{ads}

حال حوال رپورٹ


پاکستان کو ٹوبیکو ہارم ریڈکشن (کم نقصان دہ تمباکو) سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تمباکونوشوں کی بھی مدد کی جاسکے جو تمباکونوشی ترک کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ مشترکہ مطالبہ آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) اور اس کے ممبر ادارے آذات فائونڈیشن کی جانب سے کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ٹوبیکو کنٹرول کے سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کے باوجود تمباکونوشی آج بھی صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ تمباکو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمباکونوشی کے خاتمے کے لیے مختلف نوعیت کے اقدامات اٹھائے جائیں اور ان سے سائنسی شواہد کی روشنی میں استفادہ کیا جائے۔ 

اس وقت پاکستان میں تین کروڑ دس لاکھ افراد مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک کروڑ ستر لاکھ سگریٹ نوش ہیں۔ تمباکونوشی کے اس پھیلاؤ پر قابو پانا ایک بڑا چلینج ہے۔ ملک میں تمباکونوشی پر قابو پانے کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ایک سال میں تین فیصد سے بھی کم تمباکونوش، سگریٹ نوشی ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ 

مذکورہ اداروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اے آر آئی اور اس کے ممبر ادارے تمباکونوشی کے خاتمے کے لیے حکومتی پالیسیوں اور کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ تمباکونوشی کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے اور یہ وقت کی اشد ضرورت بھی ہے کہ ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کے حوالے سے موجودہ نئے سائنسی شواہد کا جائزہ لیا جائے اور ان کے نتائج سے تمباکونوشوں کو تمباکونوشی ترک کرنے میں مدد فراہم کی جائے۔

سویڈن کی حیران کن اور خوش آئند مثال ہمارے سامنے ہے جہاں سویڈن نے ای سگریٹ، نکوٹین پاؤچز اور سنوس جیسی کم نقصان دہ متبادل مصنوعات کے ذریعے تمباکونوشوں کی مدد کرنے کی حکمت عملی پر عمل درآمد کے نتیجے میں ملک میں تمباکونوشی کی شرح 15 فیصد سے 5.6 فیصد تک کم کر دی ہے۔ اس کامیابی کے بعد سویڈین بہت جلد تمباکو سے پاک ملک بن جائے گا۔ جس ملک میں تمباکونوشی کی شرح 5 فیصد سے کم ہو جاتی ہے تو اسے تمباکو سے پاک ملک قرار دے دیا جاتا ہے۔ 

 یورپی یونین نے تمباکو نوشی سے پاک ہونے کا ہدف سن 2040 مقرر کر رکھا ہے مگر سویڈن رواں برس یعنی مقررہ وقت سے 17 برس قبل ہی یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ 

حکومت کو چاہیے کہ تمباکونوشی کے خاتمے کی مؤثر سہولیات کی سستے داموں فراہمی اور ٹوبیکو ہارم ریڈکشن کو انسداد تمباکونوشی کی پالیسی کاحصہ بنائے۔ اس کے علاوہ محفوظ متبادل مصنوعات کےلیے سنجیدہ قواعد و ضوابط بنانے کے ساتھ ساتھ سگریٹ نوشوں اور ماہرینِ صحت کو تمباکونوشی کی روک تھام کی کوششوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ 2030 تک تمباکو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی