شہیدِ صحافت ارشاد مستوئی: کچھ یادیں اور باتیں

 

عبداللہ زہری

صحافتی فرائض سرانجام دیتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے صحافیوں کی فہرست مختصر نہیں۔ بلوچستان کا کوئی ایک ایسا ضلع نہیں جہاں کسی صحافی کو رکاوٹ سمجھ کر راستے سے نہیں ہٹایا گیا یا کوئی ایسا حادثہ نہیں جس میں بلوچستان کے صحافیوں نے جام شہادت نوش نہ کیا ہو۔

جنوری 2012ء میں کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ کے سنوکر کلب میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں کے نتیجے میں سیف الرحمان اور عمران شیخ نے جام شہادت نوش کی۔ واقعے کے بعد کوئٹہ شہر کی فضا سوگوار رہی بلکہ صحافتی حلقے کئی ماہ تک اس غم میں ڈوبے رہے۔ سانحہ علمدار روڈ کے بعد راقم الحروف کو کسی بھی واقعے کے بعد شہید ارشاد مستوئی کا فون آ جاتا اور تفصیلات کے حصول کے بعد اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کے بعد خبروں پر توجہ دینے کی ہدایات ملتی۔

شہید ارشاد مستوئی کا نام سرفہرست ہے جس نے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں بہت ہی کم عرصے کے دوران ایک مقام حاصل کیا۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کام کرنے والے بیشتر صحافی ایسے بھی ہیں جو آج تک شہید ارشاد مستوئی کے شاگرد بن کر کام کرتے رہے۔ اور آج بھی ان ہی کے طرز پر کام کرتے ہیں۔ راقم الحروف کے ساتھ نہ صرف بھائی کا رشتہ رہا بلکہ ایک استاد کی حیثیت سے سمجھاتے رہے۔

سال 2009ء میں بلوچستان کے ساحلی علاقے گوادر میں تقریب کے دوران ایک ہاتھ سے محروم ہونے والے شہید ارشاد مستوئی نے سال 2011ء میں دوبارہ عملی طور پر صحافتی ذمہ داریوں کا آغاز کیا اور آفیسر کلب میں ایک تقریب کی تاخیر پر بائیکاٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا کے دوستوں کو روانہ کیا اور ایک ساتھ پریس کلب کی جانب چل دیے۔ ایک ہاتھ سے لیپ ٹاپ پر کمپوزنگ پر ایک حد تک عبور حاصل کر چکے تھے لیکن خبروں میں تاخیر کی وجہ سے ڈکٹیشن اپنی عادت بنا چکے تھے۔

تاہم چند ہی خبروں کو رات گئے تک روکنا اور خود بنا کر ریلیز کرنا اپنی عادت بنا چکے تھے۔ جس کے بعد اگلے دن کے لیے کالم نگاری کا سلسلہ شروع ہوتا۔ رات گئے ہی ہماری ملاقات ہوتی اور گھنٹہ نصف بیٹھنے کے بعد گھروں کو نکل پڑتے۔ انتخاب کے دور میں جب آرٹیکل کی سلیکشن ہوتی تو شہید ارشاد مستوئی کے بلوچستان سے متعلق بہت ہی کم آرٹیکل نظروں سے گزرتے اور رات گئے جب ملاقات ہوتی تو ان ہی آرٹیکلز پر بحث کا سلسلہ شروع ہوتا۔ جہاں کوئی دشواری ہوتی تو کسی قومی اخبار کے اداریے کا حوالہ دے کر جان چھڑاتے اور چار سے پانچ اخبارات کے اداریوں پر نظر دوڑانے کا درس دیتے۔

اپنے پیشے سے بھرپور لطف لینے والا ارشاد کوئی بہت زیادہ علامہ نہ تھا، لیکن صحافت اُسے خوب آتی تھی۔ بلوچ سیاست سے اُس کی دلچسپی کسی دور اور کسی طور کبھی کم نہ ہوئی۔ قومی اور صوبائی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے شہید ارشاد مستوئی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد اور جوڑ توڑ سے بخوبی واقف رہتے تھے اور خبروں کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کے منشور ایسے بیان کرتا جیسے زبانی یاد ہو یا خود ہی تحریر کیا ہو۔

راقم الحروف کو ان کی ہی تجویز تھی کہ جس سے سیاسی جماعتوں کے چند ہی جملوں پر 3 ہزار الفاظ پر خبر بنانے کی صلاحیت حاصل ہوئی۔ آج بھی بلوچستان کے بہت سے ایسے صحافی ہیں جو خبر یا رپورٹ بناتے وقت شہید ارشاد مستوئی کے الفاظ کا چناؤ کرتے ہیں۔ رات کے پہر ہونے والی ملاقاتوں میں ایک گھنٹے کے لیے سیاسی اور صحافتی بیٹھک لگتی اور یوں محسوس ہوتا کہ وہ کوئی مسئلہ یا کوئی ایسی خبر جسے بنانے میں کوئی مشکل ہو، بلینس خبر اور اپنے تحفظ کے لیے الفاظ کا چناؤ ان کے لب پر ہمیشہ رہتے۔ لیکن اصولِ صحافت اور قلم کی طاقت پر اعتبار ہونے کی وجہ سے فون پر خبر نوٹ کرنے کے لیے خبر دینے والے کو کھل کر سنانا ان کا معمول تھا۔

صحافتی تنظیموں کے انتخابات سے لے کر خبروں کے بنانے تک، کھل کر کھڑے رہ کر اپنی بات منوانا ان کی ایک الگ خاصیت تھی۔ شہید ارشاد مستوئی جس قلیل عرصے میں اس مقام پر پہنچے وہ ان کی صلاحیتوں کا ثمر تھا۔ وہ اس سے بھی آگے جانا چاہتے تھے لیکن شائد وہ خدا کو منظور نہ تھا۔ 28 اگست کی شام صحافتی ذمہ داریوں کے حوالے سے بار بار فون موصول ہوتا رہا اور ایک ہی مسئلے پر رابطہ کر کے احوال دینے کا کہتا رہا۔ نصف گھنٹے بعد تمام صورت حال سے آگاہی دی اور واپس بلوچستان اسمبلی کے جاری اجلاس کی خبروں میں مگن ہوگئے۔

چند ہی منٹ کیا گزرے اچانک ایک ساتھ ہی صحافی دوستوں کے فون کی گھنٹیاں بجنے لگیں کہ کبیر بلڈنگ میں فائرنگ کی اطلاع ہے۔ جس کے چند ہی سیکنڈ بعد اطلاع موصول ہوئی کہ آن لائن کے بیوروچیف سمیت دیگر ساتھیوں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے زخمی کردیا ہے اور گنجان آباد مقام سے با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

28 اگست کی رات کوئٹہ کے صحافیوں کے لیے کسی خوف ناک ، تاریک اور درد ناک رات سے کم نہیں۔ جہاں ہمارے زخمی دوستوں کو کبیر بلڈنگ جناح روڈ سے ہی سول اسپتال جناح روڈ تک پہنچانے میں رضاکاروں اور انتظامیہ کو ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگا۔ بلوچستان اسمبلی میں موجود صحافی سمیت اپنے دفاتر سے نکلنے والے صحافی سول اسپتال پہنچ کر اپنے دوستوں کو ڈھونڈنے میں مصروف رہے۔ تاہم چند ہی فرلانگ پر موجود کبیر بلڈنگ سے زخمیوں کو سول اسپتال نہیں پہنچایا جا سکا۔

راقم الحروف کی شہید ارشاد سے قربت اس قدر رہی کہ کبھی بھی آئن لائن کے دفتر جانا ہوتا ہے تو ان کے ٹیبل اور دفتر کی دیواروں پر خون کے چھینٹے خیالوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔ بلوچستان کی صحافت ہو یا سیاست ہو، شہید ارشاد مستوئی نے بہت سے نام کمانے والے لوگوں کو بہت کچھ سکھایا۔

تاہم 28 اگست کے واقعہ کے بعد منہ موڑنے والوں میں درجنوں ایسے لوگ شامل ہیں جنھیں خبروں کی اشاعت سے بے پناہ کامیابیاں حاصل ہوئیں اور آئن لائن کی بیٹھک میں سگریٹ پینے کی غرض سے بیٹھتے اور نہ صرف بہت کچھ سیکھ کر بلکہ بہت سے خبریں حاصل کر کے نکلتے۔

شہید ارشاد مستوئی کے ساتھ شہید ہونے والے نوجوان عبدالرسول نے ایک ماہ قبل ہی آن لائن میں بطور رپورٹر اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔ اس ہنس مکھ شخص کے ساتھ الیک سلیک ایک عرصے سے تھی تاہم کسی بھی خبر کے حوالے سے فون کرنے سے قبل شہید ارشاد مستوئی کا پیغام دیتا تاکہ اسے معلومات کے حصول میں کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔

آن لائن میں اکاؤنٹنٹ کے فرائض کی انجام دیہی کے دوران شہید ہونے والے محمد یونس نہ بھولنے والے شخص تھے جنھیں اخبارات میں خبریں گنوا کر چایئے منگوانا بھی روز کا معمول بن چکا تھا۔ تینوں شہداء کی ایسی یادیں جنھیں کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ 28 اگست کے اس سانحہ نے نہ صرف صحافت کو نقصان پہنچایا بلکہ اس آواز کو ہمیشہ کے لیے دبا دیا گیا جو کچھ حلقوں کو گوارا نہیں تھی۔

کبیر بلڈنگ میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو شائد ہی فائدہ پہنچا ہوگا لیکن وہ فائدہ قلیل عرصے کے لیے ہوگا کیونکہ قلم کی طاقت ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہے۔ شہید ارشاد مستوئی نہ سہی لیکن ان کے الفاظ اور ان کے سکھائے گئے جملے تمام صحافیوں نے اپنا لیے ہیں۔


جدید تر اس سے پرانی