اور وہ امر ہو گیا


 شبیر رخشانی

کوئٹہ کی کبیر بلڈنگ جہاں کبھی قہقہے گونج اٹھتے تھے، ایک زمانہ ہوا کہ خاموشی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ خاموش چہرے خاموش مزاج، یہ تو کبیر بلڈنگ کا خاصا نہیں ہوا کرتا تھا۔ جہاں دوستوں کی محفلیں لگتی تھیں، ہنسی مذاق ہوا کرتاتھا۔ جہاں خبریں ہوا کرتی تھیں، جہاں صحافت ہوا کرتی تھی۔۔۔ اچانک خاموش ہو گئی، ایسے خاموش ہوئی کہ پھر قہقہے نہیں اٹھے۔

28 اگست2014 کی شام کبیر بلڈنگ میں کچھ انہونی سے ہونی تھی۔ کبیر بلڈنگ کو خون کے رنگوں میں رنگنا تھا، سو رنگ گئی۔ خون کے چھینٹے آج بھی گواہی دے رہے ہیں۔گولی چلی جاتی ہے، جسم کے آر پار ہو جاتی ہے، صحافت سسکیاں لیتی ہے۔۔۔ جواں مرگ صحافی آخری سانسیں لیتا ہے، بلوچستان کو الوداع کہتا ہے۔

ارشاد مستوئی تو لکھتا تھا، جابر نظام کے خلاف، اس نظام کے خلاف جس نے نچلے طبقے کو اپنے چنگل میں پھنسا کر رکھا تھا۔ وہ طبقہ جو اپنی آزادی کے لیے جتن کر رہا تھا۔ ارشاد بول پڑا۔ سننے والوں کو نہ وہ الفاظ پسند آئے اور نہ ہی کہے گئے کلمات۔ بس اسے راستے کی دیوار سمجھ کر ہٹانا مقصود تھا، سو ہٹا دیا۔

ارشاد مستوئی کے ساتھ باقاعدہ کوئی محفل نہیں جمی پر اس کی تحریروں میں عام آدمی جھلکتا تھا۔ وہی عام آدمی جو اسے پڑھتا تھا۔ 28 اگست کی شام ان کی تحریروں کی آخری شام ٹھہری۔

اس کے بعد کیا ہونا تھا۔ ایک سناٹا سا چھا گیا۔ خاموشی کی فضا قائم ہوگئی جہاں بولنے کا رواج تھا، وہیں آوازیں دم توڑ گئیں۔ ایک آواز صبا تھے۔ ان کی آواز ناگوار گزری، سو وہ ناگوار ٹھہرے۔ ارشاد بھی تلخ جملے دہراتا تھا۔ تلخ جملوں کی پاداش میں وہ امام حسین کے قافلے کا رکن ٹھہرا۔ اور یزیدی قافلے والے اس پہ حملہ آور ہوئے۔ اس کی یزید کی گواہی دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوا۔ سو یزید یزید نامعلوم ٹھہرا۔ ارشاد حق گو راستوں کا مسافر ثابت ہوا اور چل دیا۔

اس کی ایک تحریر ’’نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا معمہ اور انصاف کی تاخیر‘‘ ابھی ہم نے پڑھ کر ختم کی ہی تھی کہ خبر آئی کہ ارشاد مستوئی کو شہید کر دیا گیا۔

ارشاد مستوئی سے میں باضابطہ کبھی ملا نہیں۔ بس اتنا سا یاد ہے کہ پیارے رشید آسمی وش نیوز کے بیوروچیف تھے، پتہ انہوں نے کبیر بلڈنگ کا بتایا۔ بلڈنگ کی سیڑھیوں پر چڑھتے ہی جس دفتر میں قدم رکھا، وہ ارشاد مستوئی کا دفتر کہلاتا تھا: ’’ارے بھائی میں غلط جگہ پر آ گیا‘‘۔ایک شخص جو کمپیوٹر سے محو گفتگو تھا، اس جملے نے اسے میری طرف متوجہ کر دیا۔ ہلکا سا مسکرایا، کہا ’’آئیں بیٹھیں، اسے بھی اپنا ہی دفتر سمجھیں۔‘‘
سر مجھے رشید کے دفتر کا پتہ بتا سکتے ہیں۔
ساتھ ہی تو ہے۔

بس ارشاد مستوئی سے یہ میری پہلی اور آخری ملاقات ہوئی۔ ہم تھے آوارانی۔۔۔ آواران ہی کے ہو کر رہ گئے تھے۔ سو پھر ملاقات نہ ہو سکی۔ سوال اٹھتا ہے کہ اچھے بھلے انسانوں سے قریب رہنا ضروری ہے کیا؟۔ میرے پاس تو اس کا ایک ہی جواب ہے؛ درد مند انسان چاہے جہاں بھی رہ رہے ہوں، ان کی انسانوں سے ہمدردی انہیں اپنا ہی بنا دیتی ہے۔ ارشاد مستوئی تھا ہی ایسا۔ ایک سچا، کھرا انسان۔ جس کے سچے پن کی سزا اسے چند گولیوں کے عوض دی گئی۔ اور وہ امر ہو گیا۔

28 اگست ویسے ہی گزر جاتا تھا۔ اب 28 اگست ارشاد مستوئی کا دن کہلانے لگا۔ دوست احباب گزشتہ تین سالوں سے ارشاد مستوئی کو یاد کرتے ہیں، اس پر لکھتے ہیں۔ میری لکھت شاید اتنی اہمیت کی حامل نہ ہو جتنی اس کے قریبی دوستوں کی۔ ارشادکے دوست کہتے ہیں کہ ارشاد ایک ہنسانے والا دوست تھا۔ جاتے جاتے سب دوستوں کو رلا گیا۔

نواب اکبر بگٹی کی شہادت بلوچستان کے لیے سیاسی سانحہ ثابت ہوئی، جس کے بعد سیاسی سرگرمیاں ناپید سی ہو گئی ہیں، وہیں ارشاد مستوئی کی شہادت نے صحافت کے لیے ایک خلا چھوڑ دیا۔


جدید تر اس سے پرانی

Archive