ہمارے ‘مِس فٹ’ خواب

خالد میر

 میرا ماننا ہے کہ جب آپ کی سب خواہیشیں، سب خواب پورے جائیں، سب مقاصد حاصل ہو جائیں تو آپ کو ‘مر’ جانا چاہیے، کیونکہ بے مقصد و بے خواب زندگی ‘انسانوں’ کو زیب نہیں دیتی۔ اسی طرح میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ہر شخص خواب دیکھتا ہے (سوتے، جاگتے، جانے انجانے)، ہر انسان کا زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ مقصد یا مقاصد اپنے اپنے دائرہ کار، سوچ اور ارد گرد کے ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمارے عہد کے اکثر جوانوں کا مقصد ایک عدد سرکاری نوکری اور خوبصورت “چھوکری” (بیوی) کا حصول ہوتا ہے۔ کچھ کے لیے ایک اچھا بنگلہ، گاڑی، بنک بیلنس وغیرہ تو کچھ کسی ترقی یافتہ ملک میں سیٹل ہونے کا خواب دیکھتے ہیں۔

میرے عہد کے (یا پھر میرے اردگرد میں) بہت ہی کم ایسے لوگ ہیں جنھوں نے کوئی انوکھا خواب دیکھا یا جن کا مقصد کوئی اچھوتا یا غیر معمولی ہو۔ اس کی ایک وجہ سماج کا رویہ بھی ہے کہ ہم کچھ الگ سوچنے والے کو کتنی اہمیت یا کیا حیثیت دیتے ہیں۔ ہمارے سماج نے کچھ نیا سوچنے والوں پر اب تک صرف ‘لطیفے’ ہی بنائے ہیں۔

ہم پر قدرت کی کرم نواز ی یہ ہوئی کہ ہمیں ‘سکھانے’ والوں نے ابتدا سے ہی ہمیں سوال کرنا، تنقید کرنا، دنیا کو، چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھنے کی تربیت دی، اور اس سے بھی بڑھ کر قدرت کی مہربانی کہ میں نے خود پر ‘ہنسنا’ سیکھ لیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ وہ “چار لوگ” جو بات بات پہ “کیا سوچتے اور کہتے ہیں” ان کی فکر ختم ہوگئی۔ ہمارے خوابوں، خیالوں اور ارادوں پر اگر “چار لوگ” ہنستے ہیں تو میں ان کے ساتھ ہنستا ہوں، بلاشبہ وہ مجھے اور میں ان کو ‘ پاگل’ سمجھتا ہوں۔

میں اپنے سماج کے ان چند “پاگلوں” میں سے ہوں جسے کبھی ‘سرکاری نوکری’ کی خواہش نہیں ہوئی۔ بھلے اٹھارویں اسکیل کی ہی نوکری کیوں نہ ہو (آپ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ میں شاید ‘اہل’ ہی نہیں سرکاری نوکری کے لیے اس لیے خواہش نہ ہونے کا بہانہ بنا کر خود کو بچا لیتا ہوں) اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا تب سے مجھے ‘اپنی سرکار’ بنانے کی خواہش ہے۔ اب ایک طرف آپ کا خواب ‘اپنی سرکار’ بنانے کا ہو تو کون کمبخت سترہ ، اٹھارہ یا بیس گریڈ کی سرکار والی نوکری کا سوچے گا؟۔

نیم سرداری و جاگیردرانہ سماج کے لوئر مڈل کلاس، درجہ چہارم کے سرکاری ملازم کا اگر نکما ‘بیٹا’ ایسے خواب دیکھے تو یہ سماج میں “مِس فٹ” خواب ہی ہوتے ہیں۔ چار نہیں چالیس ہزار لوگ ہنستے ہیں ، لیکن صد شکر اس ‘تربیت’ کا جس نے سکھایا کہ اگر لوگ ہمیں ‘مجنوں’ (پاگل) سمجھ کر ہی ہنس رہے ہیں تو اس میں برائی ہی کیا ہے؟ ہنستے رہیں، مسکراتے، لطیفے بناتے رہیں۔ اس سے ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوتا، بس گالیاں یا گولیاں نہیں چلنی چاہیئں۔

اس خواب کو اب بیس برس گزر گئے ہیں۔ عملی طو ر پر ‘پیش رفت’ شاید ایک ٹکے کی نظر نہیں آتی لیکن خواب اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ برقرار ہے۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ سرکار تو ‘ہماری’ بنے گی، بھلے ‘ہم’ رہیں نہ رہیں۔ (“ہمارے نہ رہنے پر بھی ‘ہماری سرکار’؟” کا معمہ سمجھنے میں شاید کچھ لوگوں کو بیس برس مزید لگ جائیں، کیونکہ ہمیں بھی یہ سمجھنے میں لگ بھگ اتنا ہی وقت لگا ہے)۔

دورانِ تعلیم ہی میں تعلیمی ادروں، نصاب اور نظام سے بیزار ہو گیا۔ تعلیمی ادارے انسانوں کو مشینیں اور ‘نوکر’ بنانے کی فیکٹریاں لگنے لگیں۔ اس لیے انہیں چھوڑ کر ‘سیلف اسٹڈی’ کو ترجیح دی۔ پھر اسی مسئلے کے پیش نظر ایک خواب دیکھا۔ ایک ایسے ادارے کا قیام جہاں رسمی نصاب کے بجائے لوگوں کو اچھا انسان بنانے کی تربیت دی جائے۔ انسانی حقوق، انسانوں کا احترام کرنا اور خواب دیکھنا سکھایا جائے۔ جہاں ایسی تربیت دی جائے کہ لوگ ‘نوکر’ بننے یا کسی کو ‘نوکر’ بنانے کے بجائے مل کر ایک دوسرے کے خوابوں کی تکمیل میں ساتھ نبھانا سیکھیں۔ جہاں لوگوں کو اپنی اور دوسروں کی ‘آزادی’ کو انجوائے کرنا سکھایا جائے۔ جہاں لوگ کسی کے انوکھے خواب دیکھنے پر ہنسنے کے بجائے ان کے خوابوں کی تکمیل کی خوشیوں کو ‘سیلی بریٹ’ کرنے پر ہنسیں، مسکرائیں۔ ایک ایسا ادارہ جہاں کام کرنے والے لوگوں پر ‘اسکیل/ درجے’ کا کوئی ‘ٹیگ’ نہ ہو۔ صبح نو سے پانچ والے اوقات کار کی پابندی کے بجائے ذمہ داریاں نبھانے کی پابندی ہو۔ 

اور یہ خواب صرف ایسے ایک ادارے کا نہیں بلکہ پورے سماج کی تشکیل کا ہے لیکن میں ‘چھوٹے ذہن’ کا آدمی ہوں اس لیے ‘چھوٹا خواب’ دیکھا ہے اور اس خواب کی تکمیل سے پہلے میں ‘مرنا’ بھی نہیں چاہتا۔

بلاشبہ یہ خواب ‘ پاگل پن’ لگتے ہوں گے، لیکن میں یقین سے کہتا ہوں اسی سماج میں، ہمارے ارد گرد ایسے کئی اور ‘دیوانے’ یہی خواب دیکھ رہے ہوں گے لیکن “چار لوگوں کی باتیں اور ہنسی” شاید ان کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔

میں ان چار لوگوں کی باتوں اور ہنسی کو تو ‘لفٹ’ نہیں کراتا لیکن ‘غمِ روزگار’ نے خوابوں کی تکمیل کے لیے وقت ہی نہیں دیا۔ دس سالہ ‘جدوجہد’ کے بعد جا کر خود کو “نوکری” کے جھنجھٹ سے ‘آزاد’ کرایا ہے۔ چھوٹا سا کاروبار شروع کیا ہے جو ابتدا میں ‘وقت’ ہی مانگ رہا ہے۔ تین ماہ میں اس کاروبار سے مالی منافع شاید ہی ہوا ہو لیکن جو ‘آزادی کی لذت’ ہے؛ سب منافع ، سب سرمایہ اس پر قربان۔

سو، اب اس آزادی کی لذت میں ‘ذمہ داری’ کا کچھ ‘تڑکا’ لگا کر اپنے ادھورے مِس فٹ خوابوں کی تکمیل کے لیے کام ہوگا۔ ہماری رفتار بھلے کچھوے والی ہی سہی، لیکن اس یقین کے ساتھ چلتے رہیں گے کہ سفر میں ضرور کوئی ‘خرگوش’ بھی ملے گا جس سے ‘مقابلے’ کے بجائے ‘دوستی’ کر کے ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر مل کر منزل تک پہنچنے کا انتظام ہوگا۔

جدید تر اس سے پرانی

Archive