{ads}

صمند بلوچ

یوں تو سیاسی عمل میں شراکت داری کا مقصد ریاست کو چلانا، ریاستی پالیسیوں کو بنانا و ان پر عمل درآمد ہے جس کا مقصد سادہ الفاظ میں حکومت سازی یا حکومتوں میں شراکت داری یے جب بات ریاست یا سرزمین کی آتی ہے تو اس میں کسی بھی ذی شعور انسان کا شعوری طور پر شراکت سازی یا ان پر نظر رکھنے کی کوشش کو کسی صورت نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ چوں کہ طلبا بھی کسی سرزمین پر بسنے والے دیگر شعبہ زندگی کی طرح اہمیت کے حامل ہیں تو یہ طبقہ کسی طرز پر بھی سیاسی عمل سے شعوری یا لاشعوری طورپر لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

عمومی طور پر تو ریاستی معاملات میں شراکت داری ہی سیاسی عمل کی بنیاد ہے لیکن جمہوری معاشروں میں چوں کہ سیاسی عمل میں شراکت داری کے لیے قیادت کی تربیت کی ضرورت ہوتی یے جب کہ تعلیمی ادارے ہی وہ مراکز ہوتے ہیں جہاں سے مختلف شعبہ جات کو سنھبالنے یا چلانے والی افرادی قوت ملتی ہے تو یہاں سیاسی عمل کی ضرورت بھی سب سے زیادہ ہوتی یے کہ جہاں سے ایک منظم صورت میں آئندہ آنے والی قیادت کو تربیت کے ذریعے قومی معاملات کو چلانے کے لیے تیار کیا جا سکے۔

طلبا سیاست کی جہاں شعوری و تربیتی ضرورت ہوتی ہے وہاں تعلیمی اداروں کو چلانے، ان میں طلبا کے حقوق پر متحدہو کر کام کرنے و موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جس کے تحت سانس لینے سے لے کر مریض کے علاج تک سب ضروریاتِ زندگی سرمایہ کاری و اسے آگے بڑھانے کا ذریعہ بن چکے ہیں، ایسے میں طلبا سیاست کی ضرورت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ دارانہ منفی حربے جس طرح پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے روپ میں تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کو کاروباری مراکز کی شکل دے چکے ہیں، تعلیمی اداروں کی پالیسیاں ریسریچ تخلیق و تنقید کے بجائے توسیع پسندانہ ذہنیت کے تحت منفی عوامل کی تقویت کا مرکز بن چکے ہیں تو سیاسی شراکت، شعوری تربیت ہی وہ عوامل بن سکتے ہیں جو منفی عوامل کو روکنے میں کردار ادا کر سکیں۔

دیگر پہلوؤں کے ساتھ نوجوان سوچ کی شعوری کردار سازی و اسے پرتشدد ذہنیت کے بجائے بحث و مباحثے اور تنقید و تخلیق کے ذریعے شعوری مرکزیت کی طرف لے جانے کے لیے طلبا سیاست اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ گھٹن زدہ ماحول جہاں بولنے کا قحط ہو، سوچنا سمجھنا اور سننا بزدلی کی علامت سمجھا جاتا ہو، عزت و احترام، فکر و نظر کا اختلاف دشمنیوں کا سبب بنے تو بحث و مباحثہ شعوری سرکلنگ کا رجحان و جدید سوچ کی بنیاد پر اختلاف کی اہمیت و حقیقت کی تربیت صرف باشعور طلبا سیاست و حقیقی قومی رجحانات فراہم کر سکتے ہیں۔

بلوچستان کی سیاسی تاریخ و قومی جدوجہد  کی ضروریات کا جائزہ لیا جائے تو بی ایس او کے قیام یا اس سے پہلے کی سیاسی جدوجہد محض پرکشش نعروں و مجمے کے ذریعے وجودِ عمل میں تھی لیکن بی ایس او کے قیام کے بعد بلوچستان کی سیاست میں تنقید و تخلیق کی ایک قابلِ عمل و حقیقی شعور یافتہ تربیت سامنے آئی جس نے یہاں سرکاری ظلم و جبر و منفی حربوں کے باوجود سیاسی شعور کو حقیقی طور پر تقویت بخشی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بی ایس او ہی وہ نمایاں آواز و صلاحیت رکھتی ہے جو کسی بھی مسئلے پر حقیقی قومی لائن و پالیسی دیتی ہے۔ بلوچ معاشرے میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل بی ایس او کی لائن و پالیسی کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس بات ک ثبوت ہے کہ کچھ کمزوریوں کو دور و اصلاحی ضروریات کے باوجود بی ایس او کو منظم و متحد کرنا اور اس میں حقیقی طلبا شراکت داری وقت کی ضرورت و چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی