موجودہ حالات میں دانش وروں کا کردار


 

نصیر بلوچ

دانش ور کی تعریف اس ملک میں کچھ اور ہے۔ ایک حقیقی دانش ور کسی بھی طرح کے حالات میں غیر جانب دار ہوتا ہے۔ وہ اپنی انا، جذبات کو کسی تحریر پہ اثر انداز ہونے نہیں دیتا ہے۔ کیوں کہ وہ معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ میں پورے پاکستان کی بات کروں تو بہت کم ہی صاحب علم شخصیات ہیں جو اس تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ اور خاص کر جنھیں ملکی میڈیا دانش ور گردانتا ہے۔ ان میں ایک معروف کالم نگار حسن نثار ہیں جو آج کل عمران خان کے حق میں بولتا ہے۔ معذرت کے ساتھ جناب ہر وقت اخلاقیات کے فقدان کا موضوع لے کرایک غیراخلاقی چڑچڑی سی بحث چھیڑتے ہیں جنھیں سنبھالنا رپورٹ کارڈ کی میزبان علینہ فاروقی کے لیے مشکل تر ہوجاتا ہے۔ پھر بھی وہ انھیں منت سماجت کرکے رپورٹ کارڈ پرگروام میں بلاتے ہیں کیوں کہ معاشرہ اور اسی میڈیا نے لوگوں کے سامنے انھیں دانش ور گردانا ہے۔

جب میں نے اسی موضوع سے متعلق انٹرنیٹ پر سرچ کیا کہ شاید میں کچھ صاحبِ علم دانش وروں ک بھول رہا ہوں، ہاں یقیناً یہ ممکن تھا کیوں کہ ایک گہری سوچ و بچار کے باجود کوئی ایسے شخصیت کا نام ذہن میں نہیں آ رہا تھا۔ جب میں نے "پاکستان کے دانش ور کون ہیں؟" لکھ کر سرچ کیا تو سرچ انجن پر جو سب سے اوپر آئی انفارمیشن تھی وہ یہ تھی کہ "پاکستان کے سیاست دان کون سا نشہ کرتے ہیں" اسکرول کرکے بہت ڈھونڈا لیکن اس سے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں۔ پھر میں وہی قلم منہ میں لیے چائے کی چسکی لیے سوچ میں پڑگیا تو کوئی ایک نام بھی ابھر کر دل کی اسکرین میں آویزاں نہیں ہوا۔ 
 
بالآخر چند ایک مصنفیں کا معلوم ہوا جو دانش ور کی تعریف پر پورا اترتے ہیں جن میں سب سے زیادہ نمایاں معروف تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی ہیں۔ پاکستانی مصنفیں بہت عمدہ لکھتے ہیں لیکن موضوعات کا فرق ہے۔ کچھ سیلف ہیلپ کی کتابیں ہوتی ہیں اور کئی اس خطے سے باہر ممالک سے متعلق ہوتی ہیں۔ 
 
چوں کہ ہمارا موضوع کسی قدر موجودہ دور میں دانش وروں کے کردار پر ہے،
اسی متعلق جو چند ایک کتابیں میں نے پڑھی ہیں جو سماج پر ہیں تو وہ میر گل خان نصیر، ڈاکٹر شاہ محمد مری اور ڈاکٹر مبارک علی ایسے دانش ور ہیں جنھوں نے بغیر کسی تعصب کے حقائق کو قلم بند کیا ہے۔ میرے نزدیک سب سے نمایاں مصنفین اور دانش ور یہ تین ہیں، یقیناً کئی مصنیفین اور بھی ہیں لیکن موضوع کی نوعیت کا فرق ہے۔ اور اپنے موضوع سے ہٹ جانے کا ڈر بھی۔ 
 
آج پاکستان کے جو حالات ہیں بالخصوص بلوچستان کے، ان تباہ کن حالات میں بھلا کون سے دانش ور ایسے ہیں جو حقائق سامنے لا رہے ہوں۔ اگر پاکستان کے باقی صوبوں کی بات کی جائے تو کوئی ایسا شخص نہیں جو بلوچستان کے تباہ کن حالات کے بارے میں بات کررہا ہو۔ ہاں البتہ ہم بلوچستان میں ایک نظر دیکھیں تو یہاں کے لکھاری نہ صرف بلوچستان کے حالات کے بلکہ پاکستان کے جو حقائق ہیں، وہ ان پر لکھ رہے ہیں۔ 
 
انتخاب کے ایڈیٹر انور ساجدی کے کالم میں تنقید برائے تعمیر کا عنصر موجود ہے اور ہر موضوع پر بغیر کسی تعصب اپنا غیر جانبدارانہ تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ عابد میر صاحب ممتاز بلوچ لکھاری ہیں جن کے غیرجانب دارانہ تجزیوں سے ہم فیض یاب ہوتے ہیں۔ معروضی موضوعات پر وہ اچھی دسترست رکھتے ہیں۔ ہر زیربحث موضوع پر اپنی قیمتی آرا و تجزیے سے ہمیں مستعفید کرتے رہتے ہیں۔ خواہ موضوع سیاست، ادب، انٹرٹینمنٹ ہو۔ یوں کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ہر زیربحث موضوع پر ہمیں اپنی قیمتی آرا سے آگاہ کرتے ہیں۔
 
بلوچستان کے عوام مین اسٹریم میڈیا سے نالاں ہیں جبک ہ صاحبِ علم جنھیں میڈیا دانشور گردانتا ہے، بلوچستان کے حالات پر کبھی نہیں بولتے۔ یعنی بلوچستان کے موجودہ حالات میں صوبے کے علاوہ باقی ملک کے دانش وروں کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔
جدید تر اس سے پرانی