{ads}

شکور بلوچ

پاکستان میں "جنرل سلیکشن" کا اعلان ہوتے ہی بلوچستان میں بھی اس کے رنگ دکھنے لگے۔ یہاں کے پُرتعیش نجی ہوٹلوں میں میلے نما تقاریب ہوئیں۔ ان تقاریب میں کچھ  نے شرکت کرکے گلے میں "پٹے" ڈلوا کر سر تسلیم خم کیا اور کچھ  ماضی میں سرسبز پہاڑیوں کے بیچ ہونے معاہدات کی یادیں تازہ کی  اور ان لمحات کو "Recreate" کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔جنہوں نے ان میں سے کچھ نہیں کیا وہ رگڑے میں ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین ان گنے چُنے لوگوں میں شامل تھے جو بلوچستان میں سجنے والے میلہ مویشیوں کا حصہ نہیں بنے اور اس کی بھاری قیمت وہ اس وقت چکا رہے ہیں۔

پارلیمانی سیاست کو ویسے تو بلوچستان میں کچھ زیادہ پسند نہیں کیا جاتا لیکن ہمارے اکابرین ماضی میں پارلیمانی سیاست کا حصہ رہے اور انہوں نے جس طرح اس بے ایمان سسٹم کا حصہ بنتے ہوئے خود کو گندے چھینٹوں سے بچائے رکھا اس کی نظیر کہیں اور نہیں ملتی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی پر بھی یہاں کے "انٹیلیجنشیا"، غیر پارلیمانی جماعتوں و سیاسی کارکنوں کی جانب سے  پارلیمانی سیاست کا حصہ رہنے پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ان دوستوں کے بقول پارلیمنٹ کسی درد کی دوا نہیں اور بی این پی سمیت کسی بھی بلوچ جماعت کو پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے۔ وہ کسی حد تک درست بھی ہیں لیکن ان دوستوں کے سامنے دو ہزار آٹھ میں انتخابات کے بائیکاٹ کا تلخ تجربہ بھی موجود ہے کہ جس کے نتیجے میں بلوچستان کے بدنام زمانہ ڈرگ ڈیلرز، چور، لفنگے، ڈیتھ سکواڈز کے کارندے اسمبلیوں میں پہنچے اور اب ان میں سے کوئی "خادم سریاب" تو کوئی "شیرِ بلوچستان" بنا بیٹھا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارے اکابرین میدان خالی نہ چھوڑتے۔ ہاں ہو سکتا ہے ریاست پھر بھی کسی نہ کسی طرح سے ان کے لیے پارلیمان کے راستے ہموار کر لیتی لیکن یہاں کی قوم دوست جماعتوں کو اپنے حصے کی جنگ ضرور لڑنی چاہیے۔  لڑ کر ہارنے والی جنگ نہ لڑ کر ہارنے والی جنگ سے سو گنا بہتر ہے۔

ہم اپنے "انٹیلیجنشیا" اور غیرپارلیمانی سیاست کرنے والے دوستوں کی بات چند لمحوں کے لیے مان بھی لیں کہ ریاست کو ہمارے پارلیمان میں ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یا پارلیمانی سیاست کرنے والی جماعتیں ریاستی سہولت کار ہیں تو پھر ہم یہ سمجھیں کہ  اختر مینگل کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کروا کر انہیں پارلیمان سے باہر رکھنے کی سازشیں بھوٹان کا محکمہ زراعت کر رہا ہے کیونکہ پاکستان کے بلوچ مخالفت اداروں کے تو اختر مینگل سہولت کار ہیں۔ کوئی بھلا اپنے سہولت کار کا راستہ کیوں کر روکے گا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیے جو مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ جماعت اس سے کمزور ہو گی یا عوامی مقبولیت کھو بیٹھے گی بلکہ بی این پی جس کا شروع دن سے "موڈ آف پالیٹکس" جارحانہ رہا ہے، ماضی میں اس کے لیے بحیثیت تنظیم اقتدار سے باہر رہنا زیادہ سود مند ثابت ہوا ہے، بحیثیتِ اپوزیشن بی این پی کا انداز زیادہ جارحانہ رہا ہے اور انہوں نے سرکار کے لیے کڑی مشکلات کھڑی کیں۔

اس کی ایک تازہ جھلک بی این پی صدر اختر مینگل کی تازہ پریس کانفرنس میں ملی جہاں نہ صرف انہوں نے ماضی میں کیے گئے ریاستی اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور خفیہ اداروں کے نام لے کر انہیں للکارا۔ یہی اختر مینگل کا انداز ہے، ان  کے اس انداز پر ہم وارے جائیں، قربان جائیں۔ خدا کرے کہ وہ اپنے اسی مخصوص انداز سے اپنا سیاسی سفر جاری رکھیں۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی