مونتاژ فلمی تحریک



ذوالفقار علی زلفی


(پہلا حصہ)

سینما کی تاریخ میں سوویت یونین کی "مونتاژ تحریک" ایک ممتاز مقام رکھتی ہے۔ بلا مبالغہ اس کو ایک انقلاب کہا جا سکتا ہے جس نے فلم کی ہیئت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ قبل ازیں کہ اس تحریک پر بحث کی جائے پہلے مختصراً اس کا پسِ منظر جاننے کی کوشش کریں گے۔

روسی سینما

سینما کی ایجاد ایک مشترکہ انسانی کوشش تھی اس لیے اس نئی  اور اس زمانے کے لحاظ سے محیرالعقول چلتی پھرتی تصویروں کو کسی ایک ملک یا قوم سے منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔ سینما اور منافع کے درمیان تعلق نے بعد ازاں مختلف اقوام کے سرمایہ داروں کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا کردی۔ منافع کی جنگ کے باعث پہلی عالمی جنگ کے بعد مختلف مغربی ممالک میں سینما کو صنعت کا درجہ دیا گیا اور اس کو قومیانے کا عمل شروع ہوا۔ سام راجی طاقتوں کے درمیان پس ماندہ و نوآبادی بنائے گئے ممالک کی فلمی مارکیٹوں پر قبضے کے لیے رسہ کشی شروع ہو گئی۔ اس موضوع پر کسی اور نشست میں تفصیل سے بحث کرنے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال روس پر بات کریں گے۔

زار کے روس نے بھی سینما کو قومی بنانے کی کوشش کی۔ زار روس لیکن اپنی تمام کوششوں کے باوجود روسی سینما کو اس قدر ترقی نہ دے پائے کہ وہ بیرونی فلموں کی یلغار کا راستہ روک سکے۔ زار کی ناکامی کا ایک سبب ملک میں جاری کمیونسٹ تحریک بھی تھی جس نے حکومت کو سینما کی ترقی پر کماحقہُ توجہ دینے کا موقع نہ دیا۔ انقلابی تحریک کی وجہ سے ایک دوسری افتاد یہ آن پڑی؛ روسی فلم کمپنیوں نے رفتہ رفتہ ملک سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کردیا۔ کمپنیاں فلم کی تیاری میں استعمال ہونے والے ساز و سامان کو بھی ملک سے باہر لے گئیں۔ بدلتی سیاسی صورت حال نے سینما کی ترقی درکنار اس کو زوال کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔

اکتوبر 1917 کو روس میں کمیونسٹ انقلاب آ گیا۔ انقلاب کوئی پرامن انتقالِ اقتدار کا عمل نہ تھا۔ یہ ایک پُرتشدد سرگرمی تھی۔ بالشویک (سرخ فوج) اور منشویک (سفید فوج)  کے درمیان اقتدار پر قبضے کی جنگ چھڑ گئی جس نے روس کو ایک خوف ناک خانہ جنگی کا شکار بنا دیا۔ اسی خانہ جنگی کے دوران ملک کو بدترین قحط کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

بالشویک انقلابی رہنما ولادی میر لینن نے تمام فنون میں سے سینما کو بہترین پروپیگنڈہ آرٹ قرار دے کر اپنے فن کار کامریڈوں کو اس کی ترقی میں صبح شام ایک کرنے کی ہدایت دی۔ لینن کا ارادہ بھی ایک روسی سینما کا قیام تھا لیکن درج بالا مسائل و مشکلات کی وجہ سے وہ بھی اپنے منصوبے کو فوری طور پر عملی جامہ نہ پہنا سکے۔

انقلابی حکومت کی جانب سے 1918 کو اناتولی لوناچارسکی کی سربراہی میں People's Commissariat for Education نامی ثقافتی و فنی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ـ سینما کی ترقی اسی ادارے کی ذمہ داری قرار پائی۔

فلمی مشینری کی عدم دستیابی، تجربہ کار فلم سازوں کی عدم موجودگی اور سینما ہالوں کی کمی کے باعث یہ ادارہ چند غیرمعیاری فلمیں بنانے کے علاوہ مزید کچھ نہ کرسکا۔ تاریخ دانوں کے مطابق اس ادارے کے زیرِاہتمام زیادہ تر سوشلسٹ لٹریچر پر مبنی مختصر دورانیے کی پروپیگنڈہ فلمیں بنائی گئیں۔ خاص طور پر بالشویک جدوجہد کے حوالے سے دستاویزی فلمیں بنانے پر زیادہ زور دیا گیا۔ اس دوران خانہ جنگی بھی برقرار رہی۔ ایک طرف عوام کے پاس تفریح  کا کوئی ذریعہ نہ تھا دوسری جانب انقلابی حکومت کی کوشش تھی عوام کو تفریحی فلموں کے ذریعے مارکسی تربیت دی جائے۔ مذکورہ فلموں کے ذریعے یہ دونوں مقاصد حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

1919 کو روسی فلمی نظریہ دان و ناقد لو کولشوف ( Lev  Kuleshov) نے اس ادارے کے ساتھ مل کر دنیا کی پہلی فلم انسٹیٹیوٹ کی بنیاد رکھی۔ کولشوف نے نامساعد حالات کے باوجود مستقبل کے بہترین ہدایت کاروں و اداکاروں کی تربیت کی ـ کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ کولشوف نے ٹیکنالوجی اور دیگر مشینری کا حل انسانی محنت سے نکالنے کی کوشش کی اس کوشش نے تدوین کے شعبے میں "مونتاژ" کو دریافت کیا جس نے آگے چل کر ایک تحریک کی صورت اختیار کرکے سینما کو ہی بدل دیا۔

 مشینری کی عدم دستیابی کا مسئلہ تاہم ایک عرصے تک حل نہ ہو سکا۔ مشینری پر سرمایہ دار ممالک کی اجارہ داری تھی اور وہ ایک کمیونسٹ ملک کے ساتھ کاروبار کرنے سے انکاری تھے۔ بالآخر 1922 کو جرمنی روسی فلمی صنعت کی مدد کرنے پر تیار ہوگئی۔ جرمنی کو اس میں اپنا مفاد نظر آیا۔ روس کی وسیع مارکیٹ جرمن فلم سازوں کے لیے سازگار تھا۔ اس زمانے میں کم از کم دس فلموں میں سے نو جرمن فلمیں ہوا کرتی تھیں۔ جرمنی کی وجہ سے روس میں جہاں جرمن فلموں کی ریل پیل ہوئی وہاں روسیوں نے جرمن ٹیکنالوجی اور جرمن فن کاروں کے تجربات سے بھی خوب خوب استفادہ کیا۔

سینما ہالوں کی عدم دستیابی کے باعث یہ فلمیں ریل گاڑیوں وغیرہ کے ذریعے قصبہ قصبہ گھوم کر عوام کو دکھائی جاتی تھیں۔ اسی دوران انقلابی حکومت نے زور و شور کے ساتھ نوجوان فلم سازوں کی تربیت اور فلمی مشینری کی دستیابی پر بھی توجہ دی۔

1924 کو لینن کی وفات کے بعد اسٹالن نے اقتدار سنبھالا۔ لینن کی وفات کے وقت روسی سینما بڑی حد تک اپنے پیروں پر کھڑی ہوچکی تھی۔ اسٹالن نے لینن کی فلم پالیسی کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ فلمی صنعت کی ترقی کو مزید تیز کرنے کے لیے دیگر اقدام بھی اٹھائے۔ انھوں نے سرکاری خزانے سے خطیر رقم اس صنعت کے لیے مختص کی۔

1925 کو بالآخر اس محنت کا ثمر مل ہی گیا۔ روسیوں نے اس سال Battleship Potemkin نامی فلم پیش کی ۔ اس فلم نے نہ صرف روس بلکہ عالمی سطح پر بھی خود کو منوایا۔ بدترین حالات میں کام کرنے والے روسی فن کاروں کی یہ تخلیق آج بھی دنیا کی سو عظیم فلموں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

مونتاژ پر بحث کرنے سے پہلے ان روسی فن کاروں کا مختصر احوال مناسب رہے گا جنہھوں نے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور روس سمیت دنیا بھر کے سینماؤں کو نئے نئے راستے سجھائے۔ یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے تقریباً تمام قابلِ ذکر روسی ہدایت کار فلمی نظریہ دان بھی تھے۔ انھوں نے فلمیں بنانے کے ساتھ ساتھ فلم کے تکنیکی و نظریاتی پہلوؤں اور ساخت پر مضامین و کتابیں بھی لکھیں۔ یہ کتابیں آج بھی سینما کو سمجھنے کے خواہش مند طلبا کے لیے مشعل کا درجہ رکھتی ہیں۔

سرگئی آئزنسٹائن (Sergei (Eisenstein

روسی ہدایت کار سرگئی آئزنسٹائن کا تعلق ایک متوسط طبقے سے تھا۔ ان کے مطابق وہ روسی، انگریزی، جرمن اور فرنچ زبانوں پر قادر تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے سول انجینئر تھے۔ 1915 کو وہ روس کی انقلابی تحریک کا حصہ بن گئے۔ بعد از انقلاب خانہ جنگی کے دوران سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر میں جُت گئے۔ وہ بنیادی طور پر روسی ساختیت (Constructivism) پسند فن کار تھے۔ خانہ جنگی کے زمانے میں انھوں نے ریل کے ڈبوں اور عمارتوں پر مارکسی پروپیگنڈے پر مشتمل فن پارے بنائے تاکہ سرخ فوج کے لیے زیادہ سے زیادہ عوامی حمایت حاصل کی جائے۔

جنگ کے بعد وہ مستقل طور پر ماسکو نشین ہو گئے اور روسی تھیٹر کا حصہ بن گئے۔ تھیٹر کے ساتھ ساتھ انھوں نے فلم سازی پر بھی طبع آزمائی کی۔ اس دوران انھوں نے تھیٹر اور مختصر فلموں کی ہدایت کاری کی۔ اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا ہے کہ 1924 کو میں نے ایک گیس  فیکٹری میں اپنی فلم "گیس ماسک" کو ہدایت دی۔ فلم کی نمائش کے دوران دفعتاً مجھے احساس ہوا میں نے ایک حقیقی مقام پر، حقیقی واقعے کو انتہائی بناوٹ اور تصنع کے ساتھ دکھایا ہے۔ اس احساس نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایسا کیا کیا جائے کہ حقیقی واقعہ، حقیقت ہی لگے۔ اس سوال نے مجھے مونتاژ پر مزید غور و فکر کرنے پر اکسایا۔

فلم "گیس ماسک" کے بعد انھوں نے 1925 کو فلم "Strike "پیش کی۔ اس فلم میں پہلی دفعہ جدلیاتی مونتاژ تکنیک کا استعمال کیا گیا۔ اس میں انفرادی جدوجہد (ہیرو) کی بجائے اجتماعی جدوجہد کا بھی تصور دیا گیا۔ یہ فلم زار کے زمانے میں مزدور جدوجہد کے ایک حقیقی واقعے پر مشتمل ہے۔ یہ فلم البتہ ان کی بعد کی فلموں کی نسبت کم زور ہے۔

اسی سال 1925 کو انھوں نے فلم "Battleship Potemkin" کے ذریعے پوری دنیا کے فلم ناقدین کو چونکا دیا۔ اس میں جدلیاتی مونتاژ کو نہایت ہی فن کاری و گہرائی سے استعمال کیا گیا ہے۔ ان کی 1928 کی فلم "October: Ten Days That Shook the World" بھی فن کاری کا شاہکار ہے۔

مونتاژ تکنیک صرف آئزنسٹائن سے مخصوص نہیں ہے۔ اس میں دیگر سوویت ہدایت کاروں کا بھی حصہ ہے۔ تاہم آئزنسٹائن کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اس تکنیک کو زیادہ پُراثر اور گہرائی سے برتا۔

(جاری ہے)

جدید تر اس سے پرانی