھوں نے فلم کے پروٹاگونسٹ سنی دیول کے کردار کو بھی ہدف تنقید بنایا ـ ان کے مطابق یہ کردار سراسر سکھ مذہب کی توہین اور سکھ تعلیمات کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ـ

معتدل سکھ تنظیموں نے فلم کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ میں شدت پسندوں کے اعتراض کو بلاجواز قرار دیا ـ مرکزی سینسر بورڈ نے بھی فلم کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد اسے بےضرر تصور کیا ـ سکھ شدت پسندوں نے عدالت کا رخ کیا ـ وہاں بھی انھیں من پسند جواب نہ مل سکا ـ فلم نمائش کے لیے سینما تک پہنچ گئی ـ دہلی کے دو سینما گھروں میں شو کے دوران بم حملے ہوئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا ـ

ہندوؤں کے بعد سکھ دباؤ نے فلمسازوں کے لیے خطرات بڑھا دیے تھے ـ فلمسازوں کی احتیاط پسندی کے باوجود 2008 کو ایک دفعہ پھر سکھ شدت پسند مشتعل ہو گئے ـ اس دفعہ وجہِ تنازع انیس بزمی کی “سنگھ از کنگ” بنی ـ سکھ شدت پسند تنظیموں نے فلم کے مرکزی کردار اکشے کمار کے امیج کو سکھوں کی توہین سے تعبیر کیا ـ اکشے کمار نے فوراً سکھ تنظیموں سے رابطہ کیا، مذاکرات ہوئے، طویل گفت و شنید کے بعد چند مناظر ہٹائے گئے ـ

مذہبی شدت پسندوں کا دباؤ ہندوؤں اور سکھوں تک ہی محدود نہ رہا ـ نسبتاً معتدل سمجھے جانے والے مسیحی بھی ایک فلم پر آگ بگولہ نظر آئے ـ

2005 کو ونود پانڈے کی فلم “سِن” نے کیتھولک مسیحوں کو مشتعل کر دیا ـ فلم میں ایک پادری کو نوجوان خاتون سے جنسی تعلقات رکھتے دکھایا گیا ہے ـ ایک منظر میں پادری چرچ میں لڑکی سے جنسی عمل کرتا ہے ـ یہ فلم ریاست کیرالہ میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے سے ماخوذ ہے ـ کیتھولک چرچ نے فلم کو مسیحیت کے خلاف سازش قرار دیا ـ ان کے مطابق فلم ان کی مذہبی اقدار اور مقدسات کی توہین کا باعث بن رہی ہے ـ انھوں نے فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ـ بعض ریاستوں نے مسیحی ردِعمل کے پشِ نظر احتیاطاً فلم کی نمائش روک دی ـ

نئی صدی کی پہلی دہائی میں سینما پر صرف مذہبی دباؤ ہی نظر نہیں آتا بلکہ سیاست بھی اس میں شریکِ کار دِکھتی ہے ـ نیو لبرل پالیسی نے چونکہ سرمایہ داریت کو بے لگام کر دیا تھا اس لیے سیاسی جماعتوں اور سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ بھی فلمسازوں پر دباؤ ڈالنے میں پیش پیش رہا ـ اس حوالے سے 2006 کی فلم “فنا” ایک اچھی مثال ہے ـ “فنا” کو دو وجوہات کی بنا پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ـ

اول : اس فلم میں مسئلہِ کشمیر پر بھارت کے ریاستی مؤقف پر تنقید کی گئی ہے ـ دوم: فلم کے مرکزی کردار عامر خان نے ریاستِ گجرات میں بننے والے نرمدا ڈیم کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کر کے ریاست کی ڈیم پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ـ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ڈیم پالیسی کے حامی سرمایہ داروں نے فلم کے مرکزی کردار عامر خان اور ہدایت کار کنال کوہلی کو سبق سکھانے کے لیے فلم کو متنازع بنانے کی کوشش کی ـ گجرات میں عامر خان کی تصویریں نذرِ آتش کی گئیں، ان کی مسلم شناخت کو ایک غیر محبِ وطن کی حیثیت سے پیش کیا گیا ـ فلم کو نقصان پہنچانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدر تنظیم آر ایس ایس نے غیر سرکاری طریقوں سے گجرات میں فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی ـ

“فنا” کے واقعے نے سینما سے وابستہ افراد پر واضح کر دیا کہ ملکی سیاست پر ان کی عوامی رائے گلے پڑ سکتی ہے ـ عامر خان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ عوامی سطح پر اپنے مؤقف سے دستبرداری کا اعلان کریں ـ عامر خان نے معذرت کا راستہ اختیار کرنے سے تو انکار کر دیا تاہم ان سمیت تقریباً تمام ہدایت کاروں و اداکاروں نے مستقبل میں کسی سیاسی مسئلے پر رائے دینے سے گریز کا رویہ اپنا لیا ـ یہ سیلف سینسر شپ کسی نہ کسی سطح پر تاحال برقرار ہے ـ

اس دہائی میں دو اور فلموں کو بھی سیاسی سینسر شپ کا سامنا کرنا پڑا ـ تاہم اس کی شدت نسبتاً کم رہی ـ ان میں سے ایک ماضی کی سپراسٹار مادھوری ڈکشت کی فلم “آ جا نچ لے” ہے جب کہ دوسری ہدایت کار پریادرشن کی “بِلّو” ـ

انیل مہتا کی ہدایت میں بننے والی فلم “آ جا نچ لے” کو دَلتوں کی تحقیر کے الزام کا سامنا کرنا پڑا ـ دلت تنظیموں نے اس فلم کو دلتوں کی دل آزاری کا مرتکب قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ـ دلتوں کے مسلسل احتجاج کے باعث یو پی اور پنجاب میں فلم کی نمائش پر پابندی لگا دی گئی ـ

پریادرشن کی فلم “بِلّو” پر بیوٹی پارلروں کی تنظیم سیخ پا نظر آئی ـ فلم کا نام “بِلّو باربر” تھا جسے بیوٹی پارلرز نے اپنے پیشے کا مذاق اڑانے سے تعبیر کیا ـ انھیں فلم کے بعض مکالموں پر بھی اعتراض تھا ـ پریادرشن نے ان کے اعتراض کو مدِنظر رکھ کر نام اور مکالمے بدل دیے ـ

فلمیں سماج پر اثر انداز ہونے کی پُراثر قوت رکھتی ہیں ـ کتابوں کے برعکس فلمیں سماج کے اس فرد تک بھی پہنچتی ہیں جو کسی نہ کسی وجہ سے کتاب پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہے ـ فلم کی یہ خاصیت حکمران طبقوں سمیت محنت کشوں کو بھی اسے سنجیدہ لینے کی وجہ بن جاتی ہے ـ اس لیے عموماً سماج کے تقریباً تمام طبقات فلم سازی پر اثرانداز ہونے کی حتیٰ المقدور کوشش کرتے ہیں ـ حکمران طبقہ چونکہ باوسائل ہوتا ہے، اس لیے فلموں پر ان کے اثرات نسبتاً گہرے ہوتے ہیں ـ

جدید تر اس سے پرانی

Archive