{ads}



شکور بلوچ


ڈیرہ بگٹی کی سب تحصیل پیرکوہ میں قلتِ آب کی خبریں سوشل میڈیا پہ چلتی ہیں۔ پتہ چلتا ہے کہ علاقے میں پانی ناپید ہے۔ چند ایک گڑھوں میں بارش کا پانی جمع ہے بھی تو وہ پرانا اور زہریلا ہو چکا ہے جس سے ہیضے کی وبا پھیل رہی ہے۔ اموات واقع ہورہی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں کی تصاویر اور وڈیوز سوشل میڈیا پہ وائرل ہو جاتی ہیں۔ کسی تصویر میں گدھوں سمیت مخلف جانوروں اور انسانوں کو ایک ہی جگہ سے پانی پیتے دیکھا جا سکتا ہے تو کسی ویڈیو میں ایک ضعیف العمر شخص علاقے کی ابتر صورت حال بتاتے ہوئے مدد کی اپیل کر رہا ہے۔

سوشل میڈیا پہ وائرل ان تصاویر نے ہمارے دل بھی پگھلا دیے اور ہمیں سوچنے پہ مجبور کیا کہ  ایک ایسے وقت میں جب ہمارے ہی جسم کا ایک حصہ شدید  تکلیف  میں مبتلا ہے تو ہم آرام سے گھر بیٹھ کر محض سوشل میڈیا پہ پوسٹس کرنے پہ کیسے اکتفا کرسکتے ہیں۔

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے شال زون کے دوستوں کا اجلاس ہوا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ علاقے کے لوگوں سے رابطہ کر کے یہ معلوم کیا جائے گا کہ ہم ان کی کیسے مدد کرسکتے ہیں۔ رابطہ کرنے پہ پتہ چلا کہ انھیں اس وقت فوری طور پر ایک ہی شئے درکار ہے اور وہ ہے فقط پانی۔ علاقے کے کچھ دوستوں نے ہم سے اپیل کی کہ ان کے لیے کسی بھی طرح پانی کا بندوبست کیا جائے۔

ہم سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ ایک طلبا تنظیم ہوتے ہوئے محدود وسائل میں ہم اپنے لوگوں کی کیسے مدد کرسکتے ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ قوم سے رجوع کیا جائے گا، ہم لوگوں کے سامنے جھولی پھیلائیں گے اور جتنا کچھ ہم سے بن سکا وہ پیرکوہ پہنچائیں گے۔

اگلے ہی دن تنظیم کے شال زون کے سنگتوں نے جامعہ بلوچستان کے سامنے امدادی کیمپ لگایا اور لوگوں سے عطیات جمع کروانے کی اپیل کی۔ کچھ دوستوں نے چندہ باکس بنا لیا اور جامعہ کے ہر بلاک اور ہر ڈپارٹمنٹ گئے۔ دو دن تک یہ مہم چلتی رہی۔ بالآخر دو دنوں میں ہم اتنے عطیات جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ پیرکوہ جا کر وہاں کے لوگوں کو کچھ عارضی ریلیف پہنچا سکیں۔

اب اگلا مرحلہ پیرکوہ جا کر پانی پہنچانے کا تھا۔ ڈیرہ بگٹی  کے نامناسب سیاسی حالات ہمیں جا کر وہاں کسی بھی قسم کی سرگرمی کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ بالآخر زونل آرگنائزر نذیر بلوچ اور دیگر دوستوں کا فیصلہ آیا کہ یہ کام مجھ نا چیز اور تنظیمی سنگت اسرار بلوچ کے کاندھوں پہ ڈالا جائے گا۔ تنظیمی فیصلہ آ چکا تھا اور ہم دونوں دوستوں نے سر تسلیم خم کر کے فیصلہ قبول کر لیا۔

ڈیرہ بگٹی جانے کے لیے پبلک کوئی خاص پبلک ٹرانسپورٹ نہیں، وہاں بسیں نہیں جاتی اور نہ ہی ویگنیں۔ صرف ٹیکسی چلتی ہے۔ ایک ٹیکسی والے سے رات کو بات ہوئی اور صبح آٹھ بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے سے ہم منزل کی جانب چل پڑے۔

مچھ کراس کرتے ہی ہمیں موسم کی شدت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ ہم دونوں دوست کوئٹہ کے رہنے والے تھے۔ شدید گرمی سے ہماری حالت پتلی ہوتی جا رہی تھے۔ ڈھائی گھنٹے بعد سبی بائی پاس پہنچے/ آدھا گھنٹہ وہاں رکے۔ چائے پی اور آگے کو نکل پڑے۔

یوں تو ڈیرہ بگٹی کے لیے نزدیک ترین راستہ بختیار آباد سے نکلتا ہے اور لہڑی سے ہوتے ہوئے ڈیرہ بگٹی جاتا ہے لیکن یہ راستہ نامناسب حالات کی وجہ سے عرصہ دراز سے بند ہے۔ دوسرا راستہ جعفر آباد اور صحبت پور سے ہوتے ہوئے سوئی کو جاتا ہے۔ ہم اسی راستے سے چل پڑے۔

صحبت پور سے ڈیرہ بگٹی ضلع میں داخل ہوتے ہوئے آپ کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے آپ ٹائم مشین پہ بیٹھ ستر سال پیچھے آ گئے ہیں۔ یہاں پکی سڑک ختم ہوتی ہے اور ایک کچی سڑک شروع ہوتی ہے۔ اسے سڑک کہنا بھی مناسب نہیں بلکہ پگڈنڈی کہنا چاہیے۔ اگر سامنے سے کوئی گاڑی آ رہی ہو تو راستہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ راستہ آگے جا کر پٹ فیڈر کینال کے ساتھ لگتا ہے۔ یہاں یہ راستہ تھوڑا کھلا ہوتا ہے لیکن کچا ہی رہتا ہے۔ پٹ فیڈر کینال کے ساتھ ہی سفر کرتے ہوئے آپ کو شدید گرمی میں بچے  ننگے پاؤں پھرتے ہوئے ملیں گے، کچھ سڑک کنارے کھڑے آنے جانے والی گاڑیوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔

آگے ہمیں ایک چیک پوسٹ دِکھی اور ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بھائی یہاں سے آپ کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ لیکن گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، امتحانات کے سوالات وہی گھسے پٹے اور پرانے ہیں۔ کہاں سے آ رہے ہو؟ کہاں جا رہے ہو؟

ہم مسکرا دیے اور پھر چیک پوسٹ کے قریب جا کر ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ گاڑی سے اترا اور سامنے جا کر ایف سی والے سے بات کرنے لگا۔ ہم سب کی انٹری ہوئی اور پھر ہم آگے کو چل دیے۔

کچھ ہی فاصلے پہ جانی بیڑی کے مقام پہ ایک اور چیک پوسٹ آئی، ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔ ایف سی اہلکار قریب آیا۔ ہم سب کی شکلوں کا بغور جائزہ لینے لگا، اور پھر حسبِ روایت وہی سوال دہرائے، ہم نے وہی جواب دی دیے، شناختی کارڈ چیک ہوئے اور پھر ہمیں آگے جانے کی اجازت مل گئی۔ سوئی میں داخل ہونے سے پہلے ہمیں ایک اور چیک پوسٹ سے گزرنا پڑا اور وہاں بھی لگ بھگ یہی واقعات پیش آئے۔

خیر ہم بالآخر سوئی میں داخل ہو گئے۔ سوئی میں داخل ہوتے ہی ہمارے نتھنوں میں ایک عجیب سی بو گھس گئی۔ پوچھنے پہ معلوم ہوا کہ یہ گیس کی بو ہے اور باہر سے آنے والوں کو محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے چاروں طرف گیس کے کنویں تھے، جن کو پائپ لائنز کے ساتھ مرکزی گیس فیلڈ کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔

خیر ہم اپنے میزبان کے گھر پہنچ گئے۔ ہمارے میزبان بی این پی کے ضلعی صدر میر احمد بگٹی تھے۔ انھوں نے ہمارا استقبال کیا اور مہمان خانے کے اندر لے گئے۔ اندر جا کر بلوچی حال حوال ہوا اور چائے پانی کے بعد ہم نے کچھ دیر آرام کیا۔

(جاری)

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی