کے جی ایف کیوں کامیاب ہوئی؟ ایک تاثر

 



ذوالفقار علی زلفی

ایک فارمولہ فلم ہونے باوجود کے جی ایف چیپٹر 2 پہ پبلک کیوں ٹوٹ پڑی؟
اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں؛

1 ۔ "کے جی ایف 1" میں ایک غریب محنت کش ماں کے بچے کی ممبئی میں زندہ رہنے کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔ یہ 70 کی دہائی کے امیتابھ بچن کی فلموں کا فارمولا ہے۔ اس زمانے کے عام محنت کشوں نے بھی خود کو امیتابھ کی صورت دیکھا اور پردے پر اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل اور عوام دشمن سسٹم کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھا۔ امیتابھ بچن کی اس قسم کی فلمیں بے حد پسند کی گئیں۔ اب وہی چیز "کے جی ایف" میں زیادہ جارحانہ انداز میں دکھائی گئی۔ عام فلم بینوں کو یہ ادا بھا گئی اور دوسرے پارٹ کا بے چینی سے انتظار کیا گیا کہ اب آگے ہم میں سے ایک جو نجات دہندہ ہے کیا کرے گا ـــــ نجات دہندہ کا یہ تصور ہندو اساطیر کا بھی حصہ ہے۔

2۔ فلم کے دوسرے حصے میں ہندی سینما کے دو مقبول فن کار سنجے دت اور روینہ ٹنڈن ایک نئے روپ میں دکھائے گئے۔ دونوں جارحیت پسند ہیں۔ سنجے دت "اگنی پتھ" فلم سے بھی زیادہ بے رحم ولن کی صورت تراشے گئے۔ سنجے دت کے سیکڑوں فینز کا متاثر ہونا عین فطری تھا۔ روینہ ٹنڈن کو اندرا گاندھی کا کردار دیا گیا ہے جو بھارت کی آئرن لیڈی رہی ہے۔ نئی نسل کے فلم بینوں نے ان کے متعلق پڑھا ہے جب کہ فلم میں انہیں ایک جارح آئرن لیڈی کی طرح دکھایا گیا ہے۔ ان دونوں کرداروں کی جارح صورت گری کے باعث شمالی ہندوستان کے فلم بینوں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔

3۔ اس فلم میں پولیس، میڈیا حتیٰ کہ وزیراعظم تک کو ایک عام محنت کش کے سامنے جھکتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سسٹم کا ستایا ہوا اور خود کو مظلوم تصور کرتا محنت کش جب یہ سب دیکھتا ہے تو اس کو نفسیاتی تسکین ملتی ہے۔ اس کی نفسیاتی حالت کا بھرپور استحصال کیا گیا ہے۔

4۔ ہندی سینما 70 اور 80 کی دہائی میں یہ سب کرتا رہا ہے۔ 90 کی دہائی میں جب نیولبرل سینما کا ظہور ہوا تو ہندی نے محنت کش اور متوسط طبقے کی کردار نگاری بند کر دی۔ اس کی جگہ اپرمڈل کلاس اور سرمایہ دار طبقے کو ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ اب ساؤتھ نے دوبارہ پوری شدت کے ساتھ ہندی سینما کے گزشتہ کرداروں کو پیش کیا ہے۔

5۔ ایک اور اہم نکتہ یہ کہ ہیجان پیدا کرنے کے لیے ساؤنڈ کا بے تحاشا استعمال کیا گیا ہے۔ ساؤنڈ کی اپنی ایک نفسیات ہے۔ شور انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی آواز دب گئی ہے،  اس کی کوئی نہیں سن رہا۔ اس ہیجان خیز ساؤنڈ کے درمیان پھر نجات دہندہ مختلف مناظر میں آ کر کشتوں کے پشتے لگاتا ہے یعنی شور کے اندر چیختا ہے ـــــ یہ چیز فلم کو کثیف بناتی ہے ـ لطافت کا معمولی عنصر بھی نہیں ہے۔

فلم دیکھنے کے بعد میرا تو فوری تاثر یہی بنا۔

جدید تر اس سے پرانی

Archive