سماج کیسے بدلا جا سکتا ہے؟



 رضوان بلوچ

جہاں بھی جائیں، جس بھی گھڑی، اگر ہم دیکھیں تو ہمارا معاشرہ، ہمارا سماج ہم اس میں قید ہیں، جہاں بھی دیکھیں ہم اس سماج کے باندی ہیں۔ اور ہم ایسے سماج سے تعلق رکھتے ہیں کہ جہاں ہم ہر طرح سے قید ہیں۔ جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ہم سچ بول نہیں سکتے، جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ اس سماج میں حق پرستی جرم بن گیا ہے۔ جھوٹ اور فریب ہی اس سماج کا قانون بن گیا ہے۔ جو جھوٹ بولے، غداری کرے، منافقت کرے، چغل خوری کرے، یہاں اس سماج میں بس یہی لوگ کامیاب ہیں اور کامیاب رہتے آئے ہیں۔

ہماری ایک سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ہم اس سماج میں غلام کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ لیکن ہمیں غلامی کا احساس تک نہیں ہے اور میرے خیال سے اس سے بڑی اور خطرناک غلامی اور نہیں ہے کہ جس غلامی کا بندے کو پتہ ہی نہ ہو۔

ایسے سماج میں ظُلم تو ہوگا جہاں حق کی بات کرنا جرم بن جاتا ہے، جہاں اگر کوئی کچھ کہہ دے تو اس کو لاپتہ کیا جاتا ہے، یا اس کو قتل کر کے اس کی لاش کو کسی ندی نالے میں پھینک دیا جاتا ہے، یا اس کو زِنّدان میں قید کیا جاتا ہے۔ چند سالوں کے لیے یا عمر بھر کے لیے اس کو زندان میں قید کر کے اس کے خاندان کو زندہ دفن کر دیا جاتا ہے۔ اس شخص کے ماں، بہن، بھائی، باپ سب زندہ لاش بن جاتے ہیں۔

ایسے سماج سے میں تعلق رکھتا ہوں۔

اس سماج کے محافظ کے ہاتھوں ہم غیرمحفوظ ہیں، اس سماج رکھوالے اسے اپنی جاگیر سمجھ کر لوٹنے میں مصروف ہیں اور ان کا تو کام ہی یہی ہے۔ اس لیے ہم بس اپنی کمزوریوں کو دیکھتے ہیں۔

ہم نے خود اپنے سماج کو بگاڑ کر رکھا ہے۔ یہ سماج ہمارا ہے اور اس کو ہم نے ہی بگاڑا ہے۔ اگر دیکھا جائے اس سماج میں عورت کو اس طرح آزادی نہیں ہے نہ پڑھنے کی آزادی، نہ لکھنے کی آزادی، نہ باہر جانے کی آزادی، نہ ہی زندگی اپنی مرضی سے گُزارنے کی آزادی۔ ہم نے اس سماج میں عورت کو اپنا باندی بنا کر رکھا ہے۔ ایک قیدی کی طرح رکھا ہے عورت کو ہم نے اور ہم عورت کو کچھ اہمیت دیتے ہی نہیں ہیں۔

اس سماج میں کچھ لوگ ہیں جو نعرے تو لگاتے ہیں کہ عورت کو آزاد کرو اور ان کو آگے نکلنا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ عورت بھی کچھ کرے، عورت بھی مرد سے کم تر نہیں ہے لیکن معذرت کے ساتھ میں ان سے ایک سوال کرنا چاہوں گا کہ، اس سماج میں جس طرح آپ کہتے ہو کہ عورت آزاد ہو، کیا آپ کے اپنے گھر والے آزاد ہیں؟ میرے خیال سے تو اکثر کے ہاں نہیں۔

تو جناب آپ اپنی سوچ اور خیال بدلو، سماج بدل جائے گا۔ پہلے آپ شروعات اپنے گھر سے کرو، اپنی بہن یا بیٹی کو آگے لاؤ اور فخر سے کہو کہ یہ میری بیٹی ہے یا یہ میری بہن ہے تو سماج میں بدلاؤ آئے گا۔ اس کو حوصلہ آپ دو کہ اپ کچھ کر سکتے ہو، آپ کچھ بن سکتے ہو، آپ میں کچھ کرنے کی صلاحیت ہے۔ یہ سماج آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اس سماج کو آپ خود بدل سکتے ہو۔ آپ جیسا چاہوگے، ہمارا سماج اس طرح چلے گا۔ اب یہ آپ پر ہے کہ آپ لوگ جو یہ نعرہ لگاتے ہو اس پر عمل کس طرح کروگے۔

امید یہی ہے کہ سماج کو بدلنے کی شروعات آپ اپنے گھر سے کریں گے۔


جدید تر اس سے پرانی