کیچ کا سفر (حصہ دوم)

 

سفرنامہ بلوچی: اسحاق رحیم
ترجمہ: عبدالحلیم حیاتان 

ہماری وین تقریباً دن کے11 بجے تربت پہنچتی ہے۔ میں تعلیمی چوک پر اتر گیا کیوں کہ مجھے یہاں سے بلوچستان اکیڈمی جانا تھا۔ تعلیمی چوک پر پتھروں سے کتابوں کا خوب صورت بت تراشا گیا تھا۔ تربت پہنچنے کے بعد محسوس ہورہا تھا کہ گوادر کے مقابلے میں تربت میں درجہ حرارت زیادہ ہے۔ دوپہر ہونے والی تھی اور گرمی بھی بڑھ  رہی تھی۔ 

میں نے تربت میں اپنے عزیز دوست قدیر لقمان کو پہلے سے ہی اپنی آمد کی اطلاع دی تھی۔ قدیر لقمان نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ بلوچستان اکیڈمی آجائیں میں آپ سے وہاں ملوں گا۔ میں تعلیمی چوک سے مشرق کی طرف واقع گیٹ سے بلوچستان اکیڈمی میں داخل ہوتا ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں مکران کے کسی بڑے ادبی ادارے کی عمارت میں قدم رکھ رہا تھا۔ اس سے قبل میں کوئٹہ میں واقع بلوچی اکیڈمی کی عمارت دیکھ آیا ہوں اور یہاں پہنچنے کے بعد میرا یہی خیال تھا کہ یہاں پر بھی ایسی بڑی عمارت ہو گی۔ 

دیوار کے ساتھ میرے دائیں جانب ایک بہت بڑا ہال واقع تھا۔ ہال کے جنوب میں چار پانچ سادہ کمرے موجودہ تھے جن کے سامنے برآمدہ تعمیر کیا گیا تھا۔ میں یہاں سے دوسرے کمرے میں داخل ہوا جہاں ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ میں وہاں بیٹھنے ہی والا تھا کہ قدیر بھی وہاں پہنچ گیا۔ قدیر مجھے دوسرے کمرے میں لے گیا جو بلوچستان اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری کا دفتر تھا۔ دفتر میں بلوچی زبان کے معروف شاعر اور بلوچستان اکیڈمی کا عہدیدارعابد علیم بھی بیٹھا ہوا تھا۔ 

میں نے قدیر اورعابد کے ساتھ دعا سلام کی۔ وہاں کچھ دیر بیٹھے رہے اور آپس میں ادبی سرگرمیوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ تب تک پذیر جی ایم بھی وہاں پہنچ گیا جس سے ہماری یہ مجلس مزید دلچسپ بن گئی۔ چائے نوش فرمانے کے بعد قدیر لقمان نے ہمیں اکیڈمی کے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کیچ ادبی تنظیم لبزانکی کاروان اور دیگر ادبی تنظیموں کے یک جا ہونے کے بعد 1992 میں بلوچستان اکیڈمی کی بنیاد رکھی گئی۔ تاہم اِس حوالے سے میں نے پہلے غنی پرواز سے بھی حال حوال کیا تھا جس میں پرواز کا کہنا تھا کہ بلوچستان اکیڈمی کی بنیاد اُن کی ادبی تنظیم لبزانکی کاروان ہے جو ہم نے سال 1986 میں قائم کی تھی۔ اِس کے بعد 1991 میں ہم نے لبزانکی کاروان کے ساتھ ساتھ دوسری ادبی تنظیموں کو یک جا کیا اور لبزانکی چاگرد کے نام پر ایک ادارہ قائم کیا۔ تمام ادبی تنظیموں کے یک جا ہونے کے بعد 1992 میں بلوچستان اکیڈمی قائم کی گئی۔

بلوچستان اکیڈمی اِس وقت مکران کا سب سے بڑا ادبی ادارہ ہے جو مکران کے مرکز اور بلوچوں کے سب سے بڑے شہر تربت شہر میں واقع ہے لیکن وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ ادارہ بڑے پیمانے پر ادبی سرگرمیوں کو فروغ نہیں دے پارہا ہے۔ لیکن ادارہ سے وابستہ دوستوں کو آفرین ہے کہ وہ وسائل کی کمی کے باوجود ادارہ کی فعالیت کے ممکن بنا رہے ہیں۔ سالانہ اچھی کتابیں بھی شائع کراتے ہیں۔ بلوچستان اکیڈمی کو حکومت بلوچستان کی طرف سے سالانہ پانچ لاکھ روپے کی گرانٹ بھی ملتی ہے لیکن یہ گرانٹ صرف اکیڈمی کے ملازمین اور دیگر لوازمات کی مد میں خرچ ہو جاتی ہے۔ 

اب کس سے گلہ کیا جائے۔ اس وقت کیچ سے پانچ ایم پی اے ہیں۔ ایک ایم این اے بھی ہے جو وفاقی وزیر ہیں۔ لیکن زبان اور ادب کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ادارہ کو تعاون فراہم کرنے کے لئے وہ جوش ولولہ اور جذبہ نظر نہیں آتا۔

قدیر لقمان جو بلوچستان اکیڈمی کے جنرل سیکریٹری ہیں اُنھوں نے عابد علیم کے ہم راہ مجھے اکیڈمی کا دورہ کروایا۔ کمروں کے سامنے تعمیر شدہ ہال دکھایا جس کی تعمیر میں نقائص موجود تھے۔ بلوچستان اکیڈمی کی تمام کمی اپنی جگہ لیکن اِس میں ایک بڑی لائبریری موجود ہونی چاہیے تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ اکیڈمی کی لائبریری بس چارعدد لکڑی سے بنائی گئی الماریوں پر مشتمل تھی جو ایک کونے میں پڑی ہیں۔ یہاں  بیٹھ کر پڑھنے کے لیے ٹیبل اور کرسیاں بھی دستیاب نہیں تھیں۔

اکیڈمی کے عہدیدار اور اراکین اپنی بساط کے مطابق کوشش کررہے ہیں لیکن ہمارے سیاسی رہنما اور حکومت زبان اور ادب سے بیگانہ ہیں۔ ہم نے عابد علیم سے اجازت طلب کی۔ اِس کے بعد میں، قدیر اور پذیر جی ایم، صلالہ بازار میں واقع مولوی عبدالحق کے دینی مدرسہ دار الحدیث چلے گئے۔ 

وہاں مولوی عبدالحق کے بیٹے اور ہمارے بہترین دوست محمد حیات اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ موجود تھے۔ ہماری اچانک آمد پر وہ بہت خوش ہوا۔ ہم مولوی عبدالحق کی لائیبریری میں گئے۔ ہم سے پہلے واجہ حیات کے پاس مند سے ملا خلیل اور کامریڈ وحید اور دو دیگر دوست بھی وہاں موجود تھے۔ ملا خلیل اور کامریڈ وحید دونوں ادب دوست شخصیت ہیں ہم سے ملاقات کے بعد وہ بھی بے حد خوش ہوئے۔ 

کامریڈ وحید خود معذور ہیں۔ لیکن اپنی مادری زبان سے گہرا شغف رکھتے ہیں۔ کتابیں بھی پڑھتے ہیں۔ جہاں تک بَس چلے ادبی پروگرام میں اپنی شرکت بھی یقینی بناتے ہیں۔ 

ہم نے مولوی عبدالحق کی لائبریری میں واجہ محمد حیات کے ساتھ نشست سجائی۔ واجہ حیات لائبریری کے کتب کو ترتیب دینے کا کام کررہا تھا اور ریکارڈ کو درست کرنے میں مصروف تھا۔ مولوی عبدالحق لائبریری میں واجہ حیات کے مطابق تقریبا دس ہزار کے قریب کتابیں پڑی ہوئی ہیں۔ واجہ مولوی عبدالحق خود ایک دینی عالم تھے ان کا بنیادی تعلق زمران کے علاقے درپکان سے تھا لیکن اس کا علمی اور سیاسی محور کیچ رہا تھا۔ مولوی عبدالحق ایک اعلیٰ پائیہ کے دینی عالم اور بلوچستان کے معروف سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خالص بلوچ بھی تھے۔ ان میں سیاسی اور مذہبی رنگ سے زیادہ بلوچی کوڈ رچے بسے تے۔ 

مولوی عبدالحق کی شخصیت سے لے کر گفتگو تک سب میں بلوچی رنگ پہناں تھا۔ وہ دیگر ملا اور علما کی طرح باریش ضرور تھے لیکن اِس میں بلوچیت کا  حقیقی رنگ جھلکتا ہوا نظر آتا تھا۔ وہ ہمیشہ بلوچی سواس پہنا کرتے تھے اور سر پر ایرانی ریشمی چادر باندھے تھے۔ بات کرنے کا انداز مکمل بلوچی رنگ میں ڈھلا ہوا نظر آتا تھا۔ بہت ہی نفیس اور بلیغ زبان میں گفت گو کرتے ہوئے نظر آتے تھے۔ اُس کے مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگ اُن کے اندازِ گفتگو سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ 

مولوی عبدالحق 1985 میں کیچ اور پنجگور سے قومی اور کیچ کے صوبائی اسمبلی کی نشست سے بطور آزاد امیدوار حصہ لیتے ہیں اور وہ دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ بعد میں صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دیتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں جانے کے بعد جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرتے ہیں لیکن اسلام آباد کی ہوائیں اور جماعت اسلامی کی سنگت ان کی شخصیت پر اثر نہیں کرتے۔ جب تک وہ زندہ رہے بلوچی اور بلوچیت ان کا خاصا تھے۔ 

وہ اعلیٰ پائے کے علمی اور مطالعہ کی حامل شخصیت تھے۔ آج مجھے اُن کے لائبریری میں کتابوں کی تعداد دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ وہ کتابوں سے دوستی کرنے والے انسان تھے۔ مولوی عبدالحق کی حاضر جوابی کا بھی کوئی ثانی نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ کراچی سے تربت کا ہوائی سفر کررہے تھے تو ان کے ہم راہ اُن کا ایک سادہ لوح رشتہ دار بھی اُن کے ساتھ سفر کررہا ہوتا ہے۔ جہاز میں اُن کہ برابر کی نشست پر ایک پنجابی بھی بیٹھا ہواتھا۔ دورانِ سفر مولوی عبدالحق منہ میں نسوار ڈالتے ہیں۔ پنجابی کو اُس کا یہ عمل ناخوش گوار گزرتا ہے اور اپنے ساتھی سے کہتا ہے کہ بوڑھے نے تھوڑا بھی صبر نہیں کیا اور شیطان کا فضلہ اپنے منہ میں ڈالا ہے۔ وہ مولوی عبدالحق کو ایک عام بلوچ سمجھ رہا تھا۔ مولوی عبدالحق جہاز پر اُس کی باتوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کچھ نہیں کہتے۔ جب جہاز ایئرپورٹ پر لینڈ کرتا ہے اور مسافر جہاز سے باہر نکلتے ہیں تو مولوی عبدالحق دیکھتے ہیں کہ وہی شخص سگریٹ سلگا رہا ہے۔ مولوی عبدالحق اپنے ساتھی کو لے کر اس کے قریب جاتے ہیں اور انگریزی میں کہنے لگتے ہیں کہ اِس شخص کو دیکھیں اِس میں اتنا بھی صبر نہیں تھا کہ فورا جہاز سے اترتے ہی شیطان  کا عضو تناسل اپنے منہ لیے کھڑا ہے۔ 
 
اس حاضر جوابی پر وہ شخص نادم ہوکر ہکا بکا رہ جاتا ہے۔ 
 
(جاری ہے)
جدید تر اس سے پرانی