الکاسبُ حبیب اللہ، مزدوروں کا عالمی دن


 

محمد رفیق مغیری

آج ہی جبرو ستم سے ہم نے پائی تھی نجات
آج ہی محنت کشوں نے پھر سے پائی تھی حیات
آج ہم ان باغیوں کو پیش کرتے ہیں سلام
جن کا عزمِ مستقل ہے زیست کا تازہ پیام

طبقاتی نظام کی ابتدا ذاتی ملکیت کی تصور سے ہوئی۔ جب انسان نے سوچا کہ قدرتی وسائل، زمین اور مصنوعی پیداوار کے ذرائع پر ذاتی ملکیت کا قبضہ جمایا جائے اور سرمایہٕ کو زیادہ سے زیادہ اپنی ذات کے لیے اکٹھا کیا جائے۔ اسی ذاتی سوچ اور لالچ کی بنیاد پر دوسرے انسانوں کے استحصال کی ابتدا ہونا شروع ہوئی۔ اسی استحصالی سوچ نے سرمایہ داری نظام کی جڑیں مضبوط کیں۔ اور یہ ایسا تناور اور مضبوط درخت بنا کہ دیکھتے ہی دیکھتے درخت سے ایک جنگل کا روپ اختیار کر گیا۔ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام اس کی بھیانک صورت ہے۔ اور آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اشرف المخلوقات کے دامنِ فضیلت پر ایک بدنما دھبہ ہے۔ اس نظام کا یہ ایک عام اصول ہے کہ سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے لاکھوں لوگوں کا استحصال کرنا پڑتا ہے، تب جا کر سرمایہ اکٹھا ہوتا ہے۔ ہر ناجائز، غیرقانونی، غیراخلاقی اور غیرانسانی کام کرنا پڑتا ہے۔

آج دنیا میں جتنے بھی لوگ سرمایہ دار یا دولت مند امیر ترین ہیں، ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی غیرقانونی، غیراخلاقی اور غیرانسانی فعل ضرور کارفرما ہے۔ ورنہ یہ سب ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں جتنی دولت اور سرمایہ تقریباً ساڑھے تین ارب عوام کے پاس ہے، اتنی ہی دولت پوری دنیا میں صرف ایک درجن لوگوں کے پاس ہے۔ سرمائے کی اسی غیرمنصفانہ تقسیم نے معاشرے میں دو طبقات کو جنم دیا ہے۔ ایک مراعات یافتہ اور دوسرا محروم طبقہ۔ مراعات یافتہ چوں کہ مکار و چالاک طبقہ ہے، انھوں نے اپنی مکاری کی بدولت وسائل اور سرمائے پر غاصبانہ قبضہ کر کے دوسرے طبقے کو وسائل اور سرمائے سے یکسر طور پر محروم رکھا ہے۔

ہمارے سماج میں آج کل جو دولت کی فراوانی ہے اور مخصوص افراد کے پاس دولت کے انبار لگے ہوئے ہیں، دیکھا جائے تو انسانی تاریخ نے پہلے اتنی دولت کبھی نہیں دیکھی۔ مگر دوسری جانب ہمارے سماج میں بے حد بھوک، بدحالی، افلاس، تنگ دستی، بے روزگاری اتنی ہے کہ لوگ اپنئ اولادوں کو دو وقت کی روٹی کے لیے بیچ رہے ہوتے ہیں۔ مفلس طبقہ روز بروز مفلس ہوتا جا رہا ہے، جب کہ امیر طبقہ روز بروز امیر ترین ہوتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے سماج کا ایک کثیر حصہ بے روزگار اور بدحال و بیکار پھرتا ہے۔ اور دوسری جانب برسرِروزگار ایک قلیل حصہ سخت محنت اور مشقت کی انتہائی سختی کے عالم میں اور دورانیہ کام کی زیادتی و بوجھ کی وجہ سے عین جوانی میں بوڑھا ہو جاتا ہے اور قبل از وقت موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

یہی کام کا دورانیہ کم کرنے کے لیے آج سے تقریباً ایک سو پینتیس سال قبل امریکہ کے مظلوم و محکوم اور محنت کش عوام نے سامراجی طاقتوں اور سرمایہ داروں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ان کے اس استحصالی نظام کے خلاف اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے اور کام کا دورانیہ آٹھ گھنٹے مقرر کرنے کے لیے یکم مئی ١٨٨٦ ٕ کو احتجاج کا باقاعدہ جمہوری انداز میں آغاز کیا۔ تو سرمایہ داروں اور استحصالی طبقے کے پاؤں لرزنے لگے۔ ان کی سرمایہ دارانہ عمارت کی جڑیں ہلنے لگیں۔ حالاں کہ یہ ایک انتہائی پُرامن جدوجہد تھی۔ اسی جدو جہد کا آغاز مزدوروں نے اسی دن کئی بڑے شہروں سے کیا تھا۔ جس میں نیویارک، شکاگو، پیٹسبرگ، بالٹی مور، سن سناٹی، کولمبس، مل واکی، سیاٹل، سان فرانسسکو، بوسٹن، کلو لینڈ، سینٹ لوئس، واشنگٹن، فلیڈیلفیا اور بعض دوسرے بڑے شہروں میں بھی مزدوروں نے جدوجہد کی ابتدا کی۔ تقریباً تین لاکھ مزدور سڑکوں پر نکل آئے۔ سرمایہ دار طبقے نے جب اتنی بڑی تعداد میں اور منظم انداز میں مزدوروں کے اتحاد کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ انھوں نے اپنے سرمائے کے سورج کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو فورا اپنی چالاکی سے مزدوروں کے اس پرامن احتجاج پر ریاستی طاقت کا استعمال کرایا اور ریاستی غنڈوں کے ذریعے ان پر حملہ کرایا۔ پولیس نے اپنی بندوقوں کے منہ مزدوروں پر کھول دیے اور یہ پر امن احتجاج میدانِ جنگ میں بدل گیا۔ ہزاروں لوگوں کو بے گناہ قتل کر دیا گیا۔ میدان خون سے سرخ ہوا لیکن مزدوروں نے پھر بھی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے احتجاج کو منتشر ہونے نہیں دیا اور جو سفید جھنڈے ان کے ہاتھوں میں تھے، مزدوروں نے وہ جھنڈے اپنے جانثار ساتھیوں کے خون سے سرخ کر لیے۔ اسی دن سے لے کر آج تک مزدوروں کا یہ سرخ جھنڈا بین الاقوامی انقلاب کی علامت بن چکا ہے۔

مگر سرمایہ دار طبقے کا جگر ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ انھوں نے مزید ایک مکاری کی چال چلتے ہوئے ریاست کو تو اپنا ہمدرد بنایا ہوا تھا لیکن انھوں نے اس وقت کے میڈیا کو بھی اپنا ہمدرد بنا لیا۔ جس کی وجہ سے مزدوروں کے قتلِ عام کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوا۔ اس لیے آج تک کسی کو یہ پتہ نہیں چلا کہ کتنے ہزار مزدور اس جنگ میں لقمہ اجل بنے۔ الٹا مزدوروں کے رہنماؤں کو ریاست کی پولیس نے گرفتار کیا اور جیلیں بھر دیں۔ مگر آفرین ہو مزدور رہنماؤں کو کہ انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی۔ بالاَخر سات سالوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد ٢٦ جون ١٨٩٣ ٕ کو امریکہ کے اس وقت کے گورنر جان پیٹرسن نے سارے مزدوروں کی جیل سے رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ اور یکم مئی ہر سال مزدوروں کے مطالبے پر یومِ مزدور کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ اسی دن سے لے کر آج تک پوری دنیا میں مزدور یکم مئی کو یوم مزدور کے طور پر مناتے آ رہے ہیں۔

لیکن سرمایہ دار کی مزدور کش پالیسیاں اسی دن سے رائج ہیں اور روز بروز ان میں مزید ترمیم اور سختیاں کی جا رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا کے محنت کش طبقے کی زندگیاں روز بروز تلخ ہوتی جا رہی ہیں۔ اس لیے دنیا کے تمام مزدور اور محنت کش طبقے کو ان سرمایہ دار طبقے کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف متحد و منظم ہونا ہوگا۔ کیوں کہ سرمایہ دار طبقہ کسی بھی صورت میں مزدوروں کو بنیادی حقوق دینے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ آئے روز مزدوروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے نئی نئی تدابیر سوچتا رہتا ہے۔ اس طبقے کا اہم مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے سرمائے کو اپنے قبضے میں رکھے۔ تاکہ سرمایہ عام لوگوں تک نہ پہنچے۔ اس لیے اس منحوس سرمایہ داری نظام نے دنیا کی اکثریتی آبادی کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔ اور دن رات بے تحاشا محنت کر کے دنیا کے پہیے کو چلانے والے محنت کش عوام کے پاس بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ صحت، تعلیم، روزگار، صاف پانی، سڑکیں، روزمرہ استعمال کے لیے سواری، غرض کہ کسی قسم کی کوئی سہولت انھیں میسر نہیں۔

مگر دوسری جانب سرمایہ دار طبقہ دولت کے زور پر دنیا کی تمام رنگینیوں سے ہمہ وقت لطف اندوز ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر سہولت انھیں حاصل ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کائنات اور کائنات میں موجود تمام چیزیں اور وسائل صرف اور صرف سرمایہ دار طبقے کے لیے تخلیق ہوئے ہیں۔ مگر حقیقت میں ایسا ہرگز نہیں ہے۔ کیوں کہ ماں کے پیٹ سے کوئی دولت ساتھ نہیں لاتا بلکہ ہر بچہ دونوں ہاتھ خالی آتا ہے۔ مگر یہ دنیا اور معاشرے کا نظام انھیں یہ سب کچھ میسر کرتا ہے۔

اس لیے یکم مئی کے جاں نثاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ سرمایہ داری استحصالی اور طبقاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے منظم جدوجہد کرنا چاہیے تاکہ ارب ہا محنت کش طبقے میں سے غربت، جہالت، پسماندگی، بھوک و بدحالی کو یکسر طور پر ختم کیا جا سکے۔ دراصل یکم مئی کے مزدوروں کے عالمی دن کا بھی یہی فکروفلسفہ ہے۔


جدید تر اس سے پرانی