نوآبادیاتی ویڈیو سونگ "واجہ" کا تجزیہ



ذوالفقار علی زلفی

پاکستان کے معروف گلوکار شہزاد رائے کا حالیہ ویڈیو گانا "واجہ" اس وقت شدید بلوچ ردِعمل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے ٹوئیٹ پر درجنوں بلوچوں نے اس گیت پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ اس گیت میں شامل ایک بلوچ گلوکار نعیم دِلپُل نے اس ردِعمل سے گھبرا کر اپنا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہی ڈی ایکٹویٹ کردیا ـ نعیم دلپل جنھیں ایک ابھرتا ہوا گلوکار سمجھا جا رہا تھا ایک ہی دن میں یوٹیوب پر اپنے سیکڑوں سبسکرائبر کھو بیٹھے ـ

گیت میں ہے کیا؟


یہ گیت بلوچستان کو آدھا پاکستان قرار دے کر اس کی ترقی کا اعلان کرتا ہے۔ اس کے گیت میں بلوچ کو "واجہ" (بمعنی جناب یا مسٹر)  کہہ کر کہا گیا ہے کہ وہ اپنے آنے والے مستقبل کے تحفظ کے لیے ترقی کے اس عمل میں شامل ہو کر جنگ و جدل کا راستہ چھوڑ دے ـ

یہ گیت شہزاد رائے (پاکستانی)،  نعیم دلپل (بلوچ)، رئیسہ رئیسانی (بلوچ) اور واسو (بلوچ) نے مشترکہ طور پر گایا ہے۔

گیت اور ویڈیو کا تجزیہ

یہ گیت بنیادی طور پر نوآبادیاتی نظام کی حمایت کرتا ہے اور نوآبادیاتی سرزمین کے دیسی باشندے کو جاہل اور پسماندہ منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ نظریاتی لحاظ سے یہ اس ریاستی پروپیگنڈے کو آگے بڑھاتا ہے کہ ریاست بلوچستان کو ترقی دینا چاہتی ہے لیکن چند گم راہ عناصر (کبھی تین سردار اور کبھی تین لڑاکا لونڈے) اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے اس راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ویڈیو کی شروعات بلوچ ساحل سے ہوتی ہے جہاں ایک غیر مقامی لباس میں ملبوس شخص مشعل اٹھائے، چہرہ سمندر کی جانب کیے کھڑا ہے ـ غیر مقامی لباس پاکستان کی علامت ہے جو ترقی یا دوسرے لفظوں میں روشنی کا مشعل اٹھائے بلوچستان کو تاریکی سے نجات دلانے آیا ہے۔ گویا بلوچستان جو تاریک اور وحشیوں کی سرزمین ہے، اسے پاکستان روشنی اور تہذیب کی جانب لانے آیا ہے۔

اس کے بعد نیم بلوچی لباس میں ملبوس خاتون براہوئی زبان میں پُرزور اعلان کرتی ہے؛
 "داسہ ننا وقت بسونہ"

یعنی اب ہمارا وقت آیا ہے۔ خاتون کے لباس کو نیم مقامی بنانا جبری ثقافتی تبدیلی کی علامت ہے؛ آدھا بلوچ آدھا پاکستانی۔ خاتون ایک جگہ کہتی بھی ہے کہ میرے نام میں ہے آدھا پاکستان۔ بلوچی ثقافت چوں کہ غیرمہذب اور پسماندہ ہے اس لیے اسے مہذب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسے بدلا جائے ـ یہ بدلاؤ ہی وہ وقت ہے جس کے آنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بلوچ ثقافت کو پسماندہ اور غیر مہذب ثابت کرنے کے لیے ویڈیو کے مختلف شاٹس میں بلوچوں کو بڑی بڑی پگڑیوں اورعجیب و غریب داڑھیوں کے ساتھ اونٹ چراتے، گھوڑے دوڑاتے، صحراؤں میں آگ کے گرد بیٹھے دکھایا جاتا ہے۔ 

دوسری جانب غیرمقامی لباس میں ملبوس افراد جدید گاڑیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ اونٹ چرانا اور گھوڑے دوڑانا نہ پسماندگی کی علامت ہیں اور نہ موٹر گاڑیوں میں گھومنا ترقی کا پیمانہ۔ یہ محض دو مختلف ذرائع پیداوار کے حامل خطوں کی متنوع اشکال ہیں۔ ان کو پسماندگی و ترقی کی علامت کے طور پر پیش کرنا سرمایہ داریت کی دین ہے جو آخری تجزیے میں سامراجیت ہی ہے۔ 

خاتون کے منظر کے بعد ویڈیو میں غیرمقامی لباس میں ملبوس شہزاد رائے کی انٹری ہوتی ہےَـ وہ کیمرے کی جانب پیٹھ کیے بڑی شان سے مقامی بچوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ میڈیم لانگ شاٹ پر فلمایا یہ شاٹ کسی بادشاہ اور اس کے درباریوں کا منظر پیش کرتا ہے۔  یہ بچے بلوچی پگڑی پہنے امید بھری نگاہوں سے اپنے مسیحا کو دیکھتے ہیں۔ اپنے تخت تک پہنچ کر بادشاہ یعنی نوآبادکار اپنے غلاموں کی جانب دیکھتا ہے۔ اس منظر کے ساتھ ہی نوآبادکار مقامی باشندے کو اس کی ترقی کا مژدہ سناتا ہے؛

واجہ اب نئی ہوا شور مچاتی چل رہی ہے، بادل بھی جھوم کے آ چکے ہیں

نوآبادکار کا مژدہ پاکستان کی اس ترقی کا پروپیگنڈہ ہے جو وہ دہائیوں سے کرتا آ رہا ہے۔ نوآبادیاتی نظام پر تحقیق کرنے والے علما کا اتفاق ہے کہ اس نظام میں الفاظ اور اصطلاحوں کے مفہوم اس نظام کی ساخت سے منسلک ہوتے ہیں۔ ان میں "ترقی"، "تہذیب" اور "امن" جیسے الفاظ بالخصوص سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ نوآبادکار مقامی کے استحصال کو ترقی کا نام دیتا ہے۔ ترقی جو عدم ترقی سے جنم لیتای ہے۔ یعنی پہلے عدم ترقی کا نظریہ تراشا جاتا ہے جسے پسماندگی اور وحشت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ نوآبادکار اپنی سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی برتری کو مقامی کے ذہن میں راسخ کرنے کے لیے اسے پسماندہ اور خود کو ترقی یافتہ گردانتا ہے۔ اپنی متصور ترقی کو پھر وہ مقامی کی پسماندگی دور کرنے کے لیے استعمال میں لاتا ہے۔ ترقی اور پسماندگی کے تصورات کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مقامی نااہل، اجڈ اور جاہل ہے اس لیے وہ پسماندہ ہے۔ نوآبادکار ہی وہ قوت ہے جو اسے مہذب بنا سکتا ہے۔

ویڈیو میں شہزاد رائے کا انٹری سین اور اس کے بعد امید بھری نگاہوں کے حامل مقامی بچوں پر نگاہ دوڑاتے ہی ان کی ترقی کی خوش خبری اسی نظریے کو آگے بڑھاتی ہے۔ جیسے آگے چل کر نعیم دلپل کی آواز میں "اب بلوچستان آسمان چھوئے گا" کی صورت زیادہ واضح کیا گیا ہے۔

نوآبادکار کی فرضی ترقی چوں کہ اس کی اپنی اختراع اور اس کے اپنے مفادات کی ضامن ہے جس کی بنیاد مقامی کے استحصال پر کھڑی ہے اس لیے اس ترقی کے عمل میں مقامی کی ثقافت اور اس کے قومی مفادات کی کامل نفی کی جاتی ہے۔  اس ویڈیو میں بھی اس چیز کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے ترقی کے نام پر گوادر کا کرکٹ اسٹیڈیم جو مکمل ریاستی کے کنٹرول میں ہے۔ اب بھلا کرکٹ کا بلوچ سے کیا تعلق بنتا ہے؟ بلوچ قومی کھیل تو فٹ بال ہے۔ کرکٹ پنجاب اور شہری سندھ کا معروف کھیل ہے جس کی اپنی ایک طویل نوآبادیاتی تاریخ ہے۔ تھونپی گئی ریاستی ترقی بہرحال اسی قسم کی ہوتی ہے۔

اس گیت میں بلوچ مزاحمتی سیاست کو جو پُرتشدد نوآبادیاتی نظام کا راست ردعمل ہے، اسے عین ریاستی بیانیے کی مانند پسماندگی کے باعث پیدا ہونے والی ناراضی قرار دیا جاتا ہے۔ شہزاد رائے کی آواز میں کہا جاتا ہے "جس بات پر تو ناراض ہے آج کرتے ہیں وہ بات ختم"۔

ناراضی والے بیانیے کو آگے بڑھانے کے ساتھ ہی نعیم دلپل کی آواز میں بلوچ کلاسیک شاعری کے ماتھے کا جھومر مست توکلی کا شعر فٹ کیا جاتا ہے؛

جوان نہ انت جنگانی بدیں بولی
کئے وتی دوستیں مردماں رولی


جس طرح کہا جا چکا ہے کہ نوآبادیاتی نظام محض مالی استحصال نہیں کرتا بلکہ وہ مقامی کی ثقافت اور تاریخ کو بھی مسخ کرتا ہے۔ مست توکلی کا مذکورہ بالا شعر جو جنگ کی مخالفت کرتا ہے وہ دراصل خانہ جنگی سے ممانعت ہے۔ مست توکلی آپسی قبائلی جنگوں کی مخالفت کرتے ہیں کیوں کہ اس سے مجموعی طور پر بلوچ قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ اس گیت میں مذکورہ شعر کو نوآبادکار کی حمایت میں استعمال کرکے نہ صرف مست توکلی بلکہ کلاسیک بلوچ مزاحمتی ادب کی بھی توہین کی گئی ہے جو ببانگِ دہل کہتا ہے؛

ھیرانی تمن ویران انت
سیت گوں شکّلیں جنگان انت


مست توکلی کی آڑ لے کر بلوچ کو پہلے رئیسہ رئیسانی کی آواز میں بھٹکا ہوا قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بلوچ کو جنگی مجرم کے طور پر اور طاقت ور کو اس کے دوست کی صورت پیش کیا جاتا ہے۔ جب کہا جاتا ہے "جوان نہ انت جنگانی بدیں بولی" یعنی جنگ اچھی چیز نہیں ہے؛ اس وقت ویڈیو میں پگڑیاں باندھے بلوچوں کو دکھایا جاتا ہے جو بے چارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ یہی وہ مجرم ہیں جو بلوچ عوام کو بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرے مصرعے "کئے وتی دوستیں مردماں رولی" یعنی کون اپنوں کو ضائع ہوتا دیکھنا چاہے گا؛ یہاں شہزاد رائے کو پگڑیاں باندھے بلوچ بچوں کے درمیان تخت نشین دکھایا گیا ہے۔ ایسا تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے جیسے بلوچ ایک شوقیہ جنگ جو ہے جب کہ طاقت ور، اس کا وہ دوست جسے وہ پہچان نہیں پا رہا یا پہچان کر بھی انجان بن رہا ہے۔ بلوچ جنگ حالاں کہ ایک مزاحمتی جنگ ہے جو نوآبادیاتی تشدد کا ردِعمل ہے لیکن اس گیت میں مست توکلی کے نام پر بلوچ کو ہی مطعون کیا گیا ہے۔

ویڈیو گوادر پر اختتام پذیر ہوتی ہے جس کے سر پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔ یہ وہی پرچم ہے جسے پہلے مشعل کی صورت ساحل پر لایا گیا۔ قبضہ مکمل ہونے کے بعد فتح کی صورت سر پر لہرایا گیا۔

یہ گیت پدرشاہیت کی نمائندگی بھی کرتی ہا جہاں "واجہ"، "واجہ" کی تکرار ہے۔ بلوچ صرف واجہ نہیں ہوتا وہ بانک بھی ہوتی ہے۔ آج کی بلوچ بانک کا کردار بسا اوقات واجہ سے بھی بڑھ کر نظر آتا ہے۔

حرفِ آخر


اس گیت اور ویڈیو پر بلوچ ردِعمل فطری، خوش کن اور امید افزا ہے۔ شہزاد رائے اور ان کے سرپرست  یقیناً آئندہ بلوچ کو تر نوالہ سمجھنے کی غلطی نہیں کریں گے۔

جدید تر اس سے پرانی

Archive