نئی حکومت سے بلوچوں کی ٹوٹتی امیدیں



تحریر: ایوب جاموٹ



دنیا بھر میں یہ کہاوت مشہور ہے کہ دنیا امید پر قائم ہے۔ جس کی  واضح مثال قرآن مجید کی آیات میں ہے جس میں ناامیدی کو کفر سے جوڑا گیا ہے اور اسی وجہ سے ہمیشہ امید کے سہارے زندگی بسر کرنے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ کبھی مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

چند سال قبل وہ بھی کیا دن تھے جب مریم نواز کے والد‏ پر غداری چوری کے کیس چل رہے تھے۔ ملک بھر میں خاندان پر الزامات کے انبار لگ رہے تھے۔ اس دوران اکیلی عورت اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی مخالفین کا خیبر سے کشمیر تک مقابلہ کرتے ہوئے جب مظلوموں و محکوموں کی دھرتی بلوچستان تشریف لائی تو بلوچستان میں رہنے والے مظلوموں نے ان کو خوش آمدید کہا اور پھر وہ  بلوچ لاپتہ افراد کی آواز بن۔

مریم نوار کو بلوچ، پشتون اور سندھی مظلوم طبقے نے خوب سراہا اور ان کی خوب پذیرائی ہوئی۔ سابق ادوار میں اکثر سیاسی بحث و مباحثے میں ان  کی جدوجہد سے اک امید پیدا ہوئی کہ اب ظلم و بربریت کا زوال شروع ہو چکا ہے۔ ماؤں کے جگر کے ٹکڑے اب مزید زندانوں میں نہیں رہیں گے۔ اب وہ تاریک رات ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔ بلوچستان سمیت دیگر صوبوں سے جبری لاپتہ ہونے والے افراد بازیاب ہو کر اپنے پیاروں سے ملیں گے۔ وہ ایک نیا دور ہو گا۔ اس ملک میں اندھیری شب کا خاتمہ ہو  گا صبح کی کرن  طلوع ہو گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کا سیاسی نظام تبدیل ہوتا گیا۔

 حکومتی اتحادی عمران خان کو چھوڑ کر پی ڈی ایم کا ساتھ دینے لگے۔ نیازی کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع ہونا تھی کہ قاسم سوری نے آئین پاکستان کی خلاف ورزی کی عدلیہ حرکت میں آ گئی بلوچستان سمیت پورے پاکستان کے عوام کی بے چینی بڑھ گئی۔ ایک طرف جمہوریت کی بالادستی تھی اور دوسری طرف مارشل لا کا خوف تھا لیکن یہ مارشل لا کا خوف اب اپنی اہمیت کھو بیٹھا تھا  کیوں کہ جبر کی چکی میں پستے پستے اب وہ ڈر اور خوف ختم ہوچکا تھا۔

 ظلم کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کے باوجود امید کی اک کرن تھی لیکن پھر بھی بلوچستان کے مظلوم طبقے کی مسلم لیگ ن اور پی ڈی ایم سے امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ عدلیہ کے فیصلے کے منتظر تھے۔ عدلیہ نے جمہوریت کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا فیصلہ لیا۔ چند دنوں کی بات تھی، پورے ملک میں ہل چل مچ گئی تھی کہ اس ملک کی کمان کس کے پاس جائے گی؟ ہر کسی کو اس دن کا انتظار تھا کہ اب اس ملک میں بااختیار جمہوری حکومت قائم ہو گی۔ ووٹ کو عزت دینے کے لیے تمام پارٹیاں مل بیٹھ کر سنجیدگی سے غور وفکر کریں گی۔
 
  آخر کار وہ خواب پورا ہوا۔ ملک میں جمہوری روایات کے مطابق نئی حکومت قائم ہوئی۔ لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی فیملی کے حوصلے بلند ہونے لگے۔ وہ وعدے اور یقین دہانیاں جو مریم نواز نے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آج نون لیگ اقتدار میں ہوتی تو شاید بلوچ زندانوں میں نہیں ہوتے۔۔۔ وہ وعدہ تھا جو وفا نہ ہوا۔

وزیراعظم شہباز شریف اپنا منصب سنبھالنے کے فوراً بعد کوئٹہ تشریف لاتے ہیں اور میڈیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ طاقت ور حلقوں کے سامنے اپنی بات رکھیں گے۔

اس سے واضح ہوتا ہے کہ ملک میں بااختیار حکومت صرف لفاظی حد تک محدود ہے۔ نہ اس ملک میں کوئی با اختیار وزیراعظم آ سکتا ہے۔ آج بھی بلوچستان میں ہونے والے مظالم نہ رک سکے۔ آج بھی بلوچستان جل رہا ہے۔ وہ امیدیں، سہارے سب کے سب محض خواب بن چکے ہیں۔ 

آج بھی بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے مختلف شہروں سے نوجوان لاپتہ ہو رہے ہیں۔ طلبا کی پروفاٸلنگ عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اس ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو بلوچوں کو انصاف فراہم کر سکے۔ اب ایک ہی سہارا رہ چکا ہے کہ ظالموں سے نجات حاصل کرنے کا، وہ سہارا اتحاد جدوجہد آخری فتح کا نعرہ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی