عید اور مسنگ پرسنز


 

سلیمان ہاشم

عید کی نماز پڑھنے کے بعد مولانا نے دعا پڑھی۔ میں سنتا رہا۔ اس دعا میں مسنگ پرسنز کے بارے میں مولانا کو کوئی سروکار نہیں تھا۔ ایک چھوٹا مطالبہ بھی نہیں کیا۔ ان کے مطابق مرنے والوں کی مغفرت ضروری تھی، جو بھوک افلاس کے ہاتھوں مرے یا جو بغی علاج معالجہ کے مرے، اس شہر میں کرونا کی وبا سے مرے، ان کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں جگہ دے۔

مسجد سے باہر نکلا تو کچھ فاصلے پر دو بچے جن کے کپڑوں سے لگتا تھا کہ وہ پرانے ہیں اور پاوں میں چپل بھی نہیں تھے گرمی اب تو نہیں پڑ رہی تھی لیکن دوپہر میں گرمی ضرور ہو گی۔ اور پھر کسی امیر یا متوسط طبقہ کے چشم و چراغ ہوتے تو گھر والے ان کو یوں پیدل اور پرانے کپڑوں کے جانے نہ دیتے۔ پاؤں میں کانٹے بھی چبھ سکتے ہیں۔ 

"کاکا عیدی دیں"

بچے کہہ رہے تھے، اتنے معصوم صورت بچے شاید میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔ 

میں نے ان سے کہا، گرمی ہے اور تم پیدل گھوم رہے ہو؟ 

 اس سوال پر انہوں نے کہا کہ اب ہم گرمی اور سردی، بارش اور طوفانوں کے عادی ہو چکے ہیں۔  اب ہمارے سرپرسائبان بھی  نہیں ہے۔ 

، جب سے وہ لاپتہ ہو گئے

ہم غریب ہو چکے ہیں ۔ عید پہ کپڑے نہیں تھے، ماں کے پاس پیسے نہیں صرف آ نسو ہیں، چپل خرید نہ سکی۔ 

میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب سائبان نہیں ۔۔۔۔۔

باپ کیا کام کرتا ہے؟ میں نے پوچھا

کئی سال ہوئے غائب ہیں۔

کہاں چلے گئے ہیں؟ 

یہ پتہ نہیں، ماں کہتی ہے کہ ایک اندھیری رات کو کچھ وردی والے آئے اور ہمارے والد کو نیند سےاٹھا کر لے گئے اور پھر ان کا پتہ نہیں چلا کہ کہاں لے گئے۔ اب ہم غریب ہو چکے ہیں۔ کوئی مدد کرنے والا نہیں ہے۔

میں نے کہا، سنا ہے کچھ سماجی تنظیمبئ بچوں کو عید کے کپڑے دے چکب ہیں۔ 

 ہ بچے کہنے لگے کہ ہمیں پتہ نہیں شابد وہ یتیم بچوں کو کپڑے دے چکے ہوں گے۔

اور ہم یتیم نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ 

ہم یتیم نہیں لیکن یتیموں کی زندگی سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ان کی باتوں میں ایک درد تھا۔ 

نہ جانے ایسے کئی بچے اب تک اس آسرے پر بیٹھے ہیں کہ کسی روز ان کے لاپتہ بیٹے، کسی کے لاپتہ والد کسی کے لاپتہ شوہر کسی کے لاپتہ بھائی بازیاب ہو کر اپنوں سے ملیں گے۔

 لیکن مایوسی کےسوا انہیں کچھ نہ ملا۔ 

اسی عید کو کراچی کوئٹہ میں لا پتہ افراد کی بازیابی کے لیے عید کے روز لاپتہ افراد کے لواحقین اور دیگر طلبا تنظیموں کے رہنماؤں اور کارکنان ہاتھوں میں پلے کارڈز لے کر نعرے بازی کرتے رہے اور ان کی بازیابی کا مطالبہ کرتے رہے۔

 اسی طرح گوادر میں حق دو تحریک کے مولانا ہدایت الرحمان اور سر گرم مقرر حسین واڈیلہ نےایک موٹر سائیکل ریلی نکالی گوادر کے متصل شہر سر بندن میں مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے احتجاجی جلسے سے خطاب کیا۔ مولانا تقریر کرتے ہوئے آ ب دیدہ ہو گئے، لیکن کہیں بھی حکم رانوں کے کانوں حج جوں تک نہ رینگی ۔ اب بھی وہ معصوم بچےاپنے کھوئے ہوئے عزیزوں کے منتظر ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی