”داڑی والا“ ابی ”سوچتا یے“


نجیب سائر


اڑے یار باش امارا قصہ سنو۔ پچلا سال ام  نے عابد میر صیب کو بولا سر ایک کتاب آیا اے۔ اَر جاگہ فل مشہور اے واللہ، کیا تم نے پڑا اے؟ ام کو چاہیے، امارا مدد کرو۔ آن لائن مان لائن ہم کو سمجھ نئیں آتا اے بس ام کو کتاب چائیے۔ وہ بولا چُرت نئیں مارو کتاب آ جائے گا، ام نے دس دانہ منگایا اے وہ بی جہلم سے۔ کسی کو بتانا مت ورنہ سرپرائز لوڑ ہوئے گا۔ ماڑا یہ سرپرائز مصنف کے لیے رَکا اے۔ ام نے بولا بَش ٹِیک اے۔ 

ایک دن عابد جان کا کال آیا بولا کِدَر اے اَڑے، کتاب آ گیا اے۔ ام نے بولا بس دفتر سے چُٹی مارا تو تمارا پاس آوے گا۔ ام کو دیر لگا تو رات کو عابد جان کو میسج کیا آوے؟ جواب آیا آؤ نا خانہ نیک ابی امارا جاگنے کا ٹیم (ٹائم) اے۔ ام نے بی بیداری کیا، سریاب کا روڈ پکڑا اور ڈگری کالج میں اس کے گَر کا گیٹ کو ٹکٹکایا۔ وہ باہر آیا، بولا زوئے تم تو شیدائی نکلا، 12 بجے کون آتا اے کتاب لینے۔ ام نے بولا ’داڑی والا‘ ہے نا اس لیے ام آ گیا۔ خدا ام کو غلت نہ کرے، یہ 7 مئی 2021 کا رات تا۔

توڑا پیچے جاتا اے۔ ایک دن فیس بک پہ ایک کالم پڑا۔ لکاری کا نام حسنین جمال تا۔ ام نے سوچ مارا تو ایسا لگا کہ اس بندے کا نام کدری سنا اے۔ کیا یہ انڈیپنڈنٹ اردو والا بابا تو نئیں جو دو جوانوں کے سات آتا اے۔ ویڈیو بناتا ہے، پونی سجاتا اے اور ہات میں پتہ نئیں کیا کیا باندتا اے۔ ویڈیو میں تو ام کو واللہ سِک مِک لگا۔ دیکا تو نام مسلمانوں والا اے۔ اچا باتیں کرتا اے۔ اس کالم کا بارے ام نے اپنا عابد میر کو بتایا۔ وہ بولا یہ تو امارا گنڈ یار اے۔  فوراً ایک لنک بھیجا، حکم دیا یہ بی پڑو۔ یارباش کو پڑ کے ام کو بوت مزہ آیا۔ جب عابد کوٹا (کوئٹہ) آیا تو ام نے سب سے پہلے اس سے بابا کا فل بلوچی حال حوال لیا۔ 

اب کتاب لے کر گر آیا۔ اس کو الٹا سیدا کیا۔ لِشٹ اور ہر صفحہ دیکا۔ پہلا تحریر ایسا کینچا فل کَش کے پڑا۔ ام نے کہا اور پڑتا اے بس ختم کرتا اے۔ دماغ میں آیا اڑے صبح تو دفتر اے خانہ خراب۔ بس بالشت کے پاس کتاب رَک دیا۔ مصروف تا کُچ دن تک ہات مات نئیں لگایا۔ 

ایک دن ام کو اچانک کراچی جانا پڑا۔ ام سفر میں کتاب لے جاتا اے۔ جلدی سے داڑی والا کو اُٹایا، مطلب اس کا کتاب اٹایا یارا۔ بولا چلو یار سفر میں گپ شپ مارتا اے۔ مستونگ سے نکلا ام لوگ، توڑا سورج بی نکلا تو ام نے ٹیپ میپ بند کیا۔ پیملی (فیملی) کو بتایا سنو ایک مزیدار چیز۔ سب سے پہلا کالم سنایا۔ عنوان تا ’عورتوں کے موڈ ایویں نئیں خراب ہوتے‘۔ سب نے بولا کون سا کتاب اے دِکاؤ۔ ایسا شاندار چیز عورتوں کا بارے مے ام نے نئیں پڑا۔ بس اس کے باد امارا بَین نے کتاب چین لیا اور پڑنا شروع کیا۔ 

ایک دن ایک یار نے دفتر آ کے اسلام آباد مے ایک ٹریننگ کا خوش خبری سنایا۔ ہم تو سن کر کلٹی ہو گیا، پھورن پروگرام ٹیٹ کیا۔ ائر پوٹ پر جب جہاز نے دیر کیا تو ام نے کتاب نکالا اور پڑنا شروع کیا۔ ابی دو لپھظ (لفظ) نئیں پڑا تا کہ ایک دوست نے پوچا زوئے کیا پڑتا اے؟ ام نے کتاب دِکا دیا۔ وہ بولا کارل مارکس کا کتاب اے؟ ام نے بولا نہ بابا یہ حسنین جمال اے۔ 

 جہاز جب 8000 فٹ ہوا مے تا تو ام صفحہ نمبر 57 پہ یہ پڑ رہا تا ’موت روشنی ہے‘۔ تم لوگ اندازہ لگاؤ ماڑا کہ امارا تو وللہ بیخ نکل گیا تا۔ ٹریننگ سے واپسی پہ ٹیم میم ملتا تو کُچ پڑتا تا۔ تقریباً آدا تو اُدری پڑا۔ باقی کتاب کوئٹہ میں ختم کیا۔ ام سے کسی دوست نے یہ کتاب مانگا۔ ام نے جواب دیا دیتا ہے پڑ کے۔ وہ بولا کوچرائی نئیں کرو ابی دو۔ ام نے بی بولا ام نازوانی نیئں کرے گا زوئے۔

ایسا آسان لِکتا اے واللہ کہ جو ایک بار پڑے بار بار پڑے۔ حسنین جمال لکتا نئیں، باتیں کرتا اے، سامنے بِٹا کے ایسا سمجاتا اے۔ یہ تو اَر چیز پہ لکتا ہے جو کسی نے سوچا نہیں ہوے گا۔ گاڈی کون سا لیوے، شیمپو کیوں جلدی ختم ہوتا ہے، پیسہ کیسا خرچ کرے یا کماوے، پرسنل سپیس کس بلاکا نام اے، چیزوں کو کیسا اپنے لیے استعمال کرے، غربت میں عظمت کا باشن مت دیو، چِٹا انکار بہترین رستہ اے، پہلا رنگ کون بَرے گا، شکر کرے آپ لڑکی نہیں اے، کتابے زبردستی نہ پڑے، اور پتہ نئیں کیا کیا الم غلم۔ غرض جو موضوع اُٹاؤ بابا نے اس پہ پہلے سے لِک مارا ہووے گا اڑے۔ اس کے علاوہ بیٹی و بیوی کے نام خطیں، ابا کا خاکہ اور گلزار کا باتیں، کیا ٹیٹ مزیدار لِکا اے یار۔ باقی باتے ام نئیں بتائے گا زوئے تم لوگ خود کتاب میں پڑو، مزہ لیئو۔

حسنین بائی واللہ بوت ٹیٹ لکتا اے۔ سچا بات اے ایسا مزہ دیتا اے واللہ جیسے سریابی چرس والا سگریٹ مار کر بندہ خوش ہووے۔ کیسے خوش نہ ہووے جب یہ امارا باتیں لکتا اے۔ جو ام سوچتا اے یہ یار باش وہ پہلے سے لِک چکا اوتا اے۔ جو ام بولنا مانگتا اے وہ چَپ گیا اوتا اے۔ زوئے تم یقین نئیں کرے گا خدا قسم اس کا پہلا کتاب ایک مئینے میں شاٹ ہو گیا۔ دیکو اَبی اس کا نیا کتاب ”سوچتے ہیں“ مارکیٹ میں آیا اے۔ فل دُوم دام ہے۔ اب ام دو محبوب رَکے گا۔ ایک’داڑھی والا‘، دوسرا’سوچتے ہیں‘۔ تیسرا بی جلد ام سے ملنے آوے  گا، ام کو یقین اے۔ ام دعویٰ کرتا اے یہ کتابے ہر عمر کے لیے پائدہ مند اے۔ ار موسم کا کتاب اے یہ۔ ابی تم ام کو سریاب کا لوکل میں سرمہ بیچنے والا مت سمجھو، کتاب پڑو زوے، مزہ نئیں آوے پیسہ ام سے واپس لے جاؤ۔ پُل گارنٹی۔

جدید تر اس سے پرانی

Archive