مونتاژ فلمی تحریک



 ذوالفقار علی زلفی
(حصہ دوم)

وسوولڈ پوڈوفکن (Vsevolod (Pudovkin

پوڈوفکن ایک روسی محنت کش گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ نوجوانی میں ان کا میلان کیمسٹری پڑھنے کی جانب تھا لیکن انقلاب کے بعد وہ سینما سے متاثر ہو گئے۔ انھوں نے انقلابی حکومت کی ماسکو فلم اسکول میں داخلہ لے لیا۔ سینما کی تعلیم کے بعد وہ اپنے استاد کولشوف کے معاون ہدایت کار بن گئے۔ غالباً 1922 کو انھوں نے باقاعدہ آزادانہ ہدایت کاری کی دنیا میں قدم رکھا، انھوں نے مختصر دورانیے کی مزاحیہ فلموں سے آغاز کیا۔ اپنے استاد کے نظریے کے عین مطابق وہ بھی ساختیت پسند فلم ساز بن کر سامنے آئے۔

پوڈوفکن کی پہلی اہم ترین فلم 1926 کی "Mother" ہے۔ یہ شہرہ آفاق روسی ادیب میکسم گورکی کے اسی نام سے معروف ناول پر مبنی ہے۔ اس فلم میں انھوں نے مونتاژ کا ماہرانہ استعمال کر کے اس تحریک کو مزید آگے بڑھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ انھوں نے اس کے بعد بھی متعدد فلمیں بنائیں جو فنی لحاظ سے نہ صرف روس بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہی گئیں۔ آئزنسٹائن کے بعد وہ دوسرے ایسے روسی ہدایت کار ہیں جنھوں نے فلم سازی پر ان مٹ نقوش مرتب کیے۔

لو کولشوف (Lev Kuleshov)

روس کے مایہ ناز ہدایت کار و فلمی نظریہ دان کولشوف کا تعلق ایک دانش ور گھرانے سے تھا۔ وہ نوجوانی میں ہی آرٹ سے منسلک ہو گئے تھے۔ اوائل میں ان کا رجحان مصوری کی جانب تھا۔ زار کی حکومت کے آخری دنوں میں وہ فلم سازی کی جانب متوجہ ہوئے۔

انقلاب کے بعد انھوں نے دنیا کے پہلے فلم اسکول کی بنیاد رکھی اور اس کے سربراہ بن گئے۔ انھوں نے جرمن سینما کی تاثراتی ( German expressionism) تحریک سے استفادہ کر کے اس میں چند نوعی تبدیلیاں کرکے نئے نئے تجربات کیے۔ وہ مختلف تاثرات پر مبنی کلوز اپ لیتے اور پھر انھیں ایڈٹ کر کے جوڑ دیتے جس سے ایک گنجینہِ معنی برآمد ہو جاتا۔ ان کے اس طریقے کو آج تاریخِ سینما میں "کولشوف شاٹس" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کا یہ تجربہ مونتاژ تحریک کی بنیاد بنی جسے ان کے ہونہار شاگردوں نے مزید آگے بڑھا کر تاریخ رقم کر دی۔

بغور دیکھا جائے تو کولشوف کی فلمیں اپنے شاگردوں کی نسبت کم زور ہیں لیکن ان کی اہمیت اس فرد جیسی ہے جس نے پہلی شمع روشن کی۔ کولشوف کا فلم انسٹیٹیوٹ اور تجربات ہی روسی فلمی صنعت اور مونتاژ کی بنیاد ہیں۔

اس تحریک میں دیگر روسی ہدایت کاروں جیسے بوریس بارنٹ ( Boris barnet) اور گریگوری کوزنتسیف (Grigori kozintsev) وغیرہ نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بوریس بارنٹ نے بعد ازاں سسپنس فلمیں بھی بنائیں جن کے انداز کو عظیم امریکی ہدایت کار الفرڈ ہچکاک نے بھی اپنایا۔

مونتاژ (Montage)

مونتاژ یا مونتاج ایک فرنچ اصطلاح ہے جس کے لغوی معنی "تراش خراش" کے ہیں۔ اصطلاحی معنوں میں یہ فلم کی ایڈیٹنگ کا ایک طریقہ ہے جس کے ذریعے سین کے مفہوم کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ ناظر اس کے بہاؤ کے ساتھ خود بھی بہتا چلا جائے۔

روسی ہدایت کار سینما کو ایک علمی شعبہ گردانتے تھے اور اسے ایک نظریے کی صورت برتنے کے قائل تھے۔ اپنے اس زاویہِ نگاہ کے باعث شاید ہی کوئی روسی ہدایت کار (یہاں مراد کمیونسٹ روسی ہدایت کاروں سے ہے) ایسا ہو جس نے فلم سازی کے مختلف پہلوؤں پر نظریاتی مضامین و کتابیں نہ لکھی ہوں۔

 مونتاژ تحریک سے منسلک تقریباً تمام ہدایت کاروں نے مونتاژ پر بلیغ نظریاتی مباحث کیے ہیں۔ ان کی تحریروں اور فلموں سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان کے نزدیک مونتاژ کے معنی و مفہوم مختلف تھے۔ ان میں سے ہر ایک نے مونتاژ کو الگ الگ اشکال میں پیش کیا۔ جیسے پوڈوفکن اور کولشوف روشنی کے زاویوں اور دو اشیا کے تعلق پر توجہ دیتے تھے جب کہ آئزنسٹائن نسبتاً پیچیدہ راستہ اختیار کر کے جدلیات کا استعمال کرتے تھے۔ ان میں البتہ ایک چیز مشترک رہی ہے وہ ہے فلموں میں تاریخی مادیت کا استعمال۔

پوڈوفکن اپنی کتاب "Film technique and film acting" میں مونتاژ کی چھ مختلف قسمیں بتاتے ہیں :
Contras
Parallel
Symbolism
Simultaneity
Lietmotive

ان کے مطابق مونتاژ کے استعمال سے اسکرین پلے کو توانائی ملتی ہے جو ناظر کو فلم کی تفہیم میں مدد دیتی ہے۔

ائزنشٹائن کی کوئی باقاعدہ کتاب نہیں ہے۔ نظریہِ فلم اور مونتاژ پر ان کے مختلف مضامین ہیں جو یکجا کر کے کتاب کی صورت چھاپے گئے ہیں۔ ان کے مضامین کا یہ مجموعہ انگریزی میں تو نہ ملا البتہ فارسی میں ان کے مضامین کا ایک مجموعہ "شکلِ فلم" کے نام سے دستیاب ہے۔ آئزنسٹائن مونتاژ کے ذریعے اسکرین پلے کو توانائی فراہم کرنے کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے ۔ ان کے مطابق اسکرین پلے کو اس کی تخلیق کے وقت ہی توانا ہونا چاہیے۔ مونتاژ تصاویر کی جدلیات ہے جس کے ذریعے ناظر کو واقعات کا جدلیاتی شعور فراہم کیا جانا چاہیے۔ سوال یہ نہیں ہے کیا ہوا، وہ تو ہر شخص جانتا ہے، سوال یہ ہے کیوں ہوا؟  اس کیوں کا جواب صرف جدلیاتی مونتاژ ہی دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق واقعے اور کردار کے درمیان بھی ایک متضاد تعلق ہوتا ہے جسے صرف مونتاژ کے ذریعے ہی احسن طریقے سے بیان کرنا ممکن ہے۔ وہ منظر کو منعکس کرنے کے بجائے مونتاژ کے ذریعے اس کی اثر پزیری بڑھانے کے قائل ہیں۔

مونتاژ ہدایت کار امریکی و یورپی سینما کے برعکس بعض مخصوص مناظر کو دو سے زائد ٹکڑوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ جیسے ایک محنت کش کسی استحصالی حربے کے خلاف اپنا غصہ بظاہر کسی مادی شے پر اتار رہا ہے، یہاں ہم فرض کرتے ہیں وہ مادی شے ایک لگژری کھڑکی ہے جس کے شیشے کو محنت کش اندرونی جذبات سے مغلوب ہو کر توڑتا ہے۔ توڑنے کے اس عمل کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلے ہاتھ بلند کرنے کا منظر، پھر اس کا غصیلا چہرہ، پھر اس کے ہاتھ میں پکڑا ڈنڈا، پھر شیشہ، پھر شیشے پر پڑتی ضرب وغیرہ ۔ یہ تمام مناظر ایک ایک کر کے مختلف زاویوں سے دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ پورا شاٹ چند سیکنڈوں کا ہوتا ہے لیکن مقصد ناظر کو اس پورے عمل کے ایک ایک حصے میں شامل کرنا اور اس کی تمام جزئیات سے آگاہ کرنا ہے۔ اس شاٹ میں شامل تمام اشیا مثلاً لکڑی کا ڈنڈا، محنت کش کا غصیلا چہرہ، شیشے کی کھڑکی اور بلند ہوتا پھر نیچے آتا ہاتھ وغیرہ سب انقلابی عمل کی مختلف علامتیں ہیں جنھیں ناظر تک پہنچانا مقصد ہوتا ہے۔ اسی طرح زار کے سپاہیوں کے اعمال یا سرمایہ داروں کی سرگرمیوں کو بھی اسی طریقے سے دکھایا جاتا ہے۔

مونتاژ کی دوسری اہم خصوصیت دو متضاد شاٹس کو یک جا کرنا ہے۔ یہ قسم زیادہ تر آئزنسٹائن کی فلموں یا ان سے متاثر بعد کے ہدایت کاروں میں نظر آتا ہے۔ آئزنسٹائن بعض اوقات دو ایسے شاٹس بھی آپس میں جوڑ دیتے تھے جن کا بظاہر ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ جیسے فلم "Strike" میں جب فوجی کمانڈر کو محنت کش احتجاج کو بزورِ قوت کچلنے کا میں حکم دیا جاتا ہے تو کمانڈرغصے سے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بھینچ کر انہیں مٹھی بناتا ہے اور سر کے قریب لا کر میز پر پٹختا ہے، میز پر پٹخنے سے پہلے شاٹ کٹ ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ ایک قصائی کے ہاتھ نظر آتے ہیں جو تیز دھار آلے سے گوشت کے ٹکڑے کر رہا ہے ـ دوسرے شاٹ کا پہلی نظر میں فوجی کمانڈر سے تعلق نظر نہیں آتا لیکن پورے سین کو ذہن میں رکھیں تو مقصد یہی ہے کہ فوج ایک قصائی بن گئی اور اس نے محنت کشوں کو گائے بکری کی طرح کاٹنا شروع کردیا۔ آئزنسٹائن کی ایک اور فلم میں فوجی کمانڈر سپاہیوں سے کہتا ہے محنت کش احتجاج خدائی احکامات کی خلاف ورزی ہے لٰہذا اس کو کچلنا عبادت کا درجہ رکھتا ہے، اس موقع پر کمانڈر کے سینے پر سجے فوجی میڈلز کا کلوز اپ لیا جاتا ہے اور اس کے فوراً بعد مسیحی مذہبی علامتوں کے کلوز اپ سامنے آتے ہیں۔

 روسی ہدایت کاروں کے پاس جدید کیمرے (امریکہ کی نسبت)  یا دیگر آلات نہیں تھے اس کمی کو دور کرنے کے لیے انھوں نے کیمرہ اینگلز کی زبان کو استعمال کیا جس کی وضاحت کے لیے بعد میں انھوں نے مضامین و کتابیں بھی لکھیں۔ جیسے پوڈوفکن کسی شخصیت کو طاقت ور دکھانے کے لیے اس کو اس طرح فلماتا ہے کہ اس کا سر آسمان کو چھوتا نظر آئے۔ اس قسم کی دیگر مثالیں "سینما اور مارکسزم" کے نام سے معنون تحریر میں بھی دی گئی ہیں۔

روسی مونتاژ تحریک نے تدوین کے جو طریقے ایجاد کیے اور کیمرے کی جو زبان تخلیق کی وہ سینما کی ترقی کے ساتھ ساتھ فلمی زبان کے قواعد کی بنیاد بن گئے۔ روس کی اس تحریک نے نہ صرف سینما کی ترقی کو تیز کردیا بلکہ اس کی لسانی ساخت کو بنیاد بھی فراہم کردی۔ روسی سینما چوں کہ کارل مارکس کے نظریے کے پیچھے پیچھے چلتی ہے اس لیے اس سینما نے مارکسی نظریہِ فلم کو بھی جنم دیا۔

جدید تر اس سے پرانی

Archive