{ads}

عبدالحلیم حیاتان 


معروف تاریخ دان و لکھاری گل حسن کلمتی اور بلوچی رسالا ماہتاک بلوچی کے مدیر عبدالواحد بندیگ کی علمی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے آر سی ڈی کونسل گوادر کے زیراہتمام ان کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ 

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلوچی زبان کے نوجوان قلم کار اسحاق رحیم اور بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی کے سابقہ صدر انجینئر داؤد کلمتی نے کہا کہ گل حسن کلمتی بلا شبہ ایک نابغہ روزگار لکھاری تھے جنھوں نے اپنے تحقیقی اسلوب اور تحاریر سے نام کمایا۔ گو کہ ان کا فنِ تحقیق سندھی زبان پر استوار تھا لیکن انھوں نے کراچی میں بلوچوں کے تاریخی کردار کو بھی اجاگر کیا۔ گل حسن کلمتی کئی کتابوں کے مصنف تھے اور انھوں نے جو کام کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

گل حسن کلمتی نہ صرف ایک محقق، تاریخ دان اور قلم کار تھے بلکہ وہ کراچی میں مظلوم بلوچ اور سندھیوں کے بنیادی حقوق کے لیے متحرک کردار ادا کرتے رہے، ملیر کراچی میں بلوچوں کی زمینوں پر مافیا کی قبضہ گیری کے خلاف جو تحریک شروع کی گئی، اس میں گل حسن کلمتی نے اپنے رفقائے کار کے ساتھ صفِ اول کا کردار ادا کیا تھا۔ گل حسن کلمتی کی دانش ورانہ صفت کسی بھی تعصب اور امتیاز سے بالاتر تھی۔ اسی خاصیت نے گل حسن کلمتی کو ایک اعلیٰ پائے کے دانش ور، محقق اور لکھاری ہونے کا شرف بخشتا۔

نیشنل پارٹی کے رہنما اشرف حسین، بلوچی زبان کے ادیب عیسیٰ گل، آر سی ڈی کونسل گوادر کے صدر ناصر رحیم سہرابی اور بشیر احمد نے عبدالواحد بندیگ اور گل حسن کلمتی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بندیگ بلوچی زبان اور ادب کے شیدائی تھے، ماہتاک بلوچی کوئٹہ کی اشاعت کو آگے بڑھانے اور اسے مسلسل قائم رکھنے کے لیے بندیگ نے ان تھک کوشش کی جس کا سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

بندیگ نے ماہتاک بلوچی کو نہ صرف بلوچستان کے طول و عرض میں پھیلایا بلکہ خلیج میں مقیم بلوچوں میں زبان اور ادب کی طرف مائل کرنے اور ترغیب دینے کے لیے مایتاک بلوچی کو وہاں تک پہنچایا۔ بندیگ ہوں یا گل حسن کلمتی دونوں نے بلوچ تاریخ اور ادب کو پروان چڑھانے میں اپنا لازوال کردار ادا کیا۔ ماہتاک بلوچی کی بدولت بلوچی ادب اور نثر تخلیق کرنے والوں کو حوصلہ ملا اور بلوچستان بھر میں موجود شعرا اور ادبا کی حوصلہ افزائی ہوئی اور انھیں ماہتاک بلوچی کے توسط سے ایک مؤثر فلیٹ فارم میسر آیا۔
 
بندیگ اور گل حسن کلمتی کا ادب کے فروغ اور تاریخ کے تحفظ کے لیے کردار کبھی بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جس کے لیے دونوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 

تقریب میں نظامت کے فرائض بلوچی میوزک پروموٹر سوسائٹی کے بجار بلوچ نے ادا کیے۔ 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی