{ads}

رپورٹ: شاہ میرمسعود

بلوچستان کے شہر تربت میں ڈینگی وائرس شدت اختیار کرچکا ہے۔ ٹیچنگ اسپتال تربت میں روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزارسے زائد مریضوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں ڈینگی کے 15 تا 20 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اپریل سے اب تک دو اموات ہوئی ہیں، جن میں ایک مریض کا تعلق پنجگور سے تھا جو گزشتہ ماہ انتقال کر گیا۔ جب کہ ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والا کم عمر مریض بہترین علاج کی غرض سے کراچی جاتے وقت راستے میں انتقال کرگیا۔ واضح رہے کہ یہ صرف رپورٹ شدہ مریض ہیں، کچھ مریض کراچی علاج کے لیے جاتے ہیں اور کچھ کیسزرپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔ تحصیل تربت کے مختلف علاقوں میں رہنے والے  لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ڈینگی وائرس سے بہت متاثر ہیں۔

  تربت کے رہائشی ڈینگی وائرس کے مرض میں مبتلا ایک مریض نے بتایا کہ میں ڈینگی وائرس میں مبتلا ہوں اور مجھے ساتھ، آٹھ دن ہو رہے ہیں، میں مسلسل ہسپتال آ رہا ہوں، یہاں میرا علاج جاری ہے، روزانہ کی بنیاد پر مجھے دو تین ڈرپ لگائی جاتی ہیں۔ اگر ہسپتال کی بات کی جائے یہاں سہولیات نہیں ہیں، واش روم میں گندگی ہے، یہ گندے پانی سے بھرا ہوا ہے۔ ایسی صورت حال میں لوگ بیمار پڑجاتے ہیں۔ صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ یہاں اسپرے کیا جائے۔ 

 گزشتہ روز کراچی کے نجی ہسپتال میں ڈینگی کے باعث انتقال کرنے والے تربت کے رہائشی اختر علی بلوچ کی وفات پر خاندان سے معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سلسلے میں ان کے قریبی عزیز گلاب بلوچ نے بتایا کہ اختر علی بلوچ ڈینگی وائرس کے مرض میں مبتلا تھے۔ اختر بلوچ گھر پر ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیاں لے رہے تھے۔ اختر علی سی اینڈ ڈبلیو کیچ کے سابق ایکسیئن رہ چکے ہیں۔ وہ ہمارے خاندان کی سرکردہ شخصیت تھے۔

 واضح رہے اختر علی بلوچ کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں ڈینگی وائرس سے زندگی و موت کی جنگ لڑتے ہوئے دم توڑ گئے۔

کیچ کے مختلف مسائل پر احتجاجی کیمپ کے سربراہ و جے یو آئی کیچ کے صوبائی امیر خالد ولید سیفی بتایا کہ ڈینگی وائرس ایک خاطرناک وبا ہے جو پورے تربت میں پھیل چکی ہے اور تربت کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ وبا ایک قدرتی آفت ہے لیکن اس وقت محکمہ صحت کی جانب سے کسی قسم کی سہولت میسر نہیں ہے۔ ہسپتال کا دورہ کیا ہے، وہاں سہولیات نہیں ہیں۔ سہولیات نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ وسائل کی کمی ہے، ہسپتال انتظامیہ کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے ہر علاقے میں اسپرے کیا جائے۔ جو اسپرے کیا جاتا ہے ان میں کسی قسم کا کیمیکل نہیں ہے صرف ڈیزل ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے یہ سپرے مزید بیماری پھیلاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈینگی وبا کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ڈینگی وارڈ کے انچارج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ظفر بلوچ نے بتایا کہ گزشتہ ایک دو ماہ میں ہمارے پاس 21 مریض زیر علاج تھے، انھیں ریکور کیا گیا ہے جب کہ وہ سیریس مریض تھے لیکن وہ ریکور ہو کر اپنے گھر چلے گئے ہیں۔ ایسے صرف دو مریض انتقال کرگئے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت ہمارے پاس دو قسم کے مریض آتے ہیں جن میں ڈینگی کی علامات نظر آتی ہیں جنھیں کھانسی، بخار، الٹی اور سر درد کی شکایت ہوتی ہے، انھیں پیناڈول اور دیگر میڈیسن دے کر ریکور کر لیا جاتا ہے۔ جو سیریس مریض ہوتے ہیں انھیں ہم داخل کرلیتے ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر انھیں چیک کیا جاتا ہے اور مرض کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔ اُن کے ٹھیک ہوتے ہی ڈسچارج کیا جاتا ہے۔

ٹیچنگ ہسپتال تربت کے ایم ایس ڈاکٹر خالد بلوچ نےمزید بتایا کہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ڈینگی کے حوالے سے کم از کم پانچ ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں سے اکثر 15 تا 20 ٹیسٹ پازیٹیو آتے ہیں، ہر مریض کا چیک اپ کیا جاتا ہے جس مریض کو داخل کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے ہم انھیں داخل کرلیتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر انھیں ادویات دی جاتی ہیں۔ کچھ مریض او پی ڈی میں آ کر چلے جاتے ہیں، جو گھر میں  ڈرپ لگانا چاہتے ہیں تو ہم انھیں ڈرپ یا کسی قسم کی ادویات فراہم نہیں کرسکتے۔

جب کہ ڈینگی وارڈ کے واش روم میں گندگی کے حوالے سے پوچھنے پر ایم ایس نے بتایا کہ واش روم کی صفائی کے لیے سوئیپرز موجود ہیں، ہم ان سے صفائی کروا لیتے ہیں، پائپ لائن میں کچھ مسائل ہیں، نئے ٹینڈر میں انھیں ٹھیک کر لیا جائے گا۔ 

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی